HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سفر نامہ » سفرنامہ ….. کلاکوٹ سے روہتاس ….. محمد صفدر ٹھٹھوی

سفرنامہ ….. کلاکوٹ سے روہتاس ….. محمد صفدر ٹھٹھوی

پڑھنے کا وقت: 15 منٹ

محمد صفدر ٹھٹھوی …..

سفر کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ہر انسان زندگی میں مختلف سفر کرتا ہے۔ قدرت کے حسین رنگوں کو دیکھنے اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہم سفر کرتے ہیں۔ ان اسفار میں پیش آنے والے مشاہدات وواقعات اور دیکھے ہوئے مقامات کا بیان اور ان کی تاریخ رقم کرنا اہم جُز ہوتا ہے۔ میں نے آٹھ سال بعد ریل کے ذریعے جہلم کی جانب سفر کیا۔ اس سفر کا آغاز 21 مارچ 2019ءکو دوپہر ایک بجے مکلی سے ہوا۔ چھوٹی بیٹی اریبہ صفدر سے دعائیں لیں اور میرے استاد دوست خالد محمود اور علی اصغر بروہی مجھے حیدرآباد وین سٹاپ ٹھٹھہ تک رخصت کرنے آئے۔

وین کے ذریعے حیدرآباد گدوچوک اور پھر وہاں سے رکشے کے ذریعے ریلوے سٹیشن پہنچا۔ پاکستان ایکسپریس میں سیٹ نمبر 62 بُک تھی۔ افسوس کہ دورجدید میں بھی ہمارا سسٹم تاخیر کا شکار ہے۔ حکومت آئے روز نئی ریل گاڑیاں تو چلا رہی ہے مگر ریلوے کے فرسودہ نظام کو بہتر نہیں کیا جا رہا۔ کراچی سے حیدرآباد تک کے مختصر سفر میں ہی پاکستان ایکسپریس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار رہی اور مسافر پریشانی کا۔ گاڑی جہلم اگلے دن 12 بجے کی بجائے 3بجے شہ پہر پہنچی۔ طویل سفر سے طبیعت ناساز ہو گئی۔

ٹرین کے واش روم میں پانی تک موجود نہ تھا۔ حکومت دعویٰ صرف بیانات اور کاغذات تک محدود تھا۔ عوام کو سفری سہولیات 50 سال قبل والی ہی مل رہی ہیں۔ ریلوے سٹیشنوں پر ناقص اور غیر معیاری کھانا مہنگے داموں مل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ریل گاڑیوں کے اندر بھی لوٹ مار کا بازار گرم رہتا ہے۔ آٹھ سال بعد سفر کر کے بھی کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔

جہلم سٹیشن سے اخلاق کے ساتھ اپنی خالہ کے گاﺅں شوپر (میرپور آزادکشمیر روڈ) پر براستہ سرائے عالمگیر آدھے گھنٹے کی مسافت سے پہنچ گیا۔ طبیعت ناساز ہونے کے باعث کھانے کی جگہ چائے طلب کی۔ فریش ہو کر چائے پی اور آرام کیا۔ اخلاق کے ساتھ رات کو ہی روہتاس قلعے پر جانے کا پروگرام ترتیب دیا۔ روہتاس قلعہ مسلمان سپہ سالار شیرشاہ سُوری نے بنوایا تھا۔ شیرشاہ سُوری کا اصل نام فرید خان سُوری تھا۔ بچپن میں اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آکر جونپور پہنچا۔ اپنی محنت اور قابلیت سے اس نے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ بابر کی فوج میں شامل ہوا۔

جب بابر نے دہلی فتح کیا تو پھر فرید خان جو شیرخان کہلاتا تھا، بابر بادشاہ نے اس کی طاقت اور شاہی فوج سے بیزاری پر اس کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہا مگر شیر شاہ جلد ہی باقاعدہ رخصت لیے بغیر سہرام واپس پہنچا۔ اس نے مغلوں کو ہندوستان سے باہر نکالنے کے لیے اپنی فوج بنانی شروع کی۔ فوجی طاقت حاصل کرنے کے لیے اس نے افغانوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ بہار کے زرّخیز صوبہ کو اپنی جنگی کارروائیوں کا مرکز بنایا۔ شیرشاہ سُوری نے اپنی بلند ہمت اور جنگی چالوں سے 1539ءمیں چونسہ اور قنوج کے مقام پر شہنشاہ ہمایوں کو شکست دی۔

اُس نے بابر کی شاہی ضیافت کے دس سال بعد مغلوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیا۔ اس کا بلند ہمت سپہ سالار خواض خان تیزوتُند طوفان کی طرح مغلوں کا پیچھا کر رہا تھا۔ شیرشاہ سُوری نے بھی فوج کے ساتھ مغلوں کو کہیں مہلت نہ دی۔ یہاں تک کہ شہنشاہ ہمایوں سندھ کے ریگستان سے ہوتا ہوا ایران کی سرحد میں داخل ہوا۔ شیر شاہ سُوری مغلوں کا پیچھا کرتے ہوئے جہلم تک پہنچ گیا جہاں اس نے روہتاس کا نیا قلعہ بنانے کا حکم د یا۔

شیر شاہ سُوری نے کوہستان نمک کے پہاڑی علاقہ میں جنگی نقطہ نظر سے قلعہ روہتاس کی بنیاد رکھی۔ قلعہ روہتاس بنانے کی اہم وجہ شیرشاہ سُوری کی جنگی حکمت عملی ہے جس نے ظہیرالدین بابر کے جانشین ہمایوں سے ہندوستان کی حکومت چھین لی۔ قلعہ کی بنیاد 25 مئی 1542ءبروز اتوار رکھی گئی۔ یہ قلعہ اپنے زمانہ کے فنِ تعمیر اور جنگی نقطہ نظر سے بہت مضبوط ہے جبکہ اس کے شمال، جنوب مشرق میں گہری کھائیاں ہیں اور مغرب میں نالہ گھان واقع ہے۔ کوئی بھی حملہ آور آسانی کے ساتھ قلعہ کی فصیل کے پاس نہیں آ سکتا۔ یہی وہ جنگی حکمت عملی ہے جو قلعہ کی مضبوط دیوار کے ساتھ اس کا دفاع کیے ہوئے ہیں۔

23 مارچ کو خالہ کے گائوں شوپر سے خوشگوار موسم میں کار کے ذریعے قلعہ روہتاس کی جانب سفر شروع کیا۔ دو روز قبل شدید بارش کی وجہ سے موسم ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس روز بھی بادل چھائے ہوئے تھے۔ سرائے عالمگیر جہلم جی ٹی روڈ دینہ کی جانب 45 منٹ کی مسافت کے بعد قلعہ روہتاس کی حدود میں داخل ہوئے۔ قلعے کے پہلے دروازے کے بعد موجودہ آثار تک 7 منٹ میں پہنچے۔ قلعے کے اندر بہت بڑی آبادی موجود تھی۔ پکی سڑک قلعے کے اندر سے ہوتی ہوئی آگے آبادی کی جانب جاتی ہے۔ اس سڑک پر پبلک گاڑیاں جن میں بڑی بسیں بھی شامل تھیں، رواں دواں نظر آئیں۔

گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرتے ہی چند لوگ ہاتھ میں کتابیں لیے مخاطب ہوئے کہ سر قلعے کی تاریخی تصاویر کے ساتھ کتاب دستیاب ہے۔ اس کتاب میں آپ کو آثار قدیمہ کی معلومات ملیں گی۔ ہم آپ کو قلعے کی سیر بھی کروا سکتے ہیں۔ مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہاں کے لوگ اپنے آثار کی معلومات ہر آنے والے کو بتا رہے ہیں۔ قلعے کے بارے میاں ریاض احمد کی ایک کتاب ” مختصر تاریخ شیرشاہ سُوری اور قلعہ روہتاس“ خریدی۔ قلعے میں خوبصورت پارک اور حکومتی آفس بنے ہوئے ہیں۔ آفس میں 23 مارچ کی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔

قلعہ کے اندر کوٹ میں دروازہ لنگرخانی، شیشی دروازہ، بادشاہی دروازہ، کابلی دروازہ، شاہی مسجد، شیرپنجرہ، پھانسی خانہ، طلائی دروازہ، حویلی مان سنگھ، مقبرہ خیرالنسائ، رانی محل اور دیگر قابل دید آثار قدیمہ ہیں۔ مان سنگھ محل اور رانی محل سب سے اُونچی جگہ پر واقع ہیں۔ قلعے کے اندر سائیں ستار بادشاہ دیواں والی سرکار کا مزار بھی دیکھا۔

سفرِ جہلم کے دوران بچپن کے دوست چوہدری سعید نے راولپنڈی آنے کی دعوت دی۔ ان کے خلوص نے مجھے پہلی بار راولپنڈی کا سفر کرنے پر مجبور کر دیا۔ 24 مارچ کو صبح 9 بجے سرائے عالمگیر سے بس کے ذریعے راولپنڈی کا سفر شروع کیا۔ 11:30پر میں فیض آباد میں بس سے اُترا ہی تھا کہ چوہدری سعید نے کر آکر گلے لگا لیا اور گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے آ گیا۔

جواب دیجئے