تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

دھنیا صرف سبزی نہیں متعدد امراض کی ایک دوا بھی ہے

چوتھائی کپ دھنیا کے پتوں میں مندرجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔توانائی:3.800 کیلوری۔ ٹؤٹل چکنائی: 0.021 گرام۔غذائی ریشہ:0.112 گرام۔۔ پروٹین(گرام): 0.085 گرام۔ کاربوہائیڈریٹ:0.147 گرام۔ سوڈیم:1.840 ملی گرام۔ وٹامن سی:1.080 ملی گرام۔ دھنیا کے بیجوں میں تقریباً1.0 فیصد فراری تیل پایا جاتا ہے۔جبکہ دوبڑے چمچ کے برابر بیجوں میں مینگانیز: 0.08 ملی گرام۔ فولاد:0.56 ملی گرام۔ م اورمیگنیشیم:11.00 ملی گرام پایا جاتا ہے۔

تازہ جڑی بوٹیوں پرمشتمل ہرے مصالحے نہ صرف کھانوں کو خوش رنگ اور خوش ذائقہ بناتے ہیں بلکہ اس میں شامل قدرتی اجزا غذائیت اور شفا بخش بھی ہیں۔اسی طرح دھنیا بھی صرف ایک سبزی نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کا ایک شافی دوا ہے۔

ہرا دھنیا یا خشک دھنیا جنوبی ایشیاء کے کھانوں کا لازمی جزو ہے۔ہرا دھنیا کی تازہ پتیوں کی خوشبو میکسیکن اور تھائی کھانوں میں بھی ملتی ہے۔ برطانیہ میں ہرا دھنیا پسندیدہ مصالحے کے طور پر مشہور و مقبول ہے۔

دھنیا کو طبی زبان میں کشنیز کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں کوری اینڈر ( Coriander)کے نام سے پکارتے ہیں۔ دھنیا کو غذا اور دوا کے طور پر پانچ ہزار قبل مسیح سے استعمال کیا جارہا ہے۔دھنیا جنوب مشرقی یورپ میں جنگلی طورپر اُگتا ہے اور اس کی کاشت مصر،انڈیا، پاکستان اور چین میں صدیوں سے ہورہی ہے۔

اس پودے کے پتے اور بیج دونوں استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اس کے بیج ہلکے زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ جب یہ پک جاتے ہیں تو ان میں خوشبو (مسالا جاتی خوشبو)پیدا ہو جاتی ہے۔بطور مسالا استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں میں دھنیا سب سے پراناپودا ہے۔اسے یونانی اور رومن کلچر میں گوشت کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ پرانے اطباء میں بقراط اسے بطور دوا استعمال کرواتے تھے۔ روس،انڈیا،مراکو اورہالینڈ تجارتی بنیادوں پر اس کی کاشت کرتے ہیں۔ اس پودے کو تازہ پودا، پتے، خشک بیج اور تیل یا لیکوئڈ کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دھنیا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
چوتھائی کپ دھنیا کے پتوں میں مندرجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔توانائی:3.800 کیلوری۔ ٹؤٹل چکنائی: 0.021 گرام۔غذائی ریشہ:0.112 گرام۔۔ پروٹین(گرام): 0.085 گرام۔ کاربوہائیڈریٹ:0.147 گرام۔ سوڈیم:1.840 ملی گرام۔ وٹامن سی:1.080 ملی گرام۔ دھنیا کے بیجوں میں تقریباً1.0 فیصد فراری تیل پایا جاتا ہے۔جبکہ دوبڑے چمچ کے برابر بیجوں میں مینگانیز: 0.08 ملی گرام۔ فولاد:0.56 ملی گرام۔ م اورمیگنیشیم:11.00 ملی گرام پایا جاتا ہے۔

سبز دھنیا کے غذائی و ادویاتی فوائد

معدہ کے امراض:
خواتین سالن میں لذت اور خوشبو کے علاوہ سالن کو سبز دھنیا سے سجاتی ہیں‘ سلاد کا اہم اور مفید جز شمار ہوتا ہے۔ دھنیا سبز کی گھروں میں خصوصی طور پر چٹنی تیار ہوتی ہے جو روٹی کے ساتھ انتہائی رغبت کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ دھنیا سبز کی چٹنی میں ٹماٹر اور اناردانہ ملا کر استعمال کرنے سے جہاں ذائقہ میں اچھی ہوتی ہے وہاں امراض معدہ میں بھی انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے۔ دھنیے کے پتے متلی کی کیفیت کو کم کرتے ہیں، یہ نظام ہاضمہ میں غذائی انزائمے اور جوسز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ غذائی فائبر قبض کی روک تھام کے لیے مددگار ہے۔

زہریلے اثرات:
خشک دھنیا بھی سالن کے علاوہ ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گھریلو خواتین دھنیا کا استعمال اپنی دانش میں صرف خوشبواور لذت کیلئے کرتی ہیں۔لیکن دراصل یہ مستورات نہیں جانتی کہ وہ اس کے استعمال سے نہ صرف سالن کو خوش ذائقہ بنا رہی ہیں بلکہ وہ اپنے خاندان اور بچوں کوسالن کے زہریلے اثرات سے محفوظ کر رہی ہیں۔اورانہیں مختلف بیماریوں کے اثرات سے بھی بچا رہی ہیں۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button