منتخب کالم

ریوڑ کو رستہ دو…… ڈاکٹراخترشمار

صاحب اسلوب کالم نگار حسن نثار قوم اور سماج کو آئینہ دکھاتے رہتے ہیں مجھے ان کی یہ بات ہمیشہ اہم ترین لگتی ہے کہ جب تک قوم کو اخلاقی طورپر بلند نہیں کیا جاتا ہم کبھی ایک بہترین قوم کا درجہ نہیں پاسکتے۔ گویا ہمارے اخلاق درست ہونے والے ہیں۔ ہماری تربیت بہت ضروری ہوگئی ہے وجہ یہ ہے کہ بطور قوم ہم ”کرپٹ“ ہوگئے ہیں۔ ایک سبزی والا بھی پانی ڈال کر سبزی کو بھاری کردیتا ہے۔ پھل فروش گلے سڑے پھل ہر پیکٹ میں ایک دوضرور ڈالتا ہے اور پورا نہیں تولتا۔ نان بائی نے نان لگاتے وقت پیڑے میں سے آٹا نکال کر اسے کچھ چھوٹا کردیا ہے، کیا کیا نہیں ہورہا۔ صرف کھانے پینے کی اشیاءکی بات کریں تو وہ بھی خالص نہیں ملتیں۔ ادویات تک نا خالص ہیں ۔ جعلی دوائیاں بےچ کر انسانوں کی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے۔ بھئی آپ ملاوٹ کرلیں مگر کھانے پینے کی اشیاءاور ادویات میں تو ملاوٹ نہ کریں کہ اس کا تعلق براہ راست انسانی زندگی سے ہے مگر یہاں تو پانی کی بوتل میں بھی ”منرل واٹر“ کے نام پر عام نلکے کا پانی بھر کے بیچا جارہا ہے۔
ہم ہمیشہ حکومتوں کو روتے ہیں حکومت کا نظام بھی خراب ہے مگر ہم خود بھی خراب ہیں۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کرنے کو ہمیں حکومت مجبور نہیں کرتی ہم خود اندر سے بددیانت ہوچکے ہیں۔ ہم روزہ رکھ کر غلط تولتے ،بولتے ہیں۔ ہم سال بھر اپنے ملازمین، اور اپنے سے کم تر حیثیت والے کی دل آزاری کرتے ہیں دوسروں کا حق چھینتے ہیں، سودکھاتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں رشوت لیتے ہیں اور اس دولت سے پھر عمرے اور حج کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ آئین میں تو نہیں لکھا ہوا۔ ہم اس دیس کے باسی یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ اگر سب سے پہلے ہم بطور انسان اپنی اصلاح کرلیں تو دوسروں سے کئی شکوے خود بخود دم توڑ جائیں۔ہم میں سے ہر کوئی سچا کھرا پکا مسلمان ہے جو دوسرے ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس میں عیب تلاش کرتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا لپکا ہے ہم غیبت اور چغلی کے بغیر چند گھنٹے نہیں گزار سکتے۔
ہم دوسروں کو نصیحت کرنے میں ذرا نہیں چوکتے بھلے وہی عادت یا کجی خود ہم میں بھی ہو۔کہنے کو مسلمان ہیں مگر سنی سنائی بات پر بڑے بڑے تبصرے اور تجزیے کرتے ہوئے اپنی رائے مقدم سمجھتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے دنیا فانی ہے ہم سے پہلے ہمارے عزیزواقارب دوست اور بڑے بڑے دولتمند بادشاہ زمیندار، تاجر اور اثرورسوخ والے بھی چلے گئے انہیں موت کے منہ سے کوئی نہ بچا سکا۔
یہ سب کچھ جان کر بھی ہم اس دنیا میں لمبی پلاننگ کرتے ہیں اور جائیدادیں اور بینکبیلنس بڑھانے کے لیے ہر جائز ناجائز طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے کتنی ہی عبرت ناک کہانیاں موجود ہیں بڑے بڑے حکمران بادشاہ اتنا راج کرنے کے بعد ذات ورسوائی سمیٹ کر دربدر ہوئے اور بُرے حال میں مرے۔ پھر بھی ہم نہیں سمجھتے۔ اور دنیا کے سراب کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
کیا ہمیں سب سے پہلے آنے والی نسلوں کی تربیت کا بندوبست نہیں کرنا چاہیے۔ انسان بننے کے لیے اعتدال اور ضبط نفس کی تعلیم و تربیت بے حد ضروری ہے۔ کیا اس کے لیے ہمارا کوئی تربیتی ادارہ موجود ہے۔ جدید تعلیمی درس گاہوں میں ہمیں صرف اورصرف دولت کمانے کے بارے میں علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ اور مدرسوں سے ملائیت فروغ پارہی ہے۔ وہی ملائیت جس میں خود کو اعلیٰ درجے کا مسلمان سمجھنا اور دوسروں کو حقیر اور کم تر گناہگار سمجھ کر ، اسے تضحیک کا نشانہ بنانا…. اگر قدیم وجدید دونوں سطحوں پر ”انسانیت“ کا عملی نمونہ ”اچھے شہری“ اور انسان بنانے کی تعلیم و تربیت دی جائے تو یہ سماج بہت خوبرو شاداب اور عافیت کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔ ہمارے دین میں یہ سب کچھ ہے مگر عملی طورپر خود پر نافذ کرنے کی تاکید ہے۔
بعد تبصرہ فیثاغورث کے چند افکار بھی پڑھنے لائق ہیں. وہ کہتا ہے :
ریوڑ کو راستہ دو (ہجوم سے ٹکر نہ لو)
آبشاروں میں پتھر پھینکنا حرام ہے (اچھے لوگوں کو اذیت دینا جرم ہے)
اس سانپ کو مت مارو جو آپ کی دیوار سے لپٹا ہو (پناہ میں آنے والے دشمن کو مت ماریں)
خدا ننگے پاﺅں رہنے کو پسند کرتا ہے۔ (دُعا اور دل کی عاجزی خدا کو پسند ہے )

Leave a Reply

Back to top button