کالم

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا…… میم سین بٹ

ہمیں جمہوریت پسند دانشورکالم نگار اچھے لگتے ہیں، اردو اخبارات کے کالم نگاروں میں حقیقی جمہوریت پسندوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور طارق احمد کی اس عارضی دنیا سے رخصتی نے ان کی تعداد میں مزیدکمی کر دی ہے۔ طارق احمد ہمارے لڑکپن کے دوست فاروق نسیم کے والد ڈاکٹر نسیم ریاض بٹ کے شاگرد رہے تھے جو پنجاب یونیورسٹی شعبہ انگریزی کے چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ طارق احمدخود بھی انگریزی ادبیات کے استاد رہے تھے۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور میں لیکچررمقرر ہونے سے قبل غالباََ پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر بھی رہے تھے۔ ان سے ہمارا غائبانہ تعارف جنرل (ر) پرویزمشرف کے آمرانہ دور میں ہوا تھا۔ ان دنوں ہم فیصل آباد میں نوائے وقت بیورو کے رپورٹر ہوتے تھے اور روزنامہ دن میں طارق احمد کے مزاحمتی کالم پڑھاکرتے تھے۔ ان کی ”آخری اننگز“ کے نام سے کتاب بھی چھپی تھی، اس زمانے میں وہ بھاری بھرکم مونچھیں رکھتے تھے اسی طویل دور آمریت میں وہ اچانک منظر سے غائب ہو گئے اور درس وتدریس کا پیشہ بلکہ وطن ہی چھوڑکر فیملی سمیت انگلینڈ چلے گئے تھے۔
چند برس قبل وہ ہمیں فیس بک کی دنیا میں اچانک مل گئے۔ اب وہ کلین شیوڈ ہو چکے تھے۔ ہم دونوں فیس بک فرینڈ بن گئے۔ وہ استاد محترم عطاء الحق قاسمی کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ ان دونوں میں قدرے مماثلت بھی پائی جاتی تھی، دونوں لاہوریئے پروفیسر اورکالم نگار تو تھے ہی ان کی اولاد بھی تین بیٹوں پر مشتمل تھی، طنزومزاح نگاری بھی دونوں کی شخصیت میں مشترک عنصر رہا۔پاکستان اور برطانیہ میں دونوں ایک دوسرے کے مہمان و میزبان بنتے رہے۔ طارق احمد دو سال پیشتر پاکستان آئے تو لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ان سے بالمشافہ پہلی مختصر ملاقات ہوئی تھی جو آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ طارق احمدکا تعلق راجپوت خاندان سے تھا جو پہلے دیہی علاقے میں مقیم تھا پھر ان کا گھرانہ شہر منتقل ہو گیا۔ لاہور میں طارق احمد بیڈن روڈ پر مقیم رہے تھے۔ پہلے کرشن نگر میں بھی رہتے رہے تھے بلکہ وہ کرشن نگر والے گھر میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ انہیں اپنے شہر لاہور سے بہت لگاؤ تھا۔ پردیس میں رہتے ہوئے اپنی تحریروں میں اکثر لاہورکا ذکرکرتے رہتے تھے۔ ہم بھی جب کبھی لاہور شہربالخصوص ریگل چوک، بیڈن روڈ اور رائل پارک وغیرہ کے حوالے سے کوئی تصویر یا تحریر فیس بک پر رکھتے تو وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار ضرورکیا کرتے تھے۔ ان کی جمہوریت کے حوالے سے ہر پوسٹ بہت پسند کی جاتی تھی تاہم کچھ فیس بک فرینڈ اختلاف بھی کیاکرتے تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق تحریک انصاف سے ہوتا تھا۔ ہم فیس بک پر ان کے روزنامہ نئی بات میں چھپنے والے کالم کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔
ان کا آخری کالم کشمیرکے موضوع پرشائع ہوا تھا جس کا آغاز انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدرخاں کے بیان سے کیا تھا اور کالم کا اختتام اس جملے پر کیا تھا کہ امریکی کسی کو بھی فری لنچ نہیں کرواتے!“ طارق احمد نے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں غالباََ اپنی آخری پوسٹ میں چھوٹے بیٹے سجیل احمد کی جانب سے ایم آر سی پی پارٹ ون کا امتحان پاس کرنے پر خوشی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد وہ فیس بک سے اچانک غائب ہو گئے تھے حالانکہ ان دنوں پاکستان کے سیاسی حالات کے باعث فیس بک فرینڈزکو ان کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ان کی 10 اکتوبر کو سالگرہ تھی فیس بک فرینڈز انہیں سالگرہ کی مبارکباد بھجواتے اور دریافت کرتے رہے کہ وہ کہاں غائب ہیں مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہ ملتا بالآخر چند روز قبل ان کے صاحبزادے نے اطلاع دی کہ وہ شدید بیمار ہیں، ان کی صحتیابی کیلئے دعاکی جائے، فیس بک فرینڈز نے دعاؤں کے ڈھیر لگا دیئے مگر اب دواؤں کے اثر اور دعاؤں کی قبولیت کا وقت گزر چکا تھا:
زندگی اپنے قبضے میں نہ بس میں موت
آدمی مجبور ہے اورکس قدر مجبور ہے
یہ بدھ 4 دسمبر کی دوپہر تھی جب ہم نے حسب معمول نیند سے بیدار ہو کر فیس بک کھولی تو پروفیسر احمد علیم نے اپنے دیرینہ دوست کے بچھڑنے کی مبہم سی اطلاع دے کر دل دہلا کر رکھ دیا۔ پھر طارق احمدکے چھوٹے بھائی تنویراحمدنے ان کے بارے میں بتایا کہ ان کا انگلینڈ میں انتقال ہوگیا ہے۔ اس کے بعد طارق احمد کے صاحبزادوں نبیل، راحیل اور سجیل نے مشترکہ پوسٹ کے ذریعے اپنے والد کی وفات اور نماز جنازہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہم گہرے صدمے میں ڈوب گئے اور فیس بک بند کر کے طارق احمد کو یاد کرنے لگے۔ ان کا ہنستا مسکراتا زندگی سے بھرپور چہرہ ہماری نگاہوں میں گھومنے لگا۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ انہیں چھ برس سے سرطان کا مرض لاحق تھا تاہم وہ بڑی زندہ دلی سے موذی مرض کا مقابلہ کرتے رہے:
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے
طارق احمدکے منجھلے صاحبزادے راحیل احمد نے اپنے والدکی وفات سے اگلے روز ان کا ایک مطبوعہ کالم فیس بک پر رکھا ہے جس کا اختتام طارق احمد اس جملے پرکرتے ہیں ”میں کچھ اور لکھنے بیٹھا تھا تمہید سے باہر نکلا تو تخیل کہیں سے کہیں اڑا کر لے گیا پھر واپس نہیں آ سکا اور پھر واپس کون آتا ہے، واپسی کے راستے بند ہو جاتے ہیں بس پھر خاموشی سے آگے اور آگے چلتے جاؤ اور پھر گہرے سمندروں میں گم ہو جاؤ!“ ہمارے اور طارق احمد مرحوم کے مشترکہ جمہوریت پسند فیس بک فرینڈزعطاء الحق قاسمی، نوید چوہدری، وجاہت مسعود، عباس بیگ، احمد حماد، الطاف حسین، ملیحہ سید، خرم امتیاز اور شجاع میر بھی طارق احمد کے بچھڑنے پر بے حد رنجیدہ ہیں۔ طارق احمد پہلے تو غائب ہوکر ہمیں چند برسوں بعددوبارہ مل گئے تھے مگر اب ان کے منظر سے غائب ہونے پر ان سے ہماری ملاقات اگلے جہان میں ہی ہو سکے گی:
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اترجاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ کہ مرجاتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button