تازہ ترینصحت

زیتون: ایک ہزار برس تک پھل دینے والا درخت

زیتون کے درخت کا راز دو چیزوں میں پوشیدہ ہے ایک اس کا پھل اور دوسرا اس کا بڑے پیمانے پر زیر زمین جڑ کا نظام جو بعض صورتوں میں چالیس فٹ تک پھیلاؤ اور 20 فٹ تک گہرائی کا حامل ہوسکتا ہے۔ جڑیں اتنی وسیع اور مضبوط ہوتی ہیں کہ خشک سالی کے وقت جب دوسرے درخت مر جاتے ہیں تو زیتون کا درخت پھر بھی زندہ کھڑا رہتا ہے کیونکہ جب انہیں آسمان سے اپنی ضرورت کے مطابق پانی نہیں ملتا تو وہ زمین کے اندر گہرائیوں سے پانی کھینچ لیتے ہیں۔

شمالی لبنان کے ایک گاؤں بیچ لیح (Bechealeh)میں زیتون کے16 ایسے درخت موجود ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِن کی عمرچھ ہزار سال سے بھی زائد۔یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ درخت اُس زیتون کی شاخ کے ماخذ ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام کو سیلاب کے بعدخشکی کی تلاش میں بھیجی گئی فاختہ نے لاکر دی تھی۔زیتون کے ان درختوں کو The Sisters Olive Trees of Noah بھی کہا جاتا ہے۔ یروشلم کے جنوب میں بیت المقدس ضلع میں واقع گاؤں ال والجا (Al-Walaja)میں موجود زیتون کے درخت کی عمر چارہزار سال بتائی جاتی ہے۔یونان کے ایک جزیرے کریٹ(Crete)پر واقع انووایوس (Ano Vovves)نامی گاؤں میں موجود زیتون کے ایک درخت کی عمر تین سے پانچ ہزار سال کے درمیان بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح مالٹا کے شمالی علاقہ بِڈ نیجا (Bidnija) میں موجود زیتون کا ایک درخت موجود ہے جس کی عمر 2000سال سے زائدہے۔جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری کے گاؤں برگ پشت میں موجود تقریباً50 فٹ بلند زیتون کے ایک درخت کی عمر ماہرین کے مطابق اٹھارہ سو سال ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام درخت اب بھی پھل دیتے ہیں جن سے تیل نکالا جاتا ہے۔اسی طرح دنیا کے مختلف علاقوں میں قدیم زیتون کے درخت نا صرف موجود ہیں بلکہ تاحال پھل بھی دے رہے ہیں۔

زیتون کے تیل دار درخت کا تذکرہ آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ قرآن پاک میں اسے مبارک درخت کہا گیا ہے۔جبکہ کتابِ مبین میں سات بار زیتون کا ذکر آیا ہے۔ بائبل میں اسے شجر حیات کا نام دیا گیا ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کے تیل کو علاج کی غرض سے کھانے اور مساج میں استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔اولیو کے درخت کو اردو میں زیتون، پشتومیں شوان (Showan)، براہوی میں کھٹ (Khat) اور پنجابی، سندھی اور سرائیکی میں کاؤ (kow)کے نام سے جانا جاتا ہے۔

زیتون کا درخت بنی نوع انسان کی تاریخ کا ایک قدیم ترین درخت ہے یہ ہمیشہ لمبی عمر، امن، ہم آہنگی، نمو، پائیداری،حکمت و دانائی، عزت و تکریم اور دوستی کی علامت رہا ہے۔ زیتون کا سدابہار درخت ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا اور پھل دیتا ہے۔یہ اونچائی میں 8 سے 15میٹر (26 سے 49 فٹ) تک جاسکتا ہے۔ بحیرہ روم کے مضافاتی علاقوں میں یہ آبائی طور پر پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں یورپ کے جنوب مشرقی، مغربی افریقا اور شمالی افریقہ کے ساحلی علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نوع شمالی ایران اور بحیرہ قزوین کے جنوبی علاقوں میں بھی پائی گئی ہے۔زیتون کے درخت کواس وقت دنیا کے 56 ممالک میں اُگایا جارہا ہے۔جبکہ دیگر مختلف ممالک میں بھی اس کی کاشت کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

دنیا بھر میں زیتون کی کاشت کے لئے استعمال ہونے والا زرعی رقبہ سالانہ ایک سے ڈیڑھ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک وزراعت کے مطابق 2018 میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 5لاکھ13 ہزار3 سو20 ہیکٹررقبہ زیتون کے زیر کاشت تھا جو 2000 ء کے مقابلے میں 26 فیصد زائد رقبہ ہے۔ اس کاشتہ رقبہ سے 2018 ء میں دو کروڑ10 لاکھ66 ہزار62 ٹن زیتون کا پھل حاصل ہوا۔ جو2000 ء کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ پیداوار تھی۔اسپین دنیا میں سب سے زیادہ زیتون کے کاشتہ رقبہ، پھل کی پیداوار اور اس سے کشید شدہ تیل تیارکرنے والا ملک ہے۔

2018 میں عالمی سطح پر زیتون کے کاشتہ رقبہ کا 25 فیصد، دنیا میں پیدا ہونے والے زیتون کے پھل کا 47فیصد اور2018-19 میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مطابق زیتون کے تیل کی عالمی پیداوارکے56 فیصد کا حامل صرف اکیلا اسپین تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ زیتون کے تیل کا استعمال بھی اسپین میں ہی ہے جو2018-19ء کے دوران 5 لاکھ15 ہزار ٹن رہا یہ مقدار عالمی استعمال کا 18 فیصد بنتی ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button