تازہ ترینسیاحت

سفرِاشتیاق:4 کلمہ طیبہ کا ورد اور ائیر ہوسٹس کی جادوئی گولی

میں نے آگے والی سیٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد جب جہاز نے اپنی ناک اوپر اٹھائی تو سر سے لے کر پاؤں تک تھرتھراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ 105کلو کا بھاری بھرکم جسم رکھنے کے باوجود میں خود کو بے وزن محسوس کر رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ شائد میں نے اکیلے بیرون ملک کی سیر کا فیصلہ غلط کر لیا ہے۔ دل کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا اور میرا ہمسایہ بھی بد دماغ تھا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جہاز سموتھ اڑان بھرنے لگا

بیس منٹ بعد جہاز انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اپنے موبائل فون آف کر لیجئے۔ میں نے فوراََ فون نکالا اور بند کرنے سے قبل گھر فون کرنے کا سوچا کیونکہ بچوں نے کہا تھا کہ جب جہاز اڑنے لگے تو ہمیں بتا دینا ہم چھت پر جا کر جہاز دیکھیں اور دور سے آپ کو بائے بائے کریں گے۔ جیسے ہی فون آف ہوا، جہاز حرکت میں آیا گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا رابطہ میری اپنی دنیا سے ختم ہونے لگا ہے۔ میں نے جہاز کے اندر نظر دوڑائی تو عجیب خیال آیا کہ اتنے زیادہ لوگ انتہائی تنگ جگہ میں بیٹھے ہیں، خدانخواستہ اگر آگ لگ جائے تو یہاں سے باہر بھی نہیں جایا جا سکتا کیونکہ جہاز میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے اور وہ تو پہلے جانے کے چکر میں بڑے بڑے روڈ بلاک کر دیتے ہیں، یہ تو پھر جہاز کی سیٹوں کے درمیان تنگ سی راہداری ہے۔

یہ سوچ کر دل گھبرانے لگا، گھٹن محسوس ہوئی اور میں سوچنے لگا کہ پتہ نہیں میں چار پانچ گھنٹے کا سفر کر بھی پاؤں گا کہ نہیں۔ اسی کشمکش میں جہاز کے انجن کی آواز بلند ہوئی اور جہاز تیزی سے رن وے پر دوڑنے لگا۔ میں نے آگے والی سیٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد جب جہاز نے اپنی ناک اوپر اٹھائی تو سر سے لے کر پاؤں تک تھرتھراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ 105کلو کا بھاری بھرکم جسم رکھنے کے باوجود میں خود کو بے وزن محسوس کر رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ شائد میں نے اکیلے بیرون ملک کی سیر کا فیصلہ غلط کر لیا ہے۔ دل کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا اور میرا ہمسایہ بھی بد دماغ تھا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جہاز سموتھ اڑان بھرنے لگا اور لائٹیں بھی آن کر دی گئیں۔ جہاز انتظامیہ نے بھی سروسز دینے کے لئے اِدھر اُدھر حرکت شروع کر دی۔گبھراہٹ کچھ کم ہوئی تو میں نے یہ کہہ کر خود کو تسلی دی”تیری خاطر جہاز تو رکنے سے رہا، اشتیاق میاں حوصلہ رکھو، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔“

ائیر ہوسٹس ایک ٹرالی لے کر آئی۔ ٹرالی کے اوپر والے حصے میں اعلیٰ برانڈز کی شراب رکھی تھی جس میں ریڈ لیبل، بلیک لیبل اور وسکی وغیرہ شامل تھی۔ ٹرالی کے نیچے والے حصے میں پانی اور مالی برانڈ کے جوسز تھے۔ محترمہ نے انتہائی ادب اور شائستگی سے پوچھا ”سر آپ وائن لیں گے یا جوس“۔ میں نے اورنج جوس لیا لیکن آس پاس بیٹھے پاکستانی بار بار وائن مانگ رہے تھے۔ کچھ نے تو ائیر ہوسٹس کے پیچھے پیچھے کیبن تک پہنچنے میں بھی شرمندگی محسوس نہ کی۔ مجھے پاکستانی بھا ئیوں کی ان حرکتوں پر کوئی حیرانگی نہ ہوئی کیونکہ ہمیں جب کسی بھی چیز کی آزادی ملتی ہے تو ہم آپے سے باہر ہو ہی جاتے ہیں۔کچھ دیر بعد کھانا پیش کیا گیا۔ یہ میری زندگی کا پہلا کھانا تھا جو میں نے بھوک ہوتے ہوئے بھی نہ کھایا۔ اس کی وجہ کھانے سے آنے والی عجیب سی خوشبو تھی، اس لئے میں نے صرف سلاد پر ہی ہاتھ صاف کئے۔

اس کے بعد میرے سر اور دائیں آنکھ میں شدید درد شروع ہو گیا۔ اے سی کی ہوا میرے سر پر پڑھ رہی تھی۔ جب درد برداشت سے باہر ہونے لگا تو میں نے ائیر ہوسٹس کو اپنا مسئلہ بتایا۔ اس نے مجھے دو عدد گولیاں اور نیم گرم پانی کا گلاس پیش کیا، ساتھ ہی تجویز دی کہ آپ صرف ایک گولی کھائیں۔ گولی کھانے کے بعد میں نے ائیر لائن کی طرف سے دیا گیا تولیہ اپنے سر پر باندھا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ میں گہری نیند سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو جہاز کے شیشوں سے دن کی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔ ائیر ہوسٹس کی طرف سے دی گئی دوائی نے مجھ پر جادوئی اثر کیا تھا۔ اب میں بہت زیادہ فریش تھا۔ تھوڑی دیر بعد پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہم کچھ ہی دیر میں لینڈ کر رہے ہیں۔ اعلان سنتے ہی نئی دنیا دیکھنے کا تجسس جاگ اٹھا۔ چند لمحوں بعد جہاز بنکاک ایئرپورٹ کے رن وے پر تیزی سے دوڑتا ہوا اپنی منزل پر رک گیا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button