الیکشنبار بار جیتنے والے سیاستدانسینئر رہنما و سیاستدان

رضا ربانی ….. مسٹر کلین

سینئر رہنما و سیاستدان
پاکستان کی سیاست میں مسٹر کلین کے نام سے مشہور ہیں
قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی میاں عطا ربانی کے صاحبزادے رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماﺅں میں شمار ہوتے ہیں۔ رضا ربانی 2015کے سینٹ انتخابات کے بعد سے اب تک سینٹ کے چیئرمین ہیں،رضا ربانی 1993 کے بعد سے چھ بار سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں ۔ یہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔انھوں نے قومی سیاست میں 1988سے آغاز کیا۔1993میں وفاقی وزیر انصاف رہے ۔ 18ویں آئینی ترمیم میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔
یہ 23جولائی1953کولاہور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پارٹی میں دیگر اہم عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔میاں رضا ربانی کالج زندگی میں ہی سیاست میں آ گئے تھے ۔ یہ نیشنل آرگنائزیشن آف پروگریسو سٹوڈنٹ کے بانی چیئرمین ہیں ۔یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک قابل قدر سرمایہ ہیں۔
رضاربانی بے نظیر بھٹو کے ایک قریبی ساتھی تھے جنھوں نے انہیں 1997 میں پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور 2005 میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تعینات کیا۔ بااصول اور پاکستانی سیاست کے ” مسٹر کلین” کے طور معروف رضا ربانی کے بے نظیر بھٹو سے بھی 2007 میں اختلافات ہوگئے تھے، جب پی پی چیئرپرسن نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف سے قومی مفاہمتی آرڈنینس پر ایک ڈیل کرلی تھی، اس وقت رضا ربانی کا کہنا تھا کہ یہ میثاق جمہوریت کی روح کے خلاف ہے جس پر پی پی پی اور نواز لیگ نے دستخط کیے تھے۔
وہ نہ صرف فوجی آمریت کے سخت مخالف ہے بلکہ سویلین امور میں فوج کے کسی قسم کے کردار کی بھی مخالفت کرتے ہیں اور وہ آمریت کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور جمہوریت بحالی اتحاد کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرچکے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے 2008 میں عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے جب وفاق میں اپنی حکومت قائم کی،تو انہوں نے ابتدا میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کردیا کیونکہ وہ اس وقت کے صدر پرویز مشرف سے حلف نہیں لینا چاہتے تھے۔
پیپلزپارٹی نے انہیں سینیٹ میں قائد ایوان بنادیا اور پرویز مشرف کی روانگی کے بعد وہ بین الصوبائی رابطوں کے وفاقی وزیر بن گئے۔
مگر مارچ 2009 میں آصف علی زرداری نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کو منتخب کرتے ہوئے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے نامزد کردیا جس کے بعد رضا ربانی کابینہ اور سینیٹ میں قائد ایوان کے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔
تین ماہ بعد آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور میں مہارت رکھنے والے رضا ربانی کو آئینی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا، اس کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں 2010 میں 18 ویں آئینی ترمیم وجود میں آئی۔اس ترمیم کی منظوری کے بعد وہ اس کی عملدرآمد کے حوالے سے قائم کمیشن کے چیئرمین بن گئے۔
مئی 2013 میں پیپلزپارٹی کو عام انتخابات میں شکست کے بعد آصف زرداری نے رضا ربانی کو جماعت کا ایڈیشنل سیکرٹری جنرل بنادیا اور انہیں ملک بھر میں پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کا ٹاسک دیا، جبکہ وہ 2013 میں پی پی کے صدارتی امیدوار بھی بنے مگر اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے نواز لیگ کی درخواست پر انتخابی شیڈول تبدیل کیے جانے پر الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔
اپنے پارلیمانی کام پر انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا جبکہ وہ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button