روشنی

ربا میرے حال دا محرم توں…… پیرمختاراحمد جمال

شاہ حسین فقیرالمعروف مادھو لال حسینؒ ایک صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر تھے جو فقیرِ لاہور کے نام سے بھی معروف ہیں۔
شاہ حسینؒ لاہوری 945ھ بمطابق1539ء میں ٹکسالی دروازے لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والدِ گرامی کا اسمِ گرامی شیخ عثمان تھاجو کپڑا بننے کے پیشے سے منسلک تھے۔ آپؒ کے داد ا کا نام کلجس رائے ہندو تھا جو فیروز شاہ تغلق کے دور میں دائرہِ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے تھے۔
آپؒ کا خاندانی نام ڈھا ڈھا حسین تھا۔ ڈھاڈھا پنجاب کے راجپوتوں کی ایک ذات ہے۔ چناچہ آپؒاپنے علاقہ (محلہ) میں حسین جولاہا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ آپؒ کی پیدائش کے وقت‘ آپؒ کے والد شیخ عثمان ٹکسالی دروازے کے باہر راوی کے کنارے آباد ایک محلے میں رہائش پذیر تھے جو”تل بگھ“ کہلاتا تھا۔
شاہ حسین ؒدنیائے تصوف کے فرقہئ ملامتیہ سے تعلق رکھنے والے صاحب ِ کرامت صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپؒ اُس عہد کے نمائندہ ہیں جب شہنشاہ اکبر بادشاہ مسندِ اقتدار پر براجمان تھا۔ شاہ حسین ؒپنجابی زبان وادب میں ”کافی“کی صنف کے موجد ہیں۔آپ ؒپنجابی زبان کے اوّلین شاعر تھے جنہوں نے ہجروفراق کی کیفیات کے اظہار کیلئے عورت کی پُرتاثیر زبان استعمال کی۔ شاہ حسین ؒنے بے مثل پنجابی شاعری کی‘ اُن کی شاعری میں عشق ِ حقیقی کا اظہار ہوتا ہے۔
شاہ حسین کی ……اپنی زندگی ایک حصے میں مادھولال سے ملاقات ہوئی‘ مادھولال ایک برہمن زادے تھے۔ اِن دو شخصیات کا تعلق وربط اتنا گہرا ہو گیا کہ عوام شاہ حسینؒ کو مادھولال حسین کے نام سے جاننے لگے‘ گویا وہ دونوں یک جان ہوگئے‘ قربت کا گہرا تعلق جو اِن کے درمیان پیدا ہو تھا وہ ان کی زندگی میں ہی بہت ساری بدگمانیوں اور اختلافات کا باعث بن گیا۔ ہندوستانی تصوف کے ماہر……جان سبحان لکھتے ہیں کہ ایک ہندو لڑکے اور مسلمان فقیر کا یہ انتہائی قریبی تعلق ان کے معاصرین کے نزدیک”قابلِ شرم“ہونے کی وجہ سے ”قابلِ اعتراض کردار“کا مظہر تھا جبکہ جان سبحان ان دو افراد کے درمیان تعلق کی اس”ناقابلِ صبر کشش“کو ”عشق“ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح پنجابی تاریخ دان…… شفیع عاقل مادھولال اور شاہ حسینؒ کے اس تعلق کو”لامحدود محبت“کہتے ہیں۔ اور اس تعلق کو بیان کرنے کیلئے زبان و بیان کے وہی پیرائے اختیار کرتے ہیں جو عام طور پر مرد اور عورت کے تعلق کو بیان کرنے کیلئے اختیار کیے جاتے ہیں۔ چناچہ وہ لکھتے ہیں کہ”مادھولال سے شاہ حسین کو پیار تھا اور خود مادھولال بھی ان(شاہ حسین) کو چاہتے تھے۔“ وہ یہاں تک لکھتے ہیں کہ ”شاہ حسین مادھولال سے کسی صورت جدا ہونے پر آمادہ نہ تھے۔“
ادب کے میدان میں اکبر اعظم کا دور بڑے بڑے نابغوں کیلئے مشہور ہے، چناچہ شاہ حسین ؒکے ہمعصر ایک طرف فیضی، نظیری، عرفی اور خان خاناں تھے، تو دوسری طرف اغلباً داستان ہیر رانجھا کے پہلے پنجابی شاعر دمودر بھی تھے۔ ہندی اور بھگتی ادب میں بھی محرم نام لیے جا سکتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ شاہ حسین ؒ نے مرکز حکومت سے دور رہ کر بھی ادب کے میدان میں اپنا ایک ممتاز مقام پیدا کر لیا۔ چناچہ مختصراً یہاں ان کی اوّلیات درج کی جاتی ہیں۔
پنجابی میں وہ کافی صنف کے موجد تھے۔ پنجابی کے وہ پہلے شاعر تھے، جنہوں نے ہجر وفراق کی کیفیات کے اظہار کیلئے عورت کی پرتاثیر زبان استعمال کی۔ سب سے پہلے داستانِ ہیررانجھا کو بطورِ عشق ِ حقیقی کی تمثیل کو اپنے شعری کلام میں سمویا۔ اپنے پیشے بفندگی کے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء و آلات کوبھی مثلاًچرخہ‘ سوت‘ تانا‘ بانا وغٖیرہ کو صوفیانہ اور روحانی معنی پہنائے۔ ان کے بعد یہ پنجابی کا جزو لاینفک بن گئے۔ پنجابی کو ایسے مصرے‘ تشبیحات اور موضوعات دیئے کہ ان کے آنے والوں نے یا تو ان کو اپنی طرف منسوب کر لیا یا پھر ان پر طبع آزمائی کی کوشش کی۔
شہرِ اولیاء لاہور میں برس ہا برس تک درویشانہ رقص و سرورکی محفلیں آباد کرنے کے بعد……آخر کا ریہ درویش اور صوفی بزرگ و شاعر 1599ء میں 60,61 سال کی عمر میں اِس دنیائے فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کوچ کر گئے مگر تصوف کی دنیا میں ان کا ”نام“ آج بھی گونج رہا ہے۔ شاہ حسین ؒکی قبر اور مزار لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ہے۔ جہاں ہر سال ”میلہ چراغاں“کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔
مادھولال……شاہ حسین ؒ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد تقریباً اڑتالیس سال تک زندہ رہے۔ اور جب مادھولال نے بھی اس دنیا سے رخت ِ سفر باندھا تو انہیں شاہ حسین ؒکے برابر میں ایک مقبرے میں دفنا دیا گیا۔ یہ مزار آج تک عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد کا مرجع ہے کہ یہاں جدا نہ ہو سکنے والے دو ایسے عاشقوں کی قبریں ہیں جو مرنے کے بعد بھی عین اسی طرح ایک ہیں جیسے اپنی زندگی میں تھے۔

Leave a Reply

Back to top button