Uncategorized

دوپہر کی نیند (قیلولہ) کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیئے؟

ویب ڈیسک: دوپہر کے وقت قیلولہ کرنے یا مختصر وقت کے لئے سونے سے نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت ادا ہوتی ہے بلکہ یہ عمل صحت کے لئے بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے.
جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ عادت امراض قلب، خون کی شریانوں کے امراض، بلڈ پریشر، ذیابیطس، جسمانی وزن میں کمی اور دماغی تنزلی کے عارضے سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس حوالے سے اہم بات یہ ہے قیلولہ کا عمل کتنے وقت پر مشتمل ہونا چاہیئے.
امریکہ کی نیشنل سلیپ فاﺅنڈیشن نے 20 منٹ کا قیلولہ ذہن تازہ دم کرنے کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔
ویسے تو اس دورانیے کا اثر ہر فرد میں مختلف ہوسکتا ہے لیکن بیشتر طبی ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ دوپہر کی نیند کا وقت جتنا کم ہو گا، اتنا ہی ذہن زیادہ تازہ دم اور الرٹ ہو گا۔
مگر کچھ طویل قیلولے کے بھی فوائد ہیں اور رواں سال کی ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا تھا کہ 25 سے 45 منٹ کی نیند سے جسمانی طور پر سرگرم افراد کا تناﺅ اور تھکاوٹ میں نمایاں کمی آتی ہے جبکہ توجہ اور جسمانی کارکردگی بھی بہتر ہوجاتی ہے۔
مگر اس سے کم وقت کی نیند بھی لوگوں کو ذہنی طور پر زیادہ بیدار اور ریفریش کرنے کے لیے کافی ہے جبکہ بہت زیادہ دیر سونا ذہن کو دھندلا سکتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ 15 سے 20 منٹ کا وقت بالغ افراد کے لیے بہترین ہے تو بچوں میں یہ دورانیہ ایک گھنٹہ بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button