تازہ ترینخبریںسیاحت

سفرِاشتیاق: قسط 1 سفر کی تیاری، بیگم کا ڈر اور مردِ قلندر

رانا اشتیاق احمد

تقریباً صبح گیارہ بجے کا وقت تھا کہ اچانک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو ہمارے دوست شاہد مغل کھڑے تھے، کہنے لگے ٹریولنگ ایجنسی سے فون آیا ہے آج شام کی ٹکٹ مل سکتی ہے، 80000 ہزار میں، وہ بھی تین ملکوں کے لیے۔ اس سے بہتر کوئی موقع نہیں ملنے والا اور ویسے بھی آپ کا ویزا ختم ہونے میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔ شاہد مغل نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلدی کرنا، ٹریول ایجنٹ نے کہا ہے کہ یہ ٹکٹ چانس پر ہے ذرا جلدی بتانا۔

میں شش وپنج میں تھا کہ کیا کروں، کیا نہ کروں؟ ایک طرف تو اندر ہی اندر خوش تھا کہ مجھے موقع مل رہا ہے کہ میں پاکستان کے علاوہ کسی اور تہذیب کو دیکھنے جاؤں گا، سفر کروں گا، لوگوں سے ملوں گا، وہاں کا ماحول دیکھوں گا، شخصیت میں نکھار آئے اور ایک انٹرنیشنل سفر بھی میرے کریڈٹ پر آ جائے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چار دن بیوی بچوں کی نوک جوک سے آزاد رہوں گا اور کاروباری ڈپریشن سے بھی نجات ملی رہے گی۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی سوچ رہا تھا کہ والدین ناراض ہوں گے کہ ویسے تو کاروباری حالات ٹھیک نہیں لیکن بیرون ملک سیر سپاٹے کے لئے پیسے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی کھائے جا رہا تھا کہ بیگم ناراض ہو گی کہ گھر کی ضروریات کی بات ہو تو کاروبار مندی کا شکار، عنقریب حالات ٹھیک ہونے کی باتیں لیکن اپنے گھومنے پھرنے کیلئے سب ٹھیک ہے۔ ان سب سوچوں کا سمندر دماغ میں ٹھاٹھے مار رہا تھا کہ بیگم نے پوچھ لیا ”دروازے پر کون آیا تھا اور کیا کہ رہا تھا“؟ میں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں جو ڈپلومیسی کی تعریف پڑھی تھی، اس سے کام لیتے ہوئے جواب دیا کہ آپ نے سن تو لیا ہو گا کہ ایجنٹ کا فون تھا، کہہ رہا تھا کہ آج رات کی ٹکٹ ہے…… لیکن میں نہیں جا رہا۔ بیگم نے پوچھا کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ آپ نے تو بڑے شوق سے ویزے لگوائے تھے، بیس ہزار روپے خرچ کئے تھے، اب یہ سب ضائع کیوں کر رہے ہیں؟

میں نے جواب دیا کہ ڈیڑھ دو لاکھ کا خرچہ ہے اور حالات تو۔۔۔۔۔ لیکن بیگم جھٹ سے بولیں کہ میری امی نے مجھے رکھنے کے لیے ایک لاکھ روپے دیئے، آپ یہ رقم استعمال کر لیں، بعد میں واپس کر دیجئے گا۔ میں نے کہا کہ وہ تو میں واپس کر ہی دوں گا کیونکہ میں ادھار کے معاملے میں بڑا اچھا ہوں۔ اور پھر اسی طرح والدین سے بات کی تو انہوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے، جاؤ ٹریول ہسٹری بن جائے گی، بعد میں اسی طرح کسی بڑے ملک کا ویزالگ جائے گا……یہ سبق بھی انہیں میں نے ہی پڑھایا تھا۔

میں نے جلدی جلدی ٹریول ایجنٹ کو فون کیا کہ ٹکٹ کنفرم کر دو۔ اس نے کہا ”میں ٹکٹ کنفرم کر دیتا ہوں، آپ مجھے شام تک یا بعد میں رقم بجھوا دیں۔ ٹریول ایجنٹ رفاقت صاحب ہمارے قریبی دوست شہباز جٹ کے ہمسائے ہیں۔ شہباز جٹ پولیس ملاز م ہونے کے باوجود ہیں مرد قلندر ہیں، اس سفری پروگرام کے ماسٹر مائنڈ بھی وہی تھے۔ رفاقت کے ذریعے ویزے بھی انہوں نے ہی لگوائے اور ٹکٹ کے حصول کے لیے بھی وہ ہی سرگرم تھے۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button