کالم

ذکرِ بہار تو فصلِ بہار نہیں…… ارم صبا

پچیس دسمبر کو یوم قائد جوش و خروش سے منایا گیا۔ یہ دن مسیحی برادری کے ساتھ یومِ جہتی کے طور پر بھی منایا گیا، کیک کا ٹے گئے اور سیمینار منعقد ہوئے۔ قائد کی زندگی کی طویل جدوجہد، خطابات اور فرمودات کے بارے میں آگہی دی گئی لیکن کیا ذکرِ بہارِ ہی فصل بہار ہے؟

اسی طرح حضرت داتا گنج بخشؒ اور دیگر اولیاؒ کے دن اور عرس منائے جاتے ہیں لیکن کیا عرس منانے سے بزرگوں کا فیض مل جاتا ہے؟ کیا ان کے دن منا نے سے شمع حریت ہر طوفان سے محفوظ رہتی ہے؟ کیا آگہی کا چراغ جلا کر بجھا دینے سے روشنی برقرار رہتی ہے؟ کیا عہد کہن تازہ کرنے کے لئے صرف ایک ہی دن مقرر ہوتا ہے؟ کیا تمنائے تخیل ہی حصول تخیل ہے؟ کیا وحدت کردار کے بغیر وحدت مقصد کا حاصل ہونا یقینی امر ہے؟ کیا ہم صرف بحث کرنے والی قوم ہیں جو صرف اپنے بزرگوں کے دن مناتی ہے اور عمل سے یکسر دور ہے۔

ہم کسی کی محنت کے کتنے ہی قصیدے کیوں نہ پڑھ لیں جب تک اپنے کردار سے محنت کو زندہ نہ رکھیں گے ہم خود کو بحیثیت قوم اور فرد واحد بیدار بخت اور بیدار ضمیر نہیں کہلا سکتے۔ انسان کی عقل عقلِ سلیم تب ہی بنتی ہے جب وہ نہ صرف نصیحت سننے والا بلکہ عمل کرنے والا بھی بن جائے۔

عظیم ہستیوں، عظیم سکالرز اور بڑے اولیاء اللہ کے دن منانے کا مقصد تو حقیقتناً ان سے روحانی رابطہ ہوتا ہے۔ روحانی رابطہ رکھنے سے ہی بزرگوں کا فیض ملتا ہے۔ صرف دن یا عرس منانے سے نہیں یہ رابطے تو وجود قلب میں پیوست ہوتے ہیں اور وہیں پلتے ہیں۔ وہ دستور حیات کی اساس جو ماضی کے عظیم دانشوروں، صوفیا اور علماء نے رکھی تھی ان کی یاد میں اک دیا جلانے سے ان اکابرین سلف کے مقام تک رسائی ناممکن ہے۔ ہم صرف عظیم انسانوں کے نام لیوا ہیں ان کے وارث نہیں۔

کیا ذکر کرنے سے ذکر تسلیم کرنے کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ ہم تو تسلیم کا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم مادی ترقی کو مقصدِ حیات تسلیم کر چکے ہیں۔ ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ یہ عظیم ہستیاں فنا کے دیس کی مسافر تھیں جو ان کو بقاء کی منزل پر لے آئیں اور ہم صرف ان کا نام لے کر بقاء کی منزل کے راہی بن بیٹھے ہیں جبکہ یہ راستہ تو فنا کی بستی سے گزرتا ہے۔ فکر و تدبر ہی اصل شعور ہے، ہمارا شعور تو قومی ہے لیکن مفاد فرد واحد کا ہے۔ ہمارے تمام اجتماعات ضرورت کے ہیں اور ضرورتیں وفا سے نا آشنا ہوتی ہیں اسی لئے ہمارے روحانی روابط بھی کمزور ہیں، ہماری روشنی ہمارے ماضی میں دفن ہو چکی ہے جس کو ہمیں اجاگر کرنا ہے۔ یہ حسین مقبرے، یہ مقدس ایام، یہ مقدس افکار…… ہمیں ان کا وارث بننا ہے۔

ہم کیوں نہ آج کے دن سے ہی گزشتہ سے پیوستہ ہو جائیں، ہم کیوں نہ فتح کی سنت کو اپناتے ہوے عام معافی کی سنّت ادا کریں کیوں نہ ہم ان فرمودات کو عملی جامہ پہنائیں، اپنے باطن کو ان افکار سے اجاگر کریں۔ واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ صرف دن منانے سے بزرگوں کا فیض نہیں ملتا۔۔ذکر بہار تو فصل بہار نہیں۔

نوٹ: ادارے کا صاحبِ قلم کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ آپ اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر stepforward996@gamil.com پر ارسال کیجئے۔

Leave a Reply

Back to top button