ادبافسانہ

افسانہ: ساوتری سے سمیرا

فائزہ شاہ

بدرنگی پیوند لگی ساڑھی کا کونہ منہ میں دبائے وہ ارد گرد سے بیگانی چلی جا رہی تھی، ایک طرف کمر پر ہاتھ کے گھیرے میں ٹھیکرے کا مٹکا دبایا ہوا تھا۔
لمبے بالوں کی چوٹی تیل میں تربتر اس کی کمر پر ناگن کی طرح بل کھا رہی تھی۔ کنویں پر پانی بھرنے جانا، پھر گھر کے بھی کئی کام تھے…… جو اسے جلد گھر پہنچ کر کرنے ہوتے تھے۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا …… گہری، سانولی رنگت والی ساوتری کم عمری میں ہی بیوگی کا داغ ماتھے پر سجائے ماں کے گھر آگئی تھی، اس کا پتی آلوک تو دیوانہ تھا اس کا، بے حد پیار کرتا تھا اس سے۔ شادی بھاگ کر کی تھی دونوں نے۔ گھر والوں نے بالکل منہ موڑ لیا تھا ساوتری سے اور اسے بھی کوئی پرواہ نہیں تھی کیونکہ آلوک جو اس کے سنگ تھا۔ پھر ایک دن کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اسے سانپ نے ڈس لیا اور وہ موقع پر ہی مر گیا۔
جب شمشان میں آلوک کی چتا کو آگ لگائی جا رہی تھی تب ہی خاندان کی کچھ بزرگ عورتوں نے ساوتری کو بھی ستی قرار دے کر ساتھ ہی جلانے کی کوشش کرنا چاہی۔ ساوتری کے جیٹھ جی نے ایسا جاہلانہ کام کرنے سے روک دیا اور ساوتری کو اس کی ماں کے گھر بھیج دیا، جہاں پر ویسے ہی سب اس سے ناراض تھے۔ اس پر زندگی بہت تنگ کر دی گئی تھی۔ وہ زندہ لاش بن کر رہ گئی تھی۔ وہ پرانی ہندوانہ رسموں کے مطابق نہ اچھا کپڑا پہن سکتی تھی، نہ اچھا کھانا کھا سکتی تھی، اُسے شادی بیاہ تک کی تقریبات میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بس کولہو کے بیل کی طرح پورا دن کام کرتی اور اسے صرف ایک وقت ابلا ہوا کھانا ملتا تھا۔
آج بھی وہ مٹکا لیے کنویں کی جانب جا رہی تھی کہ اسے اپنے عقب میں قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی، پلٹ کر دیکھا تو مولوی سراج لاٹھی ٹیکٹے ہوئے اس کے پیچھے چلے آر ہے تھے۔ یہ محلے کی مسجد کے ادھیڑ عمر امام تھے، سفید اجلا سا پیر کو چھوتا چغہ اور سر پر سفید پگڑی، پورے محلے میں ان کی نیک نامی مشہور تھی۔ ساوتری نے اپنی رفتار کم کر دی اور تقریباً رک گئی۔ ”نمستے مولوی جی…………“ ساوتری نے ٹھیکرے کا گھڑا کچی مٹی پر رکھ کر ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
” کتنی بار منع کیا ہے مجھے نمستے نہ بولا کر گستاخ لڑکی………… ”مولوی سراج غصے سے بولے۔
مولوی سراج کا غصہ دیکھ کر اس کی گھگھی بندھ گئی، ویسے ہی وہ ڈرپوک سی تو تھی۔
”معاف کردو مولوی جی……بھول ہو گئی مجھ سے ……“ساوتری خجل سی ہو کر بولی۔
”بول کیا ہے اب؟…………“ مولوی سراج بے رخی سے بولے۔
”مولوی جی آپ کے دھرم میں تو ودھوا عورت کے لیے بڑی دیا ہے، بڑی عجت ہوتی ہے نا اس کی؟……“وہ حسرت سے بولی۔
”ہاں پر تو کیوں پوچھ رہی ہے؟……“ مولوی سراج ٹھٹھک گئے۔
”وہ مولوی جی……دھرم“ کے نام پر چکی میں ہم ودھوا ناریوں کو پیس دیتے ہیں ہمارے لوگ……….ودھوا کو جمانے (زمانے) کا کلنک بنا کر رکھ دیتے ہیں …….“ وہ دکھ سے بولی۔
مولوی سراج نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔
”ہنہہ………یہ تو تمہارے مذہب کی قدیم رِیت ہے، میں کیا کہہ سکتا ہوں، اور تُو اپنی ماں کے گھر ہے، تجھے کیسا روگ؟………..سدا کے ڈرپوک مولوی سراج نے دامن بچایا اور ایک قدم آگے بڑھایا۔
”آپ کے دھرم میں تو جات کا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا ناں …………..“ وہ لپک کر پھر سے ان کے پیچھے آئی۔
وہ مڑے اور کڑے تیوروں سے ساوتری کو گھورا جیسے کوئی استاد اپنے شاگرد کو دیکھتا ہے، کوئی غلطی کرنے پر وہ شرمندہ سی ہو کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ مولوی سراج اس پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ گئے۔
وہ دور تک انہیں جاتا ہوا دیکھتی رہی، کچھ لمحے توقف کے بعد مایوس انداز میں جھکی، گھڑا اٹھایا اور اونچی نیچی پگڈنڈی پر چل دی۔
”ساوتری…….او ساوتری…… تیرے پتا کی آتما کی شانتی کے لیے پوجا کا آیوجن کرنا ہے، پنڈٹ جی سے مہورت پوچھ کر آ…………“ ساوتری کی ماں روپا نے مٹی کے چولہے میں لکڑیاں گھسیڑتے ہوے کہا۔
”اچھا ماں ……“ ساوتری نے جھاڑو اک طرف رکھی اور ساڑھی کا پلو سر پر درست کرتی ہوئی گھر سے باہر آگئی۔
مندر میں بہت رش تھا۔ وہ دھکے کھاتی ہوئی پنڈٹ تک پہنچی۔
”پنڈت جی میرے پتا کے لیے پوجا رکھنی ہے…….ساوتری نے جلدی سے کہا۔
”تو رمیش کی ودھوا بیٹی ساوتری ہے ناں …………دوسری طرف جا یہ اونچی جات والوں کی لائن ہے…… نیچی جات والی لائن میں جا…………“پنڈت نے نخوت سے کہا اور اپنے کام میں لگ گیا۔
ساوتری کا چہرہ اتر گیا اور وہ مندر سے باہر آگئی۔ چلتی ہوئی مسجد کے قریب پہنچی جہاں نماز کے لیے ہر امیر غریب جا رہا تھا اور اک ہی لائن میں کھڑا تھا۔
وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔
وہ کروٹوں پر کروٹ بدل رہی تھی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بلآخر وہ باہر صحن میں آگئی۔ ساوتری کی ماں روپا دور پرے کی موسی کی بیٹی کی شادی پر گئی تھی۔ برآمدے میں رکھی چارپائی پر بیٹھ کر گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئی۔ تب ہی کوئی اس کے قریب آکر کھڑا ہوا۔ ساوتری نے نظریں اٹھائیں تو سامنے پرکاش کھڑا تھا۔ پرکاش اٹھائییس سالہ نوجوان اور اس کے چچا کا بیٹا تھا۔ وہ انہی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدین کچھ عرصہ قبل ایک حادثے میں گزر گئے تھے، تب ساوتری کی ماں اسے اپنے ساتھ زبردستی لے آئی تھی۔
”خیر ہے نا ادھر کیا کر رہی ہے اس وقت…………“ پرکاش نے ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھا۔
”نیند نہیں آرہی تھی…………“ وہ افسردہ ہوکر بولی۔
”آلوک یاد آرہا ہے کیا…………..؟“ وہ ہنس کر بول۔ا
”ہاں …………“ ساوتری نے سر جھکا کر کہا۔
”تو اگر چاہے تو میں آلوک کی کمی پوری کر سکتا ہوں …………“ وہ ساوتری کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بول۔ا
”کیا مطلب…….تو مجھ سے شادی کرے گا……“.. وہ بے یقینی سے بولی۔
”ہاہاہا…پاگل تو نہیں ہوگئی…میرے لیے کیا ایک ودھوا ہی رہ گئی ہے دنیا میں ……میں تو وقت گزاری کرنا چاہتا تھا…………“ اس نے آگے بڑھ کر ساوتری کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ساوتری کو جیسے کسی بچھو نے ڈنک مار لیا ہو۔
”ہاتھ مت لگا مجھے ودھوا ہوں بے شرم نہیں ……“ وہ غصے سے بولی۔
وہ کمینگی سے ہنسا اور ساوتری کے زیادہ قریب ہونا چاہا۔ ساوتری نے اسے پوری طاقت سے زودار دھکا دیا اور گلی کی طرف کھلنے والے دروازے کی جانب دوڑی۔
رات کی کالی چادر نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دور کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آواز پر مولوی سراج ہڑبرا اٹھے۔ لاحول پڑھ کر دوسری طرف کروٹ لے کر سونے لگے۔ اسی دم دروازے ہر دستک ہوئی مولوی سراج چونک کر اٹھ بیٹھے۔ گھڑی میں وقت دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے۔
”خدا خیر کرے، اس وقت کون ہو سکتا ہے…………“ منہ ہی منہ بڑبڑاتے ہوئے وہ دروازے کی جانب آئے۔
”کون ہے………………؟“ دروازے کے قریب آکر وہ سر گوشی کے انداز میں بولے۔
”میں ہوں دروازہ کھولیں …………“ نسوانی آواز نے مولوی سراج کو کشمکش میں ڈال دیا۔
ڈرتے ڈرتے لکڑی کے بوسیدہ دروازے کے ایک پٹ کو وا کیا تو کوئی دونوں دروازوں کو دھکیلتے ہوئے گھر میں داخل ہو گیا اور اندر آکر دروازے کو کنڈی چڑھا دی۔
مولوی سراج کی آنکھوں کے سامنے ساوتری کھڑی تھی۔ سفید ملگجی سی ساڑھی زیب تن کیے بال بکھر کر شانوں پر پڑے تھے۔
مولوی سراج نے اس وقت اپنے گھر پر ساوتری کو دیکھا تو ان کا پارہ ہائی ہو گیا تھا۔
”تو یہاں کیا کر رہی ہے…………گھر جا اپنے…………“ مولوی سراج گرجے۔
”مجھے بچا لیجیے مولوی جی…….میرے چچا کا بیٹا میری عجت کا دشمن ہوا ہے…………“ ساوتری گڑگڑائی۔
”تو میں کیا کر سکتا ہوں …………“ مولوی سراج نے رکھائی سے کہا۔
”مجھ سے شادی کر لیجئے مولوی جی…… تم کو تمہارے اللہ کا واسطہ…………“ ساوتری ہاتھ جوڑ کر رو پڑی۔
مولوی سراج سناٹے میں آگئے۔
شریک حیات کی ضرورت تو تھی انہیں مگر اک ہندو لڑکی سے کیسے کرتے۔ لوگ باتیں بناتے کہ مولوی نے ایک ہندو لڑکی اور وہ بھی بیٹی کے برابر سے شادی کر لی۔ ان کی ہمسفر جنتاں بی بی بہت ہی کم عرصہ ساتھ رہی تھی۔ اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ مولوی سراج محلے کی مسجد کے امام تھے۔ دونوں اک دوسرے کی کل کائنات تھے۔ اک رات اچانک خون کی الٹیاں کرتے ہوے جنتاں بی بی مولوی سراج کو داغ مفارقت دے گئی۔
کچھ لمحوں کے تؤقف کے بعد اس کی کلائی تھامی اور باہر دروازے کی جانب بڑھ گئے۔
صبح کا سورج ساوتری کے لیے نئی زندگی کی نوید لیے طلوع ہوا۔ مولوی سراج اپنی پگڑی سر پر درست کرتے لاٹھی ٹیکتے ہوے کمرے سے باہر آئے تو وہ ناشتے کی ٹرے چارپائی پر رکھ کر خود بھی بیٹھ گئی۔
”تم ناشتہ نہیں کر رہی ساوتری؟۔۔۔۔۔۔۔“ مولوی سراج نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
”ساوتری نہیں مولوی جی…… سمیرا نام ہے اب میرا…………“ وہ سر جھکا کر مسکرائی۔
”اوہ ہاں سمیرا بانو………میں تو بھول ہی گیا…………“ مولوی سراج ہنس کر بولے اور نوالہ توڑنے لگے۔
اس رات مولوی سراج نے ساوتری کو سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی پیشکش کی جسے ساوتری نے بلا جھجھک قبول کر لیا۔ اسلام قبول کروا کر صبح فجر میں نماز کے بعد مسجد میں تمام لوگوں کے سامنے نکاح کر لیا اور ساوتری کو سمیرا سراج کے منسب پر فائز کر دیا……

Leave a Reply

Back to top button