تازہ ترینسیاحتٹیکنالوجی

سفرِاشتیاق: قسط 3 جوتے میں مٹھائی، سیٹ نمبر انتالیس بی اور تھائی حسینائیں

رانا اشتیاق احمد
جب ہمارا دوست چاند پہلی بار تھائی لینڈ کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر گیا، سرکاری اہلکاروں نے سامان چیک کرنے کے بعد مٹھائی کا کہا تو پانچ ہزار میں سودا طے ہوا تھا۔ اسی طرح ایک محلے دار، مہر طارق جب پہلی دفعہ بیرون ملک سفر پر گئے، انہوں نے واپس آ کر بتایا تھا کہ جب ان کی تلاشی لی گئی، اس دوران ان کے جوتے اتروائے گئے تو سرکاری مہربان بولے ”اپنی خوشی سے مٹھائی جوتے میں ہی ڈال دو“۔ مہر طارق سیدھے سادے انسان تھے، انہوں نے پانچ ہزار روپے جوتے میں رکھے تو جواب ملا ”دس ہزار تو پورا کرو، پہلی بار جا رہے ہو، ہم پانچ آدمی ہیں …… دو دو ہزار تو ہمارے حصے میں آنا چاہیے“۔ انہی مہربانوں سے بچنے کے لیے ہم نے باجی زیبا کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔کیونکہ ہمیں ان کٹھن اور مشکل مراحل سے گزرنے کا تجربہ نہیں تھا۔

شام کو سہیل صاحب آئے اور کہنے لگے ”جلدی کریں ٹائم کم رہ گیا ہے، باجی جان ڈیوٹی پر ہیں، میں نے آپ کے بارے میں ان کو بتا دیا ہے“۔ میں نے سہیل سے دریافت کیا کہ کیا باجی مجھے پہچان لیں گی کیونکہ میں تو کبھی ان سے ملا ہی نہیں ہوں۔ سہیل بھائی کہنے لگے ”باجی نے بھی مجھ سے یہی سوال کیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ ائیرپورٹ پر جو صاحب گول مٹول اور فٹ بال نما ہوں گے وہی رانا اشتیاق ہوں گے۔ یہ القاب اور خوشخبری سننے کے بعد ہم نے جلدی جلدی دوستوں سے ملاقات کی اور کچھ دوستوں کے ہمراہ ایئرپورٹ پہنچے۔

جب ائیر پورٹ پہنچے تو بنکاک جانے والی تھائی ائیرویز کی فلائٹ کی بورڈنگ شروع ہو چکی تھی۔ دوستوں کو الودع کہنے کے بعد باجی زیبا کو فون کیا، چند ہی لمحوں بعد باجی مین دروازے پر نمودار ہوئیں، میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور اپنا تعارف کروایا۔ باجی نے ہمارا سامان سکیننگ مشین پر رکھوایا، سامان سکین ہونے پر ہم نے تھائی ایئر ویز کے کاونٹر کی طرف جانا شروع کیا تو ایک سرکاری اہلکار نے میر ا راستہ روکا اور کہنے لگا ”کہاں جا رہے ہو، ادھر آؤ میرے پاس“۔ جیسے ہی باجی زیبا نے یہ سنا تو بارعب آواز میں اس اہلکار سے کہا ”ہٹ جاؤ، آنے دو ان کو۔“ وہ دیہاڑی والے صاحب فوراََ پیچھے ہٹ گئے۔ ہم اپنی ایئرلائن کے کاؤنٹر پر پہنچے، وزن کرنے کے بعد انہوں نے سامان جمع کر لیا اور ایک ٹوکن ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔

اس کے بعد امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے تو وہاں بھی وی آئی پی طریقے سے ہمارا استقبال ہوا۔ پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد انہوں ایک سٹیمپ رسید کی اور ہم چلتے بنے۔ یوں یہ ساری منزلیں باآسانی طے کر کے ہم ویٹینگ ہال میں پہنچ گئے۔ میں اس پراسس کے بارے میں خاصہ پریشان تھا لیکن باجی کی قیادت میں ہم نے یہ مراحل ایسے طے کیے جیسے ہم قومی اسمبلی کے منتخب نمائندے ہوں۔ میں نے باجی کا شکریہ ادا کیا، میں خوش بھی تھا اور قدرے نروس بھی۔ باجی زیبا کو میری اس حالت کا اندزہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں، اب صرف یہ گیٹ کھلے گا اور آپ نے سیدھا جہاز میں جا کر بیٹھ جانا ہے۔ ساتھ ہی وہ بولیں ”چائے وغیرہ کا تو میں بھول ہی گئی۔ بتایئے! آپ کیا لیں گے، ٹھنڈا یا گرم“؟ میں نے کہا کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اس پر باجی نے کہا ”چائے پیتے ہیں“۔ میں بولا”ٹھنڈا پانی بھی منگوا لیجیے گا“ …… میرا گلہ کافی خشک ہو چکا تھا۔ پھر وہیں بیٹھ کر ہم نے چائے پی اور ساتھ ہی ساتھ باجی نے میرا سفر کے بارے میں ہلکا پھلکا انٹرویو بھی لے لیا۔ انہوں نے کہا ”واپسی پر بھی اگر میری ضرورت پڑی تو بتا دیجیے گا کیونکہ کسٹم میں کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو سامان لے کر آنے والے لوگوں کو بعض اوقات پریشان کرتی ہیں“۔ اس کے بعد میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور انتظار میں بیٹھ گیا۔

علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اندرونی ماحول کافی خوبصورت تھا۔ ویٹنگ ہال کے ایک طرف شیشے کی بہت بڑی دیوار تھی جس کی دوسری جانب جہاز نظر آ رہے تھے۔ ہال کے ایک طرف دوکانیں تھیں جن میں زیادہ تر تحائف سے متعلقہ سازوسامان پڑا تھا۔ یہاں پڑے سامان کی قیمتیں مارکیٹ سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ اس لئے ہم نے کچھ خریدنے کے بجائے صرف دیکھنے پر ہی اکتفا کیا۔ جن دوستوں سے وقت کی کمی کے باعث ملاقات نہیں ہو سکی تھی، یہاں بیٹھ کر ان کو فون پر اطلاع دی کہ میں جا رہا ہوں۔ رات 12 بجے کے بعد اعلان ہوا کہ تھائی ائیرویز کا جہاز تیا ر ہے۔ میں مزید پُرتجسس ہو گیا کیونکہ چند ہی لمحوں بعد میں جہاز میں بیٹھنے والا تھا۔ کچھ دیر میں ایک آفیسر نے آواز دی کہ بنکاک جانے والے یہاں لائن بنا لیں اور سامنے شیشے کا دروازہ کھل گیا۔ اس وقت ہال میں لوگوں کا ہجوم بھی بڑھ چکا تھا۔ لائن میں لگنے کے بعد جب میری باری آئی تو آفیسر نے میرے بورڈنگ پاس کا کچھ حصہ پھاڑ کر اپنے پاس رکھ کیا اور مجھے آگے جانے کو کہا۔ جب میں نے دروازہ پار کیا تو سامنے کھڑے سکیورٹی اہلکار نے مجھے ایک گلی کے اندر جانے کو کہا۔ مجھ سے پہلے جانے والے مسافر بھی اسی طرف جا رہے تھے۔

جیسے ہی وہ گلی ختم ہوئی تو جہاز کا حصہ شروع ہو گیا۔ جہاز کے دروازے میں دو خوبصورت تھائی دوشیزائیں کھڑی تھیں جو مسلسل مسکرا رہی تھیں۔ انہوں نے میری طرف یوں دیکھا جیسے پرانی واقف ہوں اور اچانک مجھ سے ملاقات ہوئی ہو۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے (ہندوؤں کی طرح) اور ہلکا سا جھک کر دونوں بیک آواز بولیں …… ’سوڈی وال‘…… یہ ان کا آداب بجا لانے کا طریقہ تھا۔ پھر ان میں سے ایک محترمہ نے بورڈنگ کارڈ کا بقیہ حصہ دیکھا اور انگریزی زبان میں کہا کہ آپ دائیں طرف چلیں۔ میرا سیٹ نمبر 39b تھا۔ جب میں اس جگہ پہنچا تو دو عدد سیٹیں خالی تھیں، میں سمجھا کہ شیشے کے ساتھ والی سیٹ میری ہے اور اس پر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد ایک پاکستانی صاحب آئے، انہوں نے بے رخی سے کہا کہ یہ سیٹ میری ہے، آپ کی ساتھ والی ہے۔ ہم نے کہا ”ٹھیک ہے بھائی آپ بیٹھ جاؤ“۔ بیٹھنے کے بعد وہ بولے”آپ کا بازو بھی میری سیٹ کی حدود میں نہیں آنا چاہیے“۔ لہذا میں نے اپنے آپ کو سمیٹ لیا۔ اس پر میرا موڈ خراب ہو گیا کہ یہ کیسا ہمسایہ ہے۔ بہرحال جہاز میں پہلی مرتبہ بیٹھنے کی خوشی خراب موڈ پر غالب آگئی اور میرا دھیان اس طرف دوبارہ نہ گیا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button