سپورٹس

دو گیندوں نے انگلینڈ میں ساکھ بدل کر رکھ دی، عامر

قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عامر نے کہا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں ویرات کوہلی کو کرائی گئی لگاتار دو گیندوں نے انگلینڈ نے ان کی ساکھ بدل کر رکھ دی اور وہ جب تک فٹ ہیں تینوں فارمیٹ کھیلتے رہیں گے۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے فاسٹ باؤلر محمد عامر نے کہا کہ بحیثیت باؤلر اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں، پانچ سال بعد کم بیک کیا اور تینوں فارمیٹس اور لیگ کھیل رہا ہوں کیونکہ پانچ سال میں کوئی کرکٹ نہیں کھیلی جبکہ فرسٹ کلاس میں بھی بمشکل پانچ میچ کھیلے تھے تو اس لحاظ سے تو میں اپنی کارکردگی سے بہت حد تک مطمئن ہوں۔

یاد رہے کہ 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی اور انہوں نے گزشتہ سال عالمی کرکٹ میں واپسی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پانچ سال کرکٹ کے میدانوں سے دور رہنے کے باوجود ٹیم میں واپسی پر اپنی فٹنس کو برقرار رکھا اور سال میں پاکستان کی جانب سب سے زیادہ اوورز کرانے والے باؤلرز میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اس دوران تھوڑا بدقسمت بھی رہا کہ میری گیند پر کیچز بھی ڈراپ ہوئے لیکن کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری کارکردگی متوازن رہی۔

عامر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجموعی طور پر کرکٹ میں سوئنگ کا مارجن کم ہو گیا ہے، سوئنگ وکٹیں بھی نہیں مل رہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ باؤلرز کیلئے سازگار وکٹ ہو ورنہ عام طور پر بیٹنگ ٹریکس ہی بن رہے ہیں۔

انہوں نے سوئنگ ختم ہونے کیے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں باؤلنگ کیلئے سازگار وکٹیں تھیں اور ڈیوک کا بال استعمال ہو رہا تھا تو وہ وہاں گیند سوئنگ ہو رہی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا ابھی کسی بھی فارمیٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور میں تینوں فارمیٹ کھیلوں گا۔ فی الحال تو میں نے بمشکل 29 یا 31 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے اور جب تک میں خود کو فٹ محسوس کروں گا، اس وقت تک تینوں فارمیٹ کھیلتا رہوں گا۔

چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں ویرات کوہلی کو کیچ ڈراپ ہونے کے باوجود اگلی ہی گیند پر دوبارہ آؤٹ کرنے کے حوالے سے سوال پر عامر نے کہا کہ ان دو گیندوں نے برطانیہ میں میری ساکھ ہی بدل کر رکھ دی، کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی گیند پر کوہلی کا دوبارہ آؤٹ ہونا بڑی کامیابی تھی کیونکہ ہم وہیں پر 60 سے 70 فیصد میچ جیت چکے تھے کیونکہ بھارتی ٹیم کوہلی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

یاد رہے کہ 2010 کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل بھی دورہ انگلینڈ پر سامنے آیا جس نے ناصرف عامر جبکہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا تھا لیکن پھر سات سال بعد اسی سرزمین پر قومی ٹیم نے چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کا کارنامہ انجام دیا۔

عامر نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کیچ چھوٹا تھا تو مجھے لگا کہ آدھا میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ مجھے فوراً ہی فخر زمان کا نوبال پر آؤٹ ہونا یاد آیا جنہوں نے اس کے بعد سنچری بنا دی تھی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کوہلی اگلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

فاسٹ باؤلر نے کہا کہ انڈیا اور آسٹریلیا کے خلاف کھیل کر ہمیشہ ہی کچھ خاص کرنے کا دل کرتا ہے کیونکہ یہ دونوں دنیا کی انتہائی مشکل ٹیمیں ہیں جبکہ بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے تو ہماری باڈی لینگویج ہی مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر ہم نے یہاں پرفارم کیا تو دنیا میں ایک الگ ہی امیج جائے گا اور بحیثیت کھلاڑی اہمیت بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button