خبریں

سعودی عرب کی پہلی بھاری بھرکم ٹی وی میزبان اور ماڈل

ویب ڈیسک: سعودی عرب میں پچھلے کچھ سالوں سے سماجی لحاظ سے کافی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے سعودی معاشرے میں وہ چیزیں سامنے آ رہی ہیں جن کو پہلے غیر قانونی اور معیوب سمجھا جاتا تھا، اس تبدیلی کے باعث معاشرے میں خواتین کا روشن خیالی پرمبنی کردار بھی سامنے آرہا ہے.
اس تبدیلی کے تناظر میں ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق سعودی عرب کی پہلی بھاری بھر کم ماڈل نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایک فیشن شو میں شرکت کی، جو اس سے قبل گزشتہ سال سے ماڈلنگ کرتی آ رہی تھیں۔ اس ماڈل کا نام عالیہ امین ہے.
عرب نیوز کے مطابق غالیہ امین کو سعودی عرب کی پہلی بھاری بھر کم ٹی وی میزبان سمیت ماڈل کا بھی اعزاز حاصل ہے جو خواتین کے ملبوسات متعارف کرانے سمیت میک اپ مصنوعات کے برانڈز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔
غالیہ امین کو جہاں سعودی عرب کی پہلی پلس سائز ماڈل کا اعزاز حاصل ہے، وہیں وہ خواتین کے بھاری جسم اور موٹاپے سے متعلق لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے حوالے سے بھی کام کرتی ہیں۔

عالیہ امین کو ’باڈی ایکٹوسٹ‘ یعنی ’خواتین کی جسامت‘ کے حوالے سے کام کرنے والی کارکن کا بھی اعزاز حاصل ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عرب ممالک میں پلس سائز خواتین کو بھی اسی طرح قبول کیا جانا چاہیے جس طرح دبلی پتلی جسامت کی حامل خواتین کو قبول کیا جاتا ہے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے غالیہ امین کا کہنا تھا کہ اگرچہ مغربی دنیا میں اب پلس سائز ماڈلز اور اداکاراؤں کو قبول کیا جا چکا ہے، تاہم عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ میں اس حوالے سے اب بھی خوشگوار ماحول نہیں ہے۔
غالیہ امین کے مطابق عرب معاشرے اور مشرق وسطیٰ میں اب بھی ماڈلنگ و شوبز کو برا سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے یہاں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں! سعودی عرب میں اب خواتین ریسلنگ بھی!
غالیہ امین کا کہنا تھا کہ بھاری وزن والی خواتین کو فیشن اور شوبز کی دنیا میں آگے آکر شعور پیدا کرنا چاہیے اور معاشرے کو بھی ایسی خواتین کو جسامت کی بنیاد پر نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں قبول کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ غالیہ امین نے 2018 میں ہی ماڈلنگ کی شروعات کیں اور ساتھ ہی انہوں نے ٹی وی پر میزبانی بھی کی اور انہیں جلد ہی ٹی وی پرسنالٹی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
غالیہ امین عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ میں فیشن اور ماڈلنگ کے حوالے سے کام کرنے والے ملٹی نیشنل اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں اور وہ ریمپ پر واک کرنے سمیت میک اپ مصنوعات کو بھی پیش کر چکی ہیں۔
غالیہ امین ذاتی طور پر بھی عرب دنیا میں بھاری بھر خواتین کو قبول کیے جانے کے حوالے سے مہم چلاتی دکھائی دیتی ہیں اور انہیں متحرک ’باڈی ایکٹوسٹ‘ کے طور پر بھی پہنچانا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button