HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » روزہ رضائے الہٰی کے حصول کابہترین ذریعہ ہے

روزہ رضائے الہٰی کے حصول کابہترین ذریعہ ہے

پڑھنے کا وقت: 8 منٹ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل …..

ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پرفرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایاہرشے کے لئے زکوٰة ہے اوربدن کی زکوٰة روزہ ہے اورروزہ نصف صبرہے ۔(ابن ماجہ)

روزہ دین اسلام ایک اہم رکن ہے ۔اس آیت کریمہ میں عربی زبان کالفظ صیام یاصوم اس کے لغوی معنی اوراصلاحی معنی لغت میں صوم کامطلب ہوتاہے۔ کسی شے سے رک جاناکسی شے سے بازرہنا”قرآن مجیدفرقان حمیدمیں حضرت مریم علیہ السلام کاتذکرہ موجودہے کہ جب وہ قوم کی طرف آئیں توان کے پاس ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجودتھے اورانہیں خدشہ تھاکہ لوگ مجھ پرتنقیدکریں توخالق کائنات اللہ رب العالمین نے ان سے کہا۔قُولِی جب لوگ تم سے پوچھیں توتم کہہ دینا میں نے اللہ پاک کے روزے کی منت مانی ہے ۔

تو میں کسی آدمی سے گفتگونہیں کروں گی ۔جوبھی تجھ سے پوچھے کہ شادی کے بغیریہ بچہ کیسے پیداہواتوتم اس سے کہہ دیناکہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذرمانی ہے لہذامیں کسی سے گفتگونہیں کروں گی۔قرآن مجیدکے اس مقام پربات کرنے سے رکنااور جواب نہ دینااس کوصوم کہاگیاہے تویہ لغت میں صوم کامعنی ہے کہ کسی چیزسے بازرہنااوررک جاناخواہ کوئی چیزہوکوئی امرہواس لحاظ سے لفظ صوم کو استعمال کیاگیاہے اس لحاظ سے شرعی اصطلاح کے اندرجب ہم یہ لفظ بولتے ہیں اسکاخاص مفہوم ہوتاہے شریعت میں روزہ سے مراد یہ ہے کہ دن کے وقت ایسی تمام چیزوں سے بازرہناجس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اوریہ بازرہنانیت کی وجہ سے ہواور اس کاوقت طلوع فجرسے لے کر غروب آفتاب تک ہے اورنیت اس کی طرف سے ہوکہ جونیت کااہل ہے ایسی حیثیت کوروزہ کہاجائے گا۔

سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا”ہرگھرکاایک دروازہ ہوتاہے اورعبادت کادروازہ روزہ ہے نیزروزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے ۔کتب فقہ میں روزہ کی درج ذیل اقسام بیان ہوئی ہیں ۔

پہلی قسم فرض معین یعنی ماہ رمضان کے روزے دوسری قسم فرِض غیرمعین یعنی ماہ رمضان کے قضاءشدہ روزے ،تیسری قسم واجب معین کسی خاص دن یاتاریخ میں روزہ رکھنے کی منت مانیں تواسی دن یاتاریخ کوروزہ رکھناواجب ہے ۔چوتھی قسم واجب غیرمعین یعنی کفارے کے روزے ،نذرغیرمعین کے روزے اورتوڑے ہوئے نفلی روزوں کی قضاء۔پانچویں قسم سنت یعنی محرم الحرم کی نویں اوردسویں تاریخ کے روزے ،عرفہ یعنی ۹ذی الحجہ کاروزہ اورایام بیض یعنی قمری مہینے کی ہرتیرہویں ،چودہویں اورپندرہویں تاریخ کے روزے ۔چھٹی قسم نفل یعنی ماہ شوال کے چھ روزے ،ماہ شعبان کی پندرہویں تاریخ کاروزہ سوموارجمعرات اورجمعہ کاروزہ ۔ساتویں قسم مکروہ تنزیہی یعنی محرم الحرام کی صرف دسویںتاریخ کاروزہ ،صرف ہفتہ کے دن کاروزہ رکھنا،عورت کاخاوندکی اجازت کے بغیرنفلی روزے رکھنا۔آٹھویں اورآخری قسم مکروہ تحریمی یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کے روزے اورایام تشریق یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں ،بارہویں اورتیرہویں تاریخ کے روزے رکھنا۔روزے کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے ۔

حضرت آدم علیہ السّلام ایام بیض کے روزے رکھتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت پرعاشورہ کے دن کاروزہ اورہرہفتہ میں سینچرکے دن کاروزہ رکھنافرض تھاحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت پراسی ماہ رمضان کے روزے فرض تھے ۔مگرجب رمضان المبارک کامہینہ موسم گرمامیں تشریف لاتاتوکہتے) جس طرح آج ہم امت محمدیہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہوکرکہتے ہیں (کہ ایسی گرمی میں روزہ رکھنادشوارہے جب سردیاں آئیں گی توتیس کی بجائے پچاس روزے رکھ لینگے یعنی بیس روزے زائد رکھ لینگے۔

روزے اوردوسری عبادتوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ دوسری عبادتیں ایسی ہیں کہ ان کالوگوں کوبھی پتاہوتاہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کاصرف بندے اوراس کے رب کوپتہ ہوتاہے اس عبادت میں خلوص بہت زیادہ ہے اسلئے اس کاثواب بھی بہت زیادہ ہے ۔رمضان المبارک کامہینہ ایک مقدس مہینہ ہے کیونکہ اس ماہِ مقدس میں انسان کے اندر د ینی مزاج اورصبرو تقویٰ پیداکرنے کے لئے مخصوص دینی فضاپیداہوجاتی ہے بظاہرروزہ ایک مشقت والی عبادت ہے ۔لیکن حقیقت میں اپنے مقصداورنتیجے کے لحاظ سے یہ دنیامیں موجب راحت اورآخرت میں باعث رحمت ہے ماہ رمضان کے پورے مہینے کے روزے فرض قراردیے گئے ہیں ۔

اب کوئی شخص بھی ایمان کے تقاضوں کی تکمیل میں اوربارگاہ الٰہی میں ایمان وثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے ر وزے رکھتاہے اوراس کی راتوں میں قیام کرتا ہے تواپنے سابقہ تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے ۔کیونکہ روزہ داراللہ کے حکم تعمیل کرنے کے لئے دن بھرمیں کچھ نہیں کھاتاپیتااپنی تمام نفسانی خواہشات سے پرہیزکرتاہے تواللہ پاک بھی راضی ہوتاہے اورساراماہ بابِ کرم کھول دیتاہے ۔روزہ کی حالت میں کئی ایسے کام ہیں جوروزہ کے خلوص کوختم کردیتے ہیں ۔

روزہ دارروزے کے پورے ثواب سے محروم رہ جاتاہے مثلاًروزہ کی حالت میں لڑائی جھگڑاکرنا، چغلی کھانا،رشوت لینا،گالی گلوچ یا کسی کی غیبت کرناجھوٹ بولناحرام کھاناوغیرہ جولوگ ان چیزوں سے نہیں بچتے توان کے بارے میں سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کافرمان عالی شان ہے "جوشخص جھوٹ اورگناہ کاکام نہ چھوڑے اس کابھوکاپیاسا رہنے کی اللہ تعالیٰ کوکوئی ضرورت نہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک اورمقام پرارشادفرمایا”کتنے روزہ دارہیں جن کوبھوکاپیاسارہنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا”۔(بخاری شریف)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاتین شخص کی دعاردنہیں کی جاتی ”روزہ دارجس وقت افطار کرتاہے اوربادشاہ عادل اورمظلوم کی دعا۔اسکواللہ تعالیٰ ابرسے اوپربلندکرتاہے اوراس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اوررب عزوجل فرماتاہے مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ضرورتیری مددکروںگااگرچہ تھوڑے زمانہ بعد۔(ترمذی،ابن ماجہ)

حضرت سیدناعبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایااللہ رب العالمین روزانہ افطارکے وقت دس لاکھ ایسے گناہ گاروں کوجہنم سے آزادفرماتاہے جن پرگناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکاتھانیزشب جمعہ اورروزجمعہ (یعنی جمعرات کوغروب آفتاب سے لیکرجمعہ کوغروب آفتاب تک)کی ہرگھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہگاروں کوجہنم سے آزادکیاجاتاہے جوعذاب کے حقدارقرار دیے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (کنزالعمال) حضرت ابوسعیدخدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاجس نے رمضان کاروزہ رکھااوراس کی حدودکوپہچانااورجس چیزسے بچناچاہیے اس سے بچاتوجوپہلے کرچکاہے اس کاکفارہ ہوگیا۔(ابن حبان ،بیہقی)

امام غزالی ؒفرماتے ہیں کہ روزہ کے تین درجے ہیں ایک عام لوگوں کاروزہ کہ پیٹ کوکھانے پینے اورشرمگاہ کوجماع سے روکنا،دوسراخواص کاروزہ کہ کھانے پینے اورجماع کے علاوہ کان ،آنکھ،زبان،ہاتھ پاﺅں اورباقی تمام اعضاءکوگناہوں سے روکنا۔تیسرادرجہ خاص الخاص کاہے کہ جمیع ماسوی اللہ سے اپنے کوبالکلیہ جداکر کے صرفِ ذات خداکی طرف متوجہ ہونا۔(احیاءالعلوم )

جواب دیجئے