سیلف ہیلپ

ذاتی تبصروں سے جان چھڑائیے!…… سید ثمر احمد

میں خاموش بیٹھا سن رہا تھا۔ کبھی ایک طرف دیکھتا تو کبھی دوسری طرف۔ بحث گرما گرم تھی لیکن حصہ لینے والے باہم متفرق نہیں تھے بلکہ متحد تھے۔ موضوع مختلف لوگ تھے۔ شرکاء سب خواتین تھیں اور میرے وسیع خاندان کی بڑھیاں تھیں۔ میں ان کا بچہ تھا۔ ایک کہنے لگیں: ”جب وہ ہماری نہیں بنی تو اس کی بیٹی کیا بنے گی؟ دوسری بولی، ہونہہ ہ ہ ہ ناک دیکھی ہے؟پکوڑے جیسی۔“یوں ایک ایک کر کے کوئی نہ کوئی قابو آتا گیا اور اس کی اگلی پچھلی، کرنیاں ناکرنیاں سب کھلتی چلی گئیں …… میں جو دَم سادھے ٹُک ٹُک باتیں سنے جا رہا تھا، تو ایسا یونہی نہیں تھا بلکہ عزم کیے تھا کہ آج تو ’حق بات‘ کہہ ڈالنی ہے۔ وہاں موجود سب میری قریبی رشتہ دار اور میں ان کا لاڈلا۔ آخر مسلسل، نان سٹاپ اہم ترین گفتگو کے اڑھائی گھنٹے گزر گئے تو کچھ وہ فارغ ہوئیں۔ اب مجھے ’ٹانگ اڑانے‘ کا موقع نظر آیا……میں نے سنبھل سنبھل کے لیکن صاف بات کرنا شروع کی کیوں کہ اپنے چھوٹوں سے درست سننے کا ذوق ہمارے ہاں مفقود ہے۔ بڑے خود کو کامل اور نقص سے بَری سمجھتے ہیں۔ ’آنٹی، ہمیں خدا کا ذمہ لگایا ہوا کام کچھ کچھ کرنا چاہیے۔ تھوڑا تھوڑا وقت نکالنا چاہیے۔‘کہنے لگیں، ’ہا ہ ہ ہ بیٹے، ٹائم ہی کوئی نہیں‘۔ میں نے چھوٹتے ہی کہا ’یہ جو اڑھائی گھنٹے سے یہاں ہم کر رہے تھے، اس کے لیے ٹائم تھا؟‘۔ ان کو کہاں ایسے جواب کی توقع تھی۔ فوراََ سٹپٹا کے بولیں ’چل دفع ہو یہاں سے، اب ہمیں سکھائے گا‘۔ اور میں وہاں سے کھسک گیا۔ مشن مکمل ہو چکا تھا۔
حضرات ہم کسی کو نہیں چھوڑتے۔ گمان، غیبت، بہتان، تبصرے ہر محفل کی چٹنی سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ زندگی بہت سے اہم تر کاموں کی طرف بلاتی ہے لیکن شعور نہیں۔ ’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘…… پر نہیں، ہمارے تو گویا ہاضمہ کا مسئلہ ہے جو ان عظیم تجزیوں کے بغیر حل نہیں ہوتا۔ سنی سنائی کو مرچ مسالے کے ساتھ بیان کیے بغیر اکٹھ کا لطف دوبالا نہیں ہوتا۔ پیدائش سے بھی پہلے شروع ہوتے ہیں اور آج تک کی سنی اَن سنی سب تڑکا لگا کے کہانیاں گھڑتے ہیں۔ اور وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ 100فیصد کھرا سچ ہے۔ یہ تباہ کن مرض مزاجوں میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ ہم گناہِ عظیم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حضورِ اعلیٰ ؐ نے بیان فرمایا کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ (منفی) سنی سنائی باتیں آگے بیان کرنے کا عادی ہو۔ لیکن ہماری بلا سے۔ ہم تو وہ نشہ باز ہیں جو نالیوں میں پڑا رہتا ہے، کپڑے بدبودار ہو جاتے ہیں، چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، معاشرے کے لیے بوجھ ہو جاتا ہے، کسی کا م نہیں رہتا پر…… خود کو مہان سمجھتا ہے، عالی شان سمجھتا ہے، خلاؤں میں پرواز کرتا ہے، بہادری کی داستانوں کا ہیرو ٹھہرتا ہے لیکن ہوتا ہے نکھٹو۔
عزیزوں کے مزید قصے
ایک دفعہ ہم بیٹھے ہوئے۔ ایک آنٹی نے رشتہ داروں کے حوالے سے باقاعدہ تبصرہ داغا، وہ بھی ایسا کہ جس کے غلط ہونے کی صریح گنجائش تھی۔ ہم سے اپنی بات کی تائید میں استفسار کیا۔ اس کمزور نے عرض کی کہ شاید صورتِ حال ایسی نہ ہو بلکہ الٹ ہو، ہمیں خوش گمان رہنا چاہیے۔ برہم ہو کر نصیحت کی، بیٹا جی اس طرح دنیا جینے نہیں دے گی۔ میں نے کہا کہ ’دنیا کی کیا اوقات ہے کہ جینے نہ دے۔ اب یہ ہمیں بتائے گی کہ اپنی زندگی ہم نے کیسے گزارنی ہے؟‘۔ مجھے کبھی سمجھ نہ آسکا کہ لوگوں سے متعلق کرید کرید کے کون سی حِس کو تسکین ملتی ہے۔
فرینکلن کووے کمپنی نے بنیادی انسانی رویوں کے بدلنے کو ایک کورس لانچ کیا۔ اس نصاب میں ذاتی محاسبہ کی باقاعدہ گرافیکل ورک شیٹس تھیں جن میں انسان کی 7 خصوصیات کو مرکز بنایا گیا تھا، جیسے غیبت، چغلی، منفی پن وغیرہ۔ یہ اہم تر خوبیاں ہماری شخصیت کا کتنا حصہ بن چکیں، اس کے لیے روزانہ مارک کر کے نتیجہ گراف کی صورت میں سامنے آ جاتا تھا۔ میں یہ شیٹ لے کے اپنے ایک عزیز کے ہاں گیاجو ایک اہم پوسٹ پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے شیٹ پہ نظر ڈالی اور کہا ’عملاََ تو یہ ممکن نہیں۔ کوئی انسان کیسے گمانِ بد، غیبت، چغلی وغیرہ سے بچ سکتا ہے۔ ہاں قریب پہنچ سکتا ہے، اس لحاظ سے چلو کچھ بہتری شاید آجائے‘۔ میں چھوٹا تھا لیکن دل میں سوچا کہ یہ ہدایات تو خالق کی عطا کردہ ہیں یعنی فطری ہیں۔ جو چیز فطری ہوتی ہے وہ ممکن الحصول ہوتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا وہ احکامات دے جو ناممکن ہوں یا جس کے لیے انسان کو اپنی فطرت سے دور جانا پڑے……اور آج پورے یقین سے اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ اس اپنے فقیر کو خدا نے یہ توفیق بخشی کہ اس دل میں کبھی کینہ اور بغض پیدا نہیں ہوئے۔ کبھی غیبت اور گمانِ بد کیا ہو، مجھے یاد نہیں۔ لوگوں پر ذاتی منفی تبصرے کیے ہوں یا بُرے القاب رکھے ہوں، میں آگاہ نہیں ……اس لیے عرض کر سکتا ہوں کہ کیسا اتھاہ سکون ہوتا ہے جو آپ کو کائناتی بنا کے مست الست آزادی عطا کرتا ہے۔
تبصروں کی فیکٹریاں اور بیماریاں
جن کی عادتِ ثانیہ لوگوں پہ تبصرے بن چکے ہیں، قابلِ رحم لوگ ہیں۔ یہ بیچارے……کچھ لینا نہ دینا…… پر اپنے سروں کو بوجھوں سے بھرے رکھتے ہیں۔ جانتے نہیں کہ شعور تو بھول سکتا ہے پر لاشعور نہیں۔ لاشعور کی حسرتیں، حسد، غصہ ڈپریشن بن جاتے ہیں جو 75 فیصد بیماریوں کی وجہ ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ اپنے خلاف سازشوں، باتوں، تنقید اور بدنامی کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پہلے دوسروں کو سوچتے اور بولتے رہتے ہیں، بعد میں اپنے ہی لالے پڑ جاتے ہیں لیکن……تشخیص کر پاتے نہ اکثر تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ امراض ہیں جو انفرادی و اجتماعی جڑ کاٹ کے رکھ دیتے ہیں۔ یہی وہ گھاؤ ہیں جن پہ صوفیاء نے کمال مہارت سے کام کیا اور باطن کو نور سے روشن کر دیا۔ اس مہارت میں کوئی دور دور تک بھی ان کا ہمسر نہیں۔ بیماریوں کی نئی اقسام جنہیں اعصاب کی بیماریاں کہتے ہیں اکثر ہمارے لائف سٹائل اور غلط فکری اپروچ ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ضمیر شرمندگیاں پالتا رہتا ہے۔ ہم اسے تھپکیاں دے کے سلاتے رہتے ہیں۔ خود کوIncentiveدیتے رہتے ہیں، خود پسندی کا شکار رہتے ہیں پر اپنے نفس پہ بے رحم نظر ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ ہمارا جسم انجانے کرب سے سسکنے اور گلنے لگتا ہے۔
تبصروں سے نجات پائیں!
ایک سانحہ سے گزرے۔ دل نرم ہو جاتے ہیں۔ ماموں کے ساتھ جا رہا تھا۔ مختلف باتیں چل رہی تھیں، پوچھا……ہم کیسے لوگوں کے فیصلوں، کہی باتوں، رویوں پہ تبصرے کر سکتے ہیں؟ ہمیں پتا نہیں ہوتا کہ ایک فرد کن حالات سے گزر رہا ہے۔ کس سوچ کے ساتھ اس نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ کون سے محرکات اس کے پیشِ نظر تھے۔ ہم چند چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے تبصرے کا گولہ فائر کر دیتے ہیں …… تبصرہ تو وہ کرے جس نے کسی کے پاس بیٹھ کے، اس کے کسی فیصلہ کے متعلق تمام طرح کے خیالات مکمل طور پہ سنے ہوں۔ پھر ہم شاید کہہ سکیں کہ ایک آدمی کسی پر کمنٹ کر سکتا ہے۔ لہذا طویل غور وفکر نے اس فقیر کو یہاں تک پہنچایا کہ یہ نفس کی اس محبوب عادت پہ غالب آگیا۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب مجھ ایسا کمزور یہ کام کر سکتا ہے تو سب کر سکتے ہیں۔
امام ابنِ قیم نے فرمایا
ابن القیم، ابنِ تیمیہ کے شاگرد تھے۔ اپنی تربیت کے خواہش مندوں کے لیے امام کا کام بہت شان دار ہے۔ انہوں نے نفس کے بکھیڑوں کو خوب سمجھایا اور خوب نبٹایا۔ کہتے ہیں کہ یہاں تو اپنی نیت کو جاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور لوگ دوسروں کی نیتوں پہ فیصلے صادر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کس قدر گہری بات ہے۔ یہ کیسی عمدہ نصیحت ہے۔ یہ کتنا نجات بخش جملہ ہے۔ جس کو ہدایت لینی ہے وہ پورے مضمون کو چھوڑے بس اسی کو لے کے چلا جائے تو بیڑا پار لگ جائے۔ یہ وہ پہاڑی کے چراغ ہیں جن کا نام ہی آ جائے تو انسان کا تزکیہ شروع ہو جاتا ہے۔حضرتِ ابوبکرؓ نوکِ زباں کو بار بار پکڑتے اور فرماتے اس نے مجھے بہت جگہ پھنسایا ہے۔ جناب عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا کہ زبان کی لغزش پاؤں کی لغزش سے بہت خطر ناک ہے۔ جب زبان اصلاح پذیر ہوتی ہے، قلب صالح ہو جاتا ہے…… اس لیے لازماََ جاری رکھیے!
نفس کو نصیحت
اسے تاکید سے سمجھائیں کہ:
٭ یہ(منفی ذاتی تبصرہ نگاری) ایسا لقمہ ہے، پرہیزگار جسے قبول نہیں کرتے۔ ایسا نغمہ ہے، معزز لوگ جس سے کراہت رکھتے ہیں۔
٭ تو جب کامل معلومات نہیں رکھتا تو مجھے کیوں فضول تبصروں میں ڈال کے تباہ کرنا چاہتا ہے۔
٭ وقت جب نہایت کم ہے، عمر کہ جب پھسل رہی ہے تو ایسے میں تیرا مجھے ایسے بے ہودہ کام میں ملوت کرنے کا کیا مقصد ہے۔
٭ صادق آدمی سات بار گر کے پھر اٹھتا ہے اور شریر بلا میں گر کے پڑا رہتا ہے۔
٭ خاموشی کو اپنا شعار بنا۔ بول تو صرف ضرورت کے لیے ورنہ جان لے کہ گفتگو کا فتنہ شرمندہ کرنے والا ہے۔
ہوم ورک لیجیے
روزانہ اٹھیں تو نیت کر لیجیے کہ آج میں کسی شخص پر منفی تبصرہ نہیں کروں گا۔ ایک ایک دن کر کے ایسا 21 دن کیجیے، نئی عادت آپ کے مزاج کا حصہ بن جائے گی۔ آپ اُلوہی روشنی اور توانائی اپنے اندر محسوس کریں گے۔ اطمینان اور خوشی سے سرشار ہوجائیں گے۔ زندگی کے ضروری کاموں کے لیے بے پناہ مہیا وقت منتظر کھڑا ہو گا۔ خوش رہیے، صحت مند رہیے، مثبت رہیے!

Leave a Reply

Back to top button