تازہ ترینجرم کہانیخبریں

زمین پر قبضہ کرنے والوں میں متروکہ املاک کے دو سابق سربراہان بھی ملوث

ایف آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’غیر قانونی طور پر وفاقی حکومت کی ضبط شدہ زمینی واپس حاصل کرتے ہوئے غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی‘۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہفتے میں ملک کے مختلف حصوں میں 15 ارب روپے مالیت کی وفاقی حکومت کی زمین واپس حاصل کرلی گئی ہے،انہوں اس کارروائی کو وفاقی حکومت کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف ’میگا آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ملک بھر میں 39 مقدمات میں نامزد 117 افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

متروکہ وقف املاک بورڈ(ای ٹی پی بی) کے سابقہ عہدیداران، ریونیو ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر افراد مبینہ طور پر ای ٹی پی بی کی جائیداد پر غیر ملکی قبضے میں ملوث ہیں جو سالوں سے لیز کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرایہ ادا نہیں کر رہے، اور خزانے کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔

کارروائی اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ون-مین کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی کی زیر نگرانی کی گئی۔

ایف آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’غیر قانونی طور پر وفاقی حکومت کی ضبط شدہ زمینی واپس حاصل کرتے ہوئے غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سندھ میں قبضہ مافیا سے زمینیں واپس حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے نے رینجرز سے مدد طلب کی‘۔

اب تک ای ٹی پی بی کی 15 ارب روپے کی جائیداد واپس حاصل کی جاچکی ہے، جس میں 6 ارب کی زمین لاہور سے جبکہ پنجاب کے دیگر حصوں سے 4 ارب روپے کی زمین واپس حاصل کی گئی، اور باقی زمین دیگر صوبوں سے حاصل کی گئی۔

مجموعی طور مختلف علاقوں میں 29 کروڑ 60 لاکھ کی اراضی واہگزار کروائی جاچکی ہے۔

محمد رضوان نے دعویٰ کیا کہ’ توقع ہے کہ (رواں ہفتے جاری) آپریشن کے دوسرے مرحلے میں وفاقی حکومت کی 100 ارب روپے مالیت کی اراضی قبضہ مافیا سے واپس لے لی جائے گی‘، اس سے قبل اس طرح کے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں میں ای ٹی پی بی کے سابق دو سربراہان بھی ملوث ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’آصف اختر ہاشمی اور صدیق الفاروق کے خلاف غبن اور مجرمانہ کارروائی کے الزام میں متعدد مقدمات درج ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں‘۔

آصف اختر ہاشمی اور صدیق الفاروق کا تعلق بالترتیب پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

ایف آئی اےکے ڈائریکٹر نے بتایا کہ’سپریم کورٹ کے ہدایت پر پاکستان کے اکاؤنٹینٹ جنرل کے ذریعے ای ٹی پی بی کا فرانزک آڈٹ کروایا گیا جس میں زمینوں کے قبضے میں ای ٹی پی بی کے عہدیداران بھی ملوث پائے گئے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 77 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی نے ای ٹی پی بی، ریونیو ڈیپارٹمنٹس اور خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات اور تحقیقات کے اندراج کے بعد نادہندہ کرایہ داروں سے بقایا جات بھی وصول کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 776 آڈٹ پیراز میں سے453 سے نمٹا جاچکا ہے، اس مہم کے دوران لاہور وینگ کے دو افسران بینش رحمٰن اور شاہد علی نے بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

ایف آئی اے کے تمام اسٹیشنز کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے حوالے سےتفصیلات فراہم کرتے ہوئے محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے پنجاب زون ون نے 230 ایکٹر اراضی واپس حاصل کی جس کی مالیت 5 ارب 83 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے، جبکہ بقایاجات کی مد میں انہوں نے ایک کروڑ 96 لاکھ روپے حاصل کیے ہیں۔

پنجاب زون ٹو نے 302 ایکٹر زمین بحال کروائی جس کی مالیت 3 ارب 98 کروڑ 19 لاکھ ہے، اسلام آباد زون نے ایک ارب 26 کروڑ 14 لاکھ روپے مالیت کی 274 ایکٹر اراضی قبضہ مافیا سے واپس لی اور 73 لاکھ روپے بقایاجات کی مد میں حاصل کیے۔

علاوہ ازیں خیبر پختونخوا زون نے آٹھ ایکٹر زمین بحال کروائی جس کی مالیت 2 ارب 174 کروڑ روپے ہے اور انہوں نے بقایاجات کی مد میں 44 لاکھ روپے حاصل کیے۔

سندھ زون ون میں 4 ارب روپے کی 2 کنال اراضی اور 25 کروڑ 8 لاکھ روپے بقایاجات حاصل کیے جبکہ زون ٹو 331 ایکٹر اراضی جس کی مالیت 10کروڑ 40 لاکھ روپے حاصل کر سکے جبکہ انہوں نے بقاجات کی مد میں 96 لاکھ روپے وصول کیے۔

علاوہ ازیں بلوچستان زون نے 6 کنال زمین قبضہ مافیا سے واپس لی جس کی مالیت ایک ارب 28 کروڑ جبکہ انہوں نے 80 لاکھ روپے بقایات وصول کیے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button