سیلف ہیلپکالم

دل ہے کہ سُوئے وجدان بھاگے…… نعیم سلہری

پنجابی زبان کے صوفی ادب کا جائزہ لیا جائے تو اس میں جو بات منفرد اور آسان فہم نظر آتی ہے، وہ اس کا تمثیلی آہنگ ہے۔ صوفی شعراء کا ٹارگٹ چونکہ عام رعایا تھی، اس لئے انہوں نے اپنا نکتہئ نظر بیان کرنے کے لئے روزمرہ زندگی سے جن علامتوں اور الفاظ کا انتخاب کیا وہ ان کے کلام اور مافی الضمیر بیان کا تاثر دو آتشہ کرنے کا سبب بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں آج بھی وہی بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر تاثیر پائی جاتی ہے اور صوفیانہ کلام بہت زیادہ سنا اور پسند کیا جاتا ہے۔
رانجھا، ہیر، کھیڑے، سیال، کیدو، مچھی، کُنڈی، تڑفاں، ڈور، مائے، درد، وچھوڑا، بالن، جنگل، بیلے، ہُو، سمندر، میاں، گنا، ویلنا، ہجر، ہنجو، کھوہ، نیناں، مسجد، مندر،کعبہ، الف، ب، مجھاں (بھینسیں)، گاواں (گائے)، سوہرے(سسرال)، پیکے(میکے)، دنیا، ڈیگر ویلا (وقتِ عصر)، شام، رات، جوگی، فقیر، ونجلی(بانسری)، ونگاں، سکھیاں، یار، بیلی اور دیگر ایسے ہی سیکڑوں الفاظ ہیں، جو محض بطور الفاظ ہی استعمال نہیں ہوئے بلکہ ان سے تلمیح، استعارہ اور تشبیہ کا کام بھی لیا گیا ہے۔ پنجابی صوفی شعراء کی اکثریت عربی اور فارسی زبان میں بھی درجہئ فضیلت پر متمکن تھی لیکن انہوں نے اپنا مافی الضمیر بیان دوسروں تک پہنچانے، رعایا کو دعوتِ حق دینے اور امن، پیار اور محبت کا درس عام کرنے کے لئے ان سادہ الفاظ کا استعمال اسی لئے کیا کہ ان کی آواز نہ صرف سنی جائے بلکہ سننے والے کی روح میں گھر بھی کر جائے۔
یقین نہ آئے تو اقبال باہو کی آواز میں ”الف اللہ چنبھے دی بُوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہُو، دل دریا سمندروں ڈونگھے، کون دلاں دیا جانے ہُو“؛ حامد علی بیلا کا گایا ہوا کلام ”مائے نی میں کِہنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی“ اور ”نی مائے روک جے سکنی ایں روک“؛ ابرار الحق کی آواز میں ”وے بُلھیا اَساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور”اور شوکت علی کی سُر بکھیرتی مدھر آواز میں ”ڈیگر تے دن ہویا محمد، اوڑھک نوں ڈُب جانا“ وغیرہ سُنیں، آپ جان جائیں گے کلام وآواز کے سحرانگیز سنگھم سے بنی لَے جب کانوں میں پڑتی ہے تو قدم رک جاتے ہیں، انگ انگ میں دھمال ڈلتی ہے اور دل سُوئے وجدان بھاگ نکلتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button