تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

روغن صنوبر: مختلف اقسام کے کینسر کا موثر علاج

اینٹی سیپٹیک، اینٹی اسپاسموڈک، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی تھرمیٹک خصوصیات کے حامل صنوبر کے تیل میں مونو ٹرپین ہائیڈرو کاربنز 50 سے 90 فیصد پائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ پائی نینز، کیرٹن، پائی پینٹین، لیمونین، ٹرپائی نینز، مرسین، اوسی مین، کیمفین، سیبی ٹین، بورنائل ایسی ٹیٹ، سائی نیول، سٹرال، کیمازولین اور دیگر مادے پائے جاتے ہیں۔

صنوبر ایک سدا بہار طویل قامت درخت ہے جو ایک چپٹے تاج کے ساتھ 40میٹر تک بلند ہو جاتا ہے۔ اس کی چھال سرخی مائل بھوری اور گہرے شگاف یا دراڑیں رکھتی ہیں۔ صنوبر درختوں کا ایک خاندان ہے جس میں کم و بیش 115 مختلف قسم کے درخت پائے جاتے ہیں۔ یہ سبھی لمبے اور نوکیلے پتوں والے ہوتے ہیں اور زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں اگتے ہیں۔ چیڑ اور چلغوزہ بھی اسی خاندان کے درخت ہیں۔

صنوبر کا اصل وطن یوریشیا ہے۔ لیکن اب اس کی کاشت مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یورپ، روس، بلقانی ریاستیں اور سکنڈے نیویا بالخصوص فن لینڈ میں ہوتی ہے۔ اس کی لکڑی سے نباتی تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ جو طبی اعتبار سے زیادہ مفید اور محفوظ ہوتا ہے۔

صنوبر میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی سیپٹیک، اینٹی اسپاسموڈک، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی تھرمیٹک خصوصیات کے حامل صنوبر کے تیل میں مونو ٹرپین ہائیڈرو کاربنز 50 سے 90 فیصد پائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ پائی نینز، کیرٹن، پائی پینٹین، لیمونین، ٹرپائی نینز، مرسین، اوسی مین، کیمفین، سیبی ٹین، بورنائل ایسی ٹیٹ، سائی نیول، سٹرال، کیمازولین اور دیگر مادے پائے جاتے ہیں۔

صنوبر کے طبی فوائد:

کینسر کا علاج:
ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ صنوبر کے درخت سے ایک مرکب حاصل کیا جاتاہے جو کئی اقسام کے کینسر میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکا میں پورڈیو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹروں نے چینی صنوبر کے درخت میں ’کمپاؤنڈ 29‘ مرکب دریافت کیا ہے۔ کمپاؤنڈ 29 ایک پروٹین SHP2 کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ چھاتی، منہ، جگر، پھیپھڑے اور دیگر اقسام کے سرطان میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

زخموں اور انفیکشن کا علاج:
صنوبر کے تیل میں اینٹی سیپٹیک خصوصیات ک کی بدولت یہ زخموں کو بڑی تیزی سے ٹھیک کرتا ہے۔ یہ بیرونی اور اندرونی دونوں زخموں کا علاج کرتا ہے، اور انفیکشن سے بچاتاہے۔

درد اور پٹھوں میں کھنچاؤ:
اینٹی اسپاسڈوڈک خصوصیات کی وجہ سے یہ دردوں اور پٹھوں میں کھنچاؤ جیسے مسائل کا موثر علاج ہے۔ ٹانگوں کے سنڈروم کو دور کرنے میں کارآمد ہے۔اس کے تیل کی مالش خون کے بہاؤ کو متحرک کرتا ہے اور سوجن کا خاتمہ کرتا ہے۔

زہریلے مادوں کو نکالنا:
صنوبر کا تیل جسم سے زہریلے مادے کو باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔اس سے پسینہ آنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے، چنانچہ جسم سے زہریلے مادے اور زائد مقدار میں نمک اور پانی خارج ہوجاتا ہے۔یہ کیل مہاسوں کو بھی بننے سے روکتا ہے۔

خون کے بہاؤکو روکنا:
صنوبر کا تیل خون کے زیادہ بہاؤ کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں خون کو جمانے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ شدید زخم کی صورت میں بہنے والے خون کو یہ روک دیتا ہے۔ یہ حیض کی صورت میں زیادہ خون بہنے کے مسئلے کا بھی موثر علاج ہے۔

نظام تنفس:
صنوبر کا تیل سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں پیدا ہونے والے بلغم کو ختم کرتا ہے۔جس سے سانس لینے میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ دمہ اور سانس کے دیگر امراض میں نہایت مفید ہے۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی بنا پر یہ گلے کی انفیکشن کا بھی موثر علاج ہے۔

توانائی میں اضافہ:
صنوبر کے پھل کی گریاں بحالی صحت کیلئے اور بالخصوص طویل بیماری کے بعد تونائی بحال کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

بے چینی دور کرے:
صنوبر کے تیل کی خوشبو سے ایک خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور انرجی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بے چینی دور کرنے کا موثر طریقہ ہے۔اس کی خوشبو سے جسم پر سکون ہوجاتا ہے۔ اس کے تیل کے چند قطرے نہانے والے پانی ملا کر غسل کیا جائے تو جسم میں طاقت اور تونائی محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ نیند بھی پرسکون آئے گی۔

صنوبر کے تیل کے دیگر استعمال:
صنوبر کا تیل فارما سیوٹیکل اور کاسمیٹکس اندسٹری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسے صابنوں میں ملایا جاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ صابن جسم پر موجود بیکٹیریاز کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ جلد کو پھٹنے سے روکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button