سپیشل

دُنیا کی خطرناک ترین شاہراہیں…… عثمان یوسف قصوری

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سفر کے دوران مشاہدہ کرتے ہیں کہ سڑکوں اور شاہرات پر چلنے والی ٹرانسپورٹ اکثر و بیشترحادثات کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ ان حادثات میں کئی افراد جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب عام سڑکوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ حادثات کا شکار بنتی ہے تو دُنیا کے خطرناک اور دُشوارگزار راستوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ پر حادثات کا عالم کیا ہو گا؟ یقینا ان خطرناک سڑکوں پر خونی حادثات کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے، شاید اس لیے دُنیا بھر میں ان سڑکوں اور شاہرات کو قاتل روڈ، ”کلرہائی وے“، ”دی ہائی وے آف ڈیتھ“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان تمام ہول ناک چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہم اپنے قارئین کو دُنیا کی خطرناک اور دُشوار ترین گزرگاہوں کے بارے میں دلچسپ حقائق بتانے جا رہے ہیں جن میں سرفہرست بولیویا کا ”روڈآف ڈیتھ“ ہے۔
روڈ آف ڈیتھ (بولیویا)
بولیویا میں موجود شمالی یونگس روڈ کو دُنیا کا نہایت خطرناک ترین روڈ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ روڈ پندرہ ہزار چار سو فٹ بلندی پر شروع ہوتا ہے، جہاں ہونے والے حادثات کے باعث ہر سال تقریباً 300 لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس روڈ کو ”دی ڈیتھ روڈ آف دی ورلڈ“ کہا جاتا ہے۔

اس روڈ کے ذریعے 40 میل کا سفر طے کیا جاتا ہے اور ہر سا ل 25 ہزار بائیک رائیڈرز اس روڈ کو استعمال کرتے ہیں۔ حیران کُن بات تو یہ ہے کہ جب یہ روڈ اس قدر خطرناک ہے تو یہاں اس قدر بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کو کیا چیز کھینچ لاتی ہے؟ اس کا جواب یوں ہے کہ جو لوگ قدرتی مناظر کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ اُن مناظر کا نظارہ کرنے کی غرض سے بار بار یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ بسیں اور ٹرک اس وقت لڑکھڑاتے دکھائی دیتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کو ٹیک اوور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کِلرہائی وے (فلپائن)
”کِلر ہائی وے“ جس کا اصل نام ”کامن ویلتھ ایونیو“ ہے۔ یہ فلپائن کے کوئزون شہر کے وسط میں واقع ہے۔ کامن ویلتھ ایونیو پر حادثات کو شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے کِلر ہائی وے کا نام دیا گیا ہے۔

اس پر ہونے والے حادثات کی بڑی وجہ یہاں ٹریفک قوانین کا شدید فقدان ہے حالانکہ ایسی جگہوں پر ٹریفک قوانین کے نفاذ اور پاسداری کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ہیوی ٹریفک اور خطرناک روڈ کے باعث حادثات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ حادثات کے باعث یہاں ہر برس پیدل چلنے والے، سائیکلسٹ اور گاڑیاں حادثات کا شکار ہوتی ہیں جن میں سینکڑوں اموات ہو جاتی ہیں۔
جیمز ڈالٹن ہائی وے (الاسکا)
جیمزڈالٹن ہائی وے الاسکا میں ایسا روڈ ہے جو خطرناک روڈ کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ روڈ ویران اور غیرآباد علاقے میں ہے یعنی اس کی اس حالت پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ روڈ دُنیا سے تنہا اور الگ تھلگ ہے، اسی وجہ سے اسے زمین پر تنہائی کا شکار روڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس روڈ پر موجود کھڈے اور ہوا کے ساتھ اُڑ نے والا گرو غبار ڈرائیورز کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے جو اکثر بیشتر حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُجاڑ اور سنسان جگہ پر ہونے کے باعث یہاں حادثوں کا شکار ہونے والوں کو بمشکل امدادی کمک مل پاتی ہے۔
دی ہائی وے آف ڈیتھ (برازیل)
بی آر116 برازیل کا دوسرا بڑا اور طویل روڈ ہے اور یہ دُنیا کے خطرناک ترین روڈز میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس روڈ کے ذریعے برازیل کے شمال سے جنوب کی جانب سفر کیا جاتا ہے۔ یہ ساحلِ سمندر کے عین متوازی ہے۔ اس روڈ کو دُنیا میں بچوں کی جنسی ہراسگی کے حوالے سے بھی بدترین قرار دیا جاتا ہے۔

اسے ”ہائی وے آف ڈیتھ“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، یہاں ڈاکو بھی خوب لوٹ مار مچاتے ہیں، جس کے دوران کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ہمالین روڈ نیٹ ورک
کوہ ہمالیہ پر موجود شاہرات کا نیٹ ورک اپنی حالت زار کی وجہ سے دُنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ تنگ وتاریک غیر فرشی راستے جہاں ہر وقت پھسلن رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے گاڑیوں اور بسوں کو پیش آنے والے حادثات میں جانی نقصان ہوتا ہے۔
گاؤلیانگ ٹنل (چین)
گاؤلیانگ ٹنل دُنیا کی مشہور ٹنلز میں خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ 1.2کلومیٹر طویل، 5 میٹر لمبی جب کہ اس کی چوڑائی 4 میٹر ہے۔ یہ چین کے صوبہ حنان میں تائی ہینگ پہاڑی سلسلہ میں موجود ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں ایک چھوٹی سی غلطی بڑے سانحے کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ روڈ چین کی سنگلاخ پہاڑیوں کو تراش کر بنایا گیا ہے۔
تاروکو جارج روڈ (تائیوان)
چین کے گاؤلیانگ ٹنل روڈ کی طرح تائیوان کا تاروکو جارج روڈ بھی سنگلاخ پہاڑیوں کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ یہ روڈ نہایت تنگ وتاریک ہے جہاں ایک وقت میں صرف ایک بس ہی گزر سکتی ہے لیکن یہ ہائی وے انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ یہ روڈ تائیوان کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو باہم ملاتا ہے۔ اس پر اکثر و بیشتر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں لوگوں کی اموات بھی ہوتی ہیں۔
پاسوبیو (اٹلی)
شمالی اٹلی میں واقع یہ روڈ بھی دُنیا کے خطرناک ترین روڈز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ڈرائیونگ کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ اسے ”روڈ آف 52 ٹنلز“ بھی کہا جاتا ہے۔

اس روڈ پر سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ دراصل اس راستے کو دوسری جنگ عظیم کے دوران فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس پر سفر کرنے والے کئی افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔
ہیلیسما ہائی وے (فلپائن)
فلپائن میں موجود ہیلیسما ہائی وے دُنیا کے خطرناک روڈز کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ یہ روڈ 1930ء میں انجینئر ایوز بس جولیس ہیلسیما کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیم نے بنایا تھا۔گو کہ اس میں بہتری لائی گئی لیکن یہ آج بھی خطرناک روڈ ہے۔1980ء سے ہیلسیما کو دُنیا کے دس خطرناک روڈ میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اچھے انداز میں مینٹین نہیں کیا جا رہا۔ اسی وجہ سے یہاں گاڑیوں اور بسوں کے حادثات معمول بن چکے ہیں۔ یہاں چٹانوں کا گرنا اور لینڈسلائیڈنگ بھی عام بات ہے۔ یہاں دُھند اور سموگ کی کیفیت بہت زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔
سکیپرز کین یون روڈ (نیوزی لینڈ)
سکیپرز کین یون روڈ نیوزی لینڈ کے جنوب مغربی علاقہ میں واقع جزیرے پر موجود ہے۔ یہ روڈ بہت خطرناک اور دُشوار گزار ہے۔ یہ روڈ پہاڑیوں کو کاٹ اور تراش کر تقریباً 140 برس قبل بنایا گیا تھا۔ یہ 16.5میل طویل روڈ ہے۔ اس پر سفر کرنے کے لیے بہت زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کمزور دل حضرات اس خوف ناک روڈ پر سفر نہیں کر سکتے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ روڈ نہایت خطرناک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں قدرت کے نہایت خوبصورت نظارے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مہم جو اور ایڈونچر سے بھرپور طبع رکھنے والے افراد کو اس روڈ کی یہی خوبی یہاں کھینچ لاتی ہے اور وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس پر سفر کرتے ہیں۔
فیری میڈوز وے (پاکستان)
فیری میڈوز وے پاکستان میں بلندوبالا پہاڑیوں پر موجود نہایت خطرناک اور دُشوار گزار روڈ ہے جو 16.2کلومیٹر طویل ہے اور گلگت بلتستان میں موجود ہے۔ یہ روڈ مکمل طور پر اَن مینٹینڈ ہے اور یہاں سفر کرنے والوں کو حفاظتی اقدامات بھی میسر نہیں اس لیے ڈرائیور حضرات کو مکمل طور پر چاک وچوبند ہو کر ڈرائیونگ کرنا پڑتی ہے کیونکہ ذرا سی لاپرواہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

دُنیا کی یہ خطرناک سڑک کوہ قراقرم سے ٹاٹوگاؤں تک جاتی ہے۔ 2013ء میں حادثات کے باعث اس روڈ کو دُنیا کی دوسری خطرناک ترین ہائی قرار دیا گیا تھا۔
الاقصر ہر گادا روڈ (مصر)
یہ روڈ جنوبی مصر میں واقع قدیم شہر الاقصر کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ دُنیا کے خطرناک ترین روڈز میں بارھویں نمبر پر آتا ہے۔ حادثات کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیورز اپنی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس آن نہیں کرتے بلکہ آف رکھتے ہیں کیونکہ اس روڈ پر دہشت گرد اور ڈاکو اپنی پُراسرار سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں اور وہ ڈرائیورز کو شوٹ کر دیتے ہیں۔ یہاں دہشت گردوں اور ڈاکوؤں نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور وہ ٹورازم انڈسٹری کو بربادی سے دو چار کیے ہوئے ہیں۔ نومبر 1997ء میں ایک شدت پسند گروپ نے سیروسیاحت کی غرض سے مصر آنے والے 62 جرمن شہریوں کو قتل کر دیا تھا۔
ہائی وے ٹو ہیل الباما (امریکہ)
امریکی ریاست الباما میں روٹ نمبر431 نہایت خطرناک ترین روڈ ہے جہاں ڈرائیونگ کرنے والے اس کی خراب حالت کے باعث نہایت ابتر صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں۔

یہ روڈ نہایت تکلیف دہ اور اذیت سے دوچار کرنے والا ہے۔ اسی کی اس حالت کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں اور لوگ اپنی قیمتی جانوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے کئی لوگ اس روڈ کی نذر ہو چکے ہیں۔
A726 (سکاٹ لینڈ، یوکے)
A726 سکاٹ لینڈ کے خطرناک ترین روڈز میں شمار ہوتا ہے جہاں سال بھر خونی حادثات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس روڈ پر قدرتی کے حسین وجمیل مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، یہی چیز دُنیا بھر کے سیاحوں کو یہاں لانے کا باعث بنی ہے۔ اگر اس روڈ پر حادثات پر کنٹرول کرنے کا انتظام کر لیا جائے تو یہ ایک بڑا اور اہم اقدام ہو گا۔
پٹیوپاؤلو پرڈیکاکی (یونان)
پٹیوپاؤلو پرڈیکاکی روڈ یونان کے شمال مشرقی پہاڑی سلسلہ پر موجود نہایت خطرناک روڈ ہے۔ یہ روڈ مٹی سے بھرا ہوا ہے جو ڈرائیونگ کرنے والوں کے لیے کسی مصیبت سے کم نہیں۔ یہاں لوگوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ مئی کے مہنے میں پھسلن ہونے کے باعث یہاں زیادہ کافی حادثات ہوتے ہیں۔
سیاچن تبت ہائی وے (چین)
سیاچن تبت ہائی وے دُنیا کے خطرناک روڈز کی فہرست میں 16ویں نمبر پر ہے۔ یہ روڈ 2142 کلومیٹر طویل ہے۔ اسے کانگ ڈنگ تبت ہائی وے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت خطرناک روڈ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں ایک لاکھ میں سے 7500 افراد کی اموات ریکارڈ کی جاتی ہے جس کی وجہ چٹانوں کا گرنا اور برف اور مٹی کے طوفان ہیں جو ڈرائیوروں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ حادثات کی صورت میں نکلتا ہے۔
اریکا ٹولاوینیو روڈ (چلی)
چلی میں موجود یہ روڈ دلکش قدرتی مناظر سے بھرپور ہے۔ خوبصورتی کے سحر میں کھونے والے اکثر ڈرائیورز غفلت کا مظاہرہ کر جاتے ہیں جس کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں اور نتیجہ انسانی اموات کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
A683 (انگلینڈ)
A683 انگلینڈ میں خوش نُما مناظر سے بھرپور روڈ ہے لیکن روڈ سیفٹی ریکارڈز، حادثات کے متعلق الگ ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہاں گزشتہ برسوں کے درمیان سینکڑوں لوگ اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
A44 (انگلینڈ)
A44 دُنیا کے خطرناک روڈز میں سے 19ویں جبکہ برطانیہ کے 10خطرناک ترین روڈز میں شامل ہے۔ 2011 ء سے 2017ء کے دوران 54 فیصد حادثات A44 پر پیش آئے۔
سٹیلویو پاس (اٹلی)
یہ روڈ سطح سمندر سے تقریباً 2.757 میٹر بلندی پر واقع ہے جو اٹلی کے صوبہ سونڈیو میں واقع ہے۔ یہ یورپ کے بلند پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے۔ یہ انجینئرنگ کا عظیم الشان شاہکار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نہایت خطرناک بھی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button