تازہ ترینسیاحت

سفرِاشتیاق: قسط 6 قصہ انگریزی زبان میں ٹکٹ خریدنے کا!

رانا اشتیاق احمد

میں ائیرپورٹ کے خارجی راستے پر تنہا کھڑا سوچ رہا تھا کہ اس نئی دنیا میں اب کس طرف جاؤں: ایک طرف ٹیکسی سٹینڈ تھا، دوسری طرف میٹرو ٹرین کا راستہ اور بس سٹنیڈ بھی سامنے ہی تھا۔ اچانک ٹریول ایجنٹ رفاقت صاحب کی بات یاد آئی، انہوں نے لاہور ائیر پورٹ پر فون کر کے رہنمائی کی تھی کہ اگر آپ کے پاس رہنے کا پالان نہیں ہے تو آپ بس کے ذریعے ”پتایا“ چلے جانا وہاں ساحل سمندر بھی ہے اور دنیا کی رونقیں بھی، آپ کا وقت اچھا گزر جائے گا۔

میں نے سوچا کہ چلو اب پتایا ہی چلتے ہیں، تھائی لینڈ کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت انگلش نہیں جانتی۔ کچھ جدوجہد کے بعد میں ایک کاؤنٹر پر پہنچ گیا جہاں سے پتایا کے لیے ٹکٹیں ملنا تھیں۔ بس کی آمد اور روانگی میں تقریباََ ایک گھنٹہ تھا۔ یہاں ایک لمبی قطار بن گئی جس میں زیادہ لوگ یورپین تھے جو پتایا جا رہے تھے۔ میری باری آئی تو میں نے کاؤنٹر پر موجود لڑکے کو 1000تھائی باتھ کا نوٹ دیا، اس نے ٹکٹ نہ دی بلکہ میرا نوٹ واپس کر دیا اور اپنی زبان میں مجھے کچھ کہا جو میں بالکل نہ سمجھ سکا۔ میں نے اس کو انگریزی میں کہا کہ میں نے پتایا جانا ہے، مہربانی فرما کر مجھے ایک عدد ٹکٹ دے دیں لیکن اس نے مجھے تھائی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی۔ کیونکہ وہ انگریزی اور میں تھائی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ آخر کار اس نے دراز سے چھوٹی کرنسی نکالی اور سمجھایا کہ چینج لے کر آؤ۔ میں نے اشارے سے پوچھا کہ کہاں سے لاؤں؟ اس نے دائیں طرف اشارہ کیا، میں سمجھا کہ شائد اس طرف کوئی منی چینجر ہے، میں ادھر گیا لیکن مجھے کوئی ایسی شاپ یاکاؤنٹر نہ ملا۔ میں نے واپس آکر کہا کہ وہاں کوئی منی چینجرنہیں ہے۔ لڑکے نے دوبارہ اشارہ کیا کہ جاؤ، اس بار اس نے اپنی زبان میں غصے کا اظہار بھی کیا لیکن میں نے بُرا نہ منایا کیونکہ مجھے کونسی سمجھ آئی تھی کہ اس نے میری شان میں کیا قصیدہ کہا ہے۔

میں نے سمجھا کہ شائد جہاں سے میں واپس مڑ آیا ہوں اس سے آگے کوئی منی چینجر ہو گا۔ میں نے دوبارہ اس سمت چلنا شروع کر دیا، آگے ایک ریسٹورنٹ تھا جہاں مسافر کھانا کھا رہے تھے، ریسٹورنٹ سے آگے ایک لمبی سڑک تھی جہاں کسی دوکان کے آثار نہ تھے۔ میں مایوس ہو کر واپس لوٹا، اب میں قدرے غصہ میں بھی تھا کہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ جیسے ہی میں واپس آیا اس کاؤنٹر پر لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی بھی کھڑی تھی۔ لڑکی انگریزی جانتی تھی، لڑکے نے اسے تھائی زبان میں سمجھایا تو لڑکی نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا دائیں طرف سٹور پر جاؤ اور وہاں سے کوک پیو تو تمہیں چینج مل جائے گا۔ میں لڑکی کی بات سمجھ گیا کیونکہ وہ بھی انگریزی زبان میں میرے جنتی ہی ماہر تھی۔

وہاں ایک بہت بڑا ڈیپارٹمینٹل سٹور تھا جس کے اندر ایک ریسٹورنٹ بھی تھا جہاں مقامی لوگ کھانا کھا رہے تھے اور کچھ عجیب سا سوپ بھی پی رہے تھے۔ ریسٹورنٹ میں مجھے عجیب قسم کی بو محسوس ہوئی شاید یہ سی فوڈ کی تھی۔ بہرحال میں نے وہاں سے کوک کا ایک کین لیا اور مجھے چینج مل گیا۔ واپس آیا تو ٹکٹوں والے لڑکے نے کہا کہ اب ٹھیک ہوا ”کوک بھی پیو اور ٹکٹ بھی لو“، میں نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔ تقریباََ پنتالیس منٹ بعد بس ٹرمینل پر پہنچ گئی اور ہمیں اس میں سوار ہونے کا کہا گیا۔ میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھ گیا اور بنکاک کی سڑکوں کا نظارا کرنے لگا۔ چند منٹوں بعد بس ہائی وے پر تھی اور ہم تیزی سے منزل کی جانب گامزن تھے۔

Leave a Reply

Back to top button