مختصر تحریریں

رفعتِ خیال ہی حُسنِ خیال ہے…… ارم صبا

رفعتِ خیال کسی جستجو کی محتاج نہیں ہوتی یہ تو نصیب کی بات ہے جسے عطا ہو جائے…… ہو جائے۔ یہ نعمت کبھی تو ایک لمحے میں عطا ہو جاتی ہے تو کبھی ساری زندگی گزار کر بھی ہاتھ نہیں لگتی۔

رفعتِ خیال حقیقت میں لطافتِ خیال ہے جو کثافت خیال سے یکسر مختلف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے پیمانے ہیں جن سے گزر کر حسنِ خیال کی بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے۔ رفعتِ تخیلات کے اسرارورموز کیا ہیں، کیا ظاہر کا زوال اور باطن کا عروج رفعت خیال ہے؟

ہم جب تک فنا اور بقا کے اندر چھپے معانی کو نہ سمجھ لیں، باطن سے آشنائی نہ حاصل کر لیں، ہم بلند خیالات کی سلطنت کے مکین نہیں بن سکتے۔ ایک ایسا انسان جس کے نزدیک مادیت ہی مقصدِ حیات ہو، جس کا دل مادی دنیا کی تمناؤں سے لبریز ہو، جو اپنے نفس کی تسکین اور لذت وجود میں کھویا رہے، جو حاصل اور وصول کی جمع تفریق میں الجھا رہے، وہ فروغ خیال کے رتبے کو کیا پہچانے گا۔

حسن خیال وہ بلندی خیال ہے جس کی جڑ میں جذبہِ ایثار، بلند فکری، سوزوگداز اور زندگی کو منفعت بخش بنانا ہو، جو خود پرستی کی تمنا سے آزاد ہو جو لذتِ وجود کے سحر میں نہ گھرا ہو اور اندیشوں سے آزاد ہو۔ حسن خیال وہ نعمت ہے جسے اپنی ذات کی گہرائیوں میں تلاش کر کے تراشا جاتا ہے، جیسے جوہری پتھر کو تراش کر کے ہیرا بناتا ہے اسی طرح عام خیال کو رفعت خیال کے سانچے میں ڈھالنا ہی حسنِ زندگی بلکہ حاصل زندگی ہے۔

واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا کہ جس کے مزاج میں دینا نہیں ہے، اس کے نصیب میں بلند خیالی نہیں آ سکتی۔ خود غرضی کا الٹ بے غرضی ہی بلند خیالی ہے۔ اپنے حاصل کو تقسیم کرنے والا، وجودِ ذات کو دوسروں کے لئے وقف کرنے والا، لوگوں کو زر اور ذات پرستی کے خوفناک نتائج سے آگاہی دلانے والا ہی خاک نشین سے عرش نشین کی رسائی حاصل کرتا ہے۔ جو بڑے نصیب کی بات ہے یہی تو حسن خیال کا راز ہے، یہی تو روحِ رفعت خیال ہے…… اور رفعتِ خیال ہی حسنِ خیال ہے!

Leave a Reply

Back to top button