مختصر تحریریں

رازِِ ہستی ہی جوازِ ہستی ہے…… ارم صبا

کتنی عجیب بات ہے کہ ایسا شخص جس کا ہر تمنائے تخیل ہی حاصلِ تمنا بن جائے لیکن اسے پھر بھی جوازِ ہستی سمجھ نہ آ رہا ہو، ایک ایسا شخص جس نے کسمپرسی سے زندگی گزاری ہو وہ بھی جواز ہستی کے لئے بھٹکتا رہے۔ لکھنے والا اپنے قلم سے عزت تو حاصل کرے مگر اس کا لکھا ہوا باقی رہنے والا نہ ہو، جب بے انتہا سوچنے کے باوجود منزل کی طرف جاتا ہوا راستہ نظر نہ آئے……

جب کسی کی زندگی بھر کی کمائی اس کے کسی کام نہ آئے۔ جب کوئی تنگیئ خیالات میں جکڑا رہے، جب باوفا دوست بے وفا نکلے، جب دنیاوی رشتے مستقل اذیت پہنچاتے رہیں، جب سوچ کی تاریک راہوں میں کسی جگنو کی تلاش میں نگاہیں صرف متلاشی ہی رہیں، جب بارش کی طرح مصائب اس پر برستے رہیں، جب کسی کو رہنے کیلئے قبر جتنی زمین بھی میسر نہ آئے، جب عمر کٹ جانے کے بعد بھی سفر نہ کٹ سکے، جب بالوں میں چاندی منزل کی جستجو میں ہی اتر آئے اور منزل نہ ملے…….

Related Articles

جب پانی کا قطرہ بھی آبِ حیات سے کم نہ لگے، لیکن پھر بھی پانی کی بوند تک میسر نہ آئے، جب کسی کو اس کے دوست احباب رشتے دار زندہ سمجھتے ہوئے بھی مردہ سمجھنے لگ جایئں، جب کسی کے پاس دنیاوی کمائی تو ہو مگر آخرت کیلئے کوئی سازوسامان نہ ہو، جب زندگی کی دوڑ میں سب سے آگے نکل جانے والا بھی یہ گمان کرے کہ وہ کس لئے اور کیونکر دوڑتا رہا، جب جسم اپنے تمام اعضا کے ساتھ زندہ ہو لیکن دل مر جائے تو جواز ہستی کو تلاش کرنا کیسے ممکن ہو گا؟
جینے کے جواز کو کیسے پایا جائے، کیسے اپنے وجود ہستی میں تمنائے زندگی کو برقرار ررکھا جائے؟ زندگی تو آخر زندگی ہے……گزر ہی جاتی ہے…… لیکن زندگی کو زندہ رکھنے کا جواز کیسے حاصل کیا جائے۔ واصف علی واصفؒ نے بہت خوبصورت انداز میں وجود ہستی کو زندہ رکھنے کی تجویز بتائی ہے کہ انسان کی مایوسیوں کے گھپ اندھیروں میں روشنی کا چراغ اس کی پیشانی کے اندر ہوتا ہے اور یہ سجدے میں نظر آتا ہے۔ بے بس انسان کا سجدہ ہی اس کی بے بسی کا علاج ہے۔ آپ کو اپنا جواز ہستی نہیں مل رہا تو کسی کو اس کا جینے کا جواز دے دو، آپ کو خود اپنا جواز مل جائے گا۔

ایسا کر کے تو دیکھو! توجہ مانگنے سے زیادہ توجہ دینا افضل ہے۔ قریب کے انسان کی مدد کر دو شائد اس کا جواز ہستی اس سے منسلک بہت سے لوگوں کا جوازِ ہستی ہو۔ قلب میں چراغاں ہو گا، اگر پیشانیاں سجدہ ریز ہو جائیں تو شکست بھی جیت کی مبین ہے۔ رات کے بعد دن تمام اندیھروں کو چیرتا ہوا نکلے گا۔ کسی کو جواز ہستی دینے والا اپنا رازِ ہستی پا لے گا۔ پتھر دل جب موم ہو گا تو پتھرائی آنکھوں سے خوشی جھلکے گی۔ اور موتیوں کی یہ لڑی جوازِ ہستی دریافت کر لے گی…… کیونکہ راز ہستی ہی تو جواز ہستی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button