تازہ ترینفن اور فنکار

رنگ محل: ڈرامہ سیریل جس میں ہر اداکار نے اپنا کردار بخوبی بنھایا

اگر بات کی جائے علی انصاری کی تو وہ ہر ڈرامہ کو چیلنج کی طرح لیتے ہیں اور پھر اس کو بخوبی نبھاتے ہیں. علی انصاری ہر آنے والے ڈرامے کے ساتھ مزید نکھر کر آتے ہیں اور اس ڈرامے میں بھی وہ پہلے سے بھی بہترین روپ میں نظر آئے ہیں. ہر ڈرامے کے ساتھ ان کی اداکاری بھی بہترین انداز میں سامنے آرہی ہے.

رنگ محل سیون سکائی کا مشہور ڈرامہ سیریل ہے. جس نے پاکستانی ڈراموں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں. اس کو یو ٹیوب پر بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی ہے.

اس کے مرکزی کرداروں میں سحر خان، علی انصاری، ہمایوں اشرف اور عاصم محمود شامل ہیں.

جب سے ڈرامہ ریلیز ہوا ہے تب سے ہی بہت مقبول ہے اور ہر آنے والی قسط کے ساتھ ناظرین میں تجسس مزید بڑھ جاتا ہے.

چونکہ اب ڈرامہ اب اپنے اختتام پر پہنچ گیا ہے تو تمام تر تجسس مکمل ہو گئے. اس سے قبل تک ناظرین یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ آخر میں ماہ پارہ کس کو اپنے جیون ساتھی کے روپ میں چنے گی،سالار یا رائد. لیکن اب اس حقیقت سے بھی پردہ اُٹھ چکا ہے.

اس ڈرامے نے اداکارہ سحر خان کی مقبولیت میں بے حد اضافہ کیا گیا ہے. اس ڈرامہ سے ان کی اداکاری کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی ہیں. ان کی عمدہ اداکاری کے سبب ہی ڈرامہ آج ان اونچائی پر پہنچا. ان کے انداز سے لے کر لفظوں کی ادائیگی، ان کے تاثرات سے لے کر ان کا اندازِ بیان، سب ہی بہترین تھا. اداکار بلال قریشی نے بھی ان کی عمدہ اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی باقی اداکاروں کو ان سے سیکھنا چاہیے کہ عمدہ طریقے سے غریب لڑکی کے کردار کو کس طرح نبھایا جانا چاہیے.

ان کے علاوہ اگر بات کی جائے علی انصاری کی تو وہ ہر ڈرامہ کو چیلنج کی طرح لیتے ہیں اور پھر اس کو بخوبی نبھاتے ہیں. علی انصاری ہر آنے والے ڈرامے کے ساتھ مزید نکھر کر آتے ہیں اور اس ڈرامے میں بھی وہ پہلے سے بھی بہترین روپ میں نظر آئے ہیں. ہر ڈرامے کے ساتھ ان کی اداکاری بھی بہترین انداز میں سامنے آرہی ہے.

علی انصاری کی اداکاری اس ڈرامے میں بھی بہترین رہی اور انہوں نے اپنے کردار کو بخوبی نبھایا ہے.

اب اگر بات کی جائے ہمایوں اشرف کی تو یقیناً وہ بہترین ویلن کے اعزاز کے حقدار ہیں. انہوں نے جس بہترین انداز میں منفی کردار ادا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے. ہمایوں اشرف کی اداکاری نے بیشک ڈرامے میں جان ڈال دی ہے. ان کے کردار کی بدولت ہی تو ایماندار کرداروں کو پہچان ملی کیونکہ اگر برائی نہ ہو تو اچھائی کی پہچان کس طرح ہو سکتی ہے. اسی لئے ان کا کردار ڈرامے میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور ہمایوں اشرف نے بھی کردار میں مکمل جان ڈال دی ہے اور اس کو عمدہ ترین انداز میں نبھایا ہے.

اب بات کی جائے تو کہانی کے چوتھے اور اہم ترین کردار کی، سالار. تو عاصم محمود سالار کے روپ میں بہترین انداز میں سامنے آئے. سالار کی ماہ پارہ کے لیے لازوال محبت نے ڈرامہ میں ایک نیا رنگ ڈال دیا. سالار کا ہر حالات میں ماہ پارہ کا ساتھ دینا اور اس کے ساتھ عاصم کی عمدہ کارکردگی تعریف کی حقدار ہے. اسی بدولت ان کا ہر زبان پر چرچا عام ہے.

کہانی کی بات کی جائے تو کہانی تھوڑی مصالحہ دار تھی جو کئی اتار چڑھاؤ سے گزری. ہر آنے والی قسط نے ناظرین کو لاجواب کر دیا اور وہ داد دینے پر مجبور ہو گئے.

کہانی مرکزی کردار ماہ پارہ کے گرد گھومتی ہے جو اپنے بابا کے مالکان کے ہاں رہتی ہے. ماہ پارہ مالکان کے چھوٹے بیٹے رائد سے محبت کرتی ہے اور کہیں نہ کہیں رائد بھی دل میں ماہ پارہ کو پسند کرتا ہے لیکن اس کا بڑا بھائی سہیل ماہ پارہ پر غلط نظریں جما لیتا ہے اور جب وہ سب کو اس کی حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا اور اس کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے.

پھر اس کی زندگی میں سالار آتا ہے اور وہ ماہ پارہ کو پسند کرتا ہے. وہ ہر مقام پر اس کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور پھر ماہ پارہ کے انتقام کی کہانی شروع ہوتی ہے اور پھر آخر وہ گھڑی آ جاتی ہے جب رائد کے سامنے اپنے بھائی سہیل کی اصلیت اور ماہ پارہ کی بے گناہی آتی ہے.

آخرکار ماہ پارہ رائد کو اپنا جیون ساتھی چنتی ہے.

مجموعی طور پر ڈرامہ کمرشل ہٹ ثابت ہوا. پاکستانی ڈراموں کی جو ٹی آر پی کچھ عرصے سے کم آرہی تھی وہ اس ڈرامہ سے پھر سے بلندیوں پر آ گئی. یقیناً یہ ایک شاندار اور ہمیشہ یاد رکھے جانے والے ڈراموں میں سے ایک ہے.

آپ کو آخری قسط کیسی لگی؟

Leave a Reply

Back to top button