تازہ ترینخبریںصحتٹیکنالوجی

سعودی سائنسدانوں کا کارنامہ، ہوا سے آکسیجن جذب کرنے والا وینٹی لیٹر بنا لیا

یہ وینٹی لیٹر اتنا مختصر ہے کہ اسے آسانی سے ایک عام ایمبولینس میں نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے مریض کے گھر پر، بستر کے سرہانے بھی رکھا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ’ذہین‘ اور مختصر وینٹی لیٹر بنا لیا ہے جو ہوا سے آکسیجن جذب کرتا ہے اور مریض کی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی مقدار میں کمی بیشی کرتا رہتا ہے۔

یہ کارنامہ ’جامعۃ الملک عبداللہ للعلوم والتقنیہ‘ (کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کے احد سیّد اور ڈاکٹر عدنان قمر نے مشترکہ طور پر انجام دیا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر اتنا مختصر ہے کہ اسے آسانی سے ایک عام ایمبولینس میں نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے مریض کے گھر پر، بستر کے سرہانے بھی رکھا جاسکتا ہے۔

عام وینٹی لیٹرز کے برعکس، اسے ہر وقت آکسیجن سلنڈر یا سینٹرل آکسیجن سپلائی سسٹم سے منسلک رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ اپنے اطراف کی ہوا جذب کرکے اس میں سے آکسیجن الگ کرکے مریض کو فراہم کرتا رہتا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر، جسے ’’وینٹی بیگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، خاص طرح کے حساسیوں (سینسرز) اور مصنوعی ذہانت والے مؤثر نظام سے لیس ہے۔

انہیں استعمال کرتے ہوئے یہ مریض کی دھڑکنوں اور سانس کی رفتار کے علاوہ ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی مسلسل نظر رکھتا ہے اور ان ہی کی بنیاد پر مریض کو درکار آکسیجن کی مقدار میں بھی کمی بیشی کرتا رہتا ہے۔

یعنی یہ ذہین وینٹی لیٹر کسی مریض کو ٹھیک اتنی ہی آکسیجن فراہم کرتا ہے کہ جس کی اسے ضرورت ہے؛ نہ کم، نہ زیادہ۔

واضح رہے کہ جس ہوا میں ہم سانس لے رہے ہیں، اس میں 21 فیصد آکسیجن ہوتی۔ ہوا میں آکسیجن کی مقدار بہت کم ہوجائے یا بہت زیادہ، دونوں ہی صورتوں میں صحت اور زندگی کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر عدنان قمر اور احد سیّد کا تیار کردہ یہ ذہین وینٹی لیٹر ’’کے اے یو ایس ٹی کووِڈ 19 انوویشن چیلنج‘‘ نامی مقابلے کا فاتح بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

البتہ ابھی یہ پروٹوٹائپ کی شکل میں ہے جسے مزید بہتر کرکے اسپتالوں اور گھروں میں استعمال کے قابل بنانے پر کام جاری ہے۔

Leave a Reply

Back to top button