تازہ ترینجرم کہانیخبریں

رانا شمیم بیان حلفی: ’نئے انکشافات نے شریف خاندان کو پھر سیسیلین مافیا ثابت کردیا‘

فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح شریف خاندان، مافیا کی طرح عدالتوں سمیت اداروں کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حلف نامے کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان انکشافات نے ایک بار پھر ’شریف خاندان کو سیسیلین مافیا ثابت کر دیا ہے‘۔

انگریزی اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ رانا شمیم نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے خلاف دیے جانے والے بیان حلفی پر نواز شریف نے دفتر میں ان کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔

فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح شریف خاندان، مافیا کی طرح عدالتوں سمیت اداروں کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ شریف خاندان ’صرف اثر و رسوخ خرید کر یا سپریم کورٹ پر حملہ کرکے انصاف کو ناکام بنانے کی کوشش سے آگے نہیں بڑھ سکتا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ پر حملے سے لے کر جسٹس قیوم کو کال کرنے تک اور حلف نامے کی اس تازہ ترین کہانی تک، یہ تمام محاذوں پر بدعنوانی کی دہرائی جانے والی کہانی ہے‘۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ’اس بات کا انکشاف ہونا کہ رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی پر نواز شریف کے دفتر میں ان کے سامنے دستخط کیے تھے، اس بات کا ثبوت ہے کہ شریف خاندان نے اداروں پر حملہ آور ہونے اور نواز شریف کے خلاف مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی‘۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ’اب بڑا سوال یہ ہے کہ صحافی کو یہ بیان حلفی کس نے دیا؟ رانا شمیم تو دعویٰ کرتے ہیں یہ بیان حلفی ایک تجوری میں رکھا تھا، کیا ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟ یا پھر ’کسی اور نے‘ یہ بیان حلفی فراہم کیا؟‘

اخبار کی رپورٹ میں رانا شمیم کے بیان حلفی کو نوٹرائز کرنے والے چارلس گتھری کے حوالے سے کچھ ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چارلس گتھری کا کہنا تھا کہ رانا شمیم، بیان حلفی پر دستخط کے وقت ’ماربل آرک‘ میں موجود تھے۔

دستاویزات کے مطابق ماربل آرک ’فلیگ شپ ڈیولپمنٹس لمیٹڈ‘ کے دفتر کے طور پر رجسٹر ہے جس کے ڈائریکٹرز میں حسن نواز شریف بھی شامل ہیں اور یہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی اکثر ملاقاتیں ہوتی ہیں۔

جب چارلس گتھری سے پوچھا گیا کہ کیا رانا شمیم، نواز شریف کے دفتر میں موجود تھے اور کیا وہ پرسکون تھے تو چارلس گتھری نے جواب دیا کہ ’بہت زیادہ، جی ہاں‘۔

معاملے کا پس منظر
خیال رہے کہ 15 نومبر2021 کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی صحافی انصار عباسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے ایک مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہدایت دی تھی کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے۔

مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزار نے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے ’بہت پریشان‘ دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔

رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنے چاہیئں، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔

دستاویز کے مطابق اس موقع پر رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے‘۔

تاہم ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو ’خود ساختہ کہانی‘ قرار دیا تھا۔

ثاقب نثار نے کہا تھا کہ ’اس وقت انہوں نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا جبکہ ان کی ان دعووں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے‘۔

اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات منظرِ عام پر آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی، ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رانا شمیم کو توہینِ عدالت آرڈیننس کے تحت نوٹس جاری کر کے 16 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

30 نومبر کو رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اپنا ہی بیانِ حلفی نہیں دیکھا جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الزامات عائد کیے تھے، جس پر عدالت نے رانا شمیم کو 7 دسمبر تک اصل بیان حلفی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم 7 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں رانا شمیم کے وکیل نے کہا تھا کہ بیانِ حلفی کا متن درست ہے لیکن اسے شائع کرنے کے لیے نہیں دیا گیا تھا۔

اس سماعت کے 10 دسمبر کو جاری ہونے والے حکم نامے میں ہائی کورٹ نے فریقین کی جانب سے جمع کروائے گئے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ نے رانا شمیم کا نام پروونشل نیشنل آئیڈینٹی فکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) مین شامل کردیا تھا جس کے تحت 30 روز کی سفری پابندی عائد ہوتی ہے۔

بعد ازاں 13 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی کہ توہین عدالت کے نوٹسز ملنے والے اپنے بیان حلفی جمع کرا دیں، اس دوران رانا شمیم کا اصل بیان حلفی بھی آ جائے گا، اس کے بعد فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کی جائے۔

اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس نے رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس میں فرد جرم کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر اصل بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

20 دسمبر کو گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کی پیروی کرنے والے وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کی جانب سے سربمہر بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرایا جاچکا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button