ساحر لدھیانویشاعری

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

ساحر لدھیانوی
دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ
یاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤ
ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کی
آج بس میں نہیں جذبات قریب آ جاؤ
سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلے
جان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ
اس قدر ہم سے جھجکنے کی ضرورت کیا ہے
زندگی بھر کا ہے اب ساتھ قریب آ جاؤ

Leave a Reply

Back to top button