تازہ ترینسیاحت

سفرِ اشتیاق:قسط 2 پندرہ سو ڈالر، بادام اور بھنے ہوئے چنے

رفاقت صاحب نے پوچھا کہ کون سے ملک میں کتنے دن گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا آپ خود ہی سمجھدار ہیں، ایڈجسٹ کر دیں دو یا تین دن تھائی لینڈ میں، اس طرح سنگاپور میں اور پھر ملائیشیا میں کوئی دس سے پندرہ دن قیام کر لیں گے کیونکہ وہاں ہمارے جاننے والے رہتے ہیں۔ ہاں! اگر دل گیا تو

رانا اشتیاق احمد
رفاقت صاحب نے پوچھا کہ کون سے ملک میں کتنے دن گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا آپ خود ہی سمجھدار ہیں، ایڈجسٹ کر دیں دو یا تین دن تھائی لینڈ میں، اس طرح سنگاپور میں اور پھر ملائیشیا میں کوئی دس سے پندرہ دن قیام کر لیں گے کیونکہ وہاں ہمارے جاننے والے رہتے ہیں۔ ہاں! اگر دل گیا تو قیام بڑھا لیں گے۔ رفاقت صاحب نے کہا ”کوئی بات نہیں اگر آپ کا دل لگ گیا تو آپ صرف ایک فون کال کیجیے گا، ہم یہیں سے آپ کی واپسی کی تاریخ بدل دیں گے۔ تھائی ایئر لائن کا یہی تو فائدہ ہے کہ تاریخ تبدیل کرنے کے کوئی چارجز نہیں ہوتے، صرف اس تاریخ میں جہاز میں گنجائش ہونی چاہیے، اور ویسے بھی تھائی ایئر کا شمار اچھی ایئرلائنز میں ہوتا ہے“۔

خبر ملتے ہی شہباز جٹ بھی میرے آفس میں آ گئے۔ مرد قلندر فرمانے لگے کہ میں ابا سے ادھار رقم لے کر ڈیڈھ لاکھ کے تقریباََ پندرہ سو ڈالر لے آیا ہوں، یہ تم ساتھ لے جانا۔ اب میرے پاس نہ جانے کا کوئی جواز باقی نہیں تھا۔ ہم نے جلدی سے موٹر سائیکل نکالی، شہباز جٹ کو ساتھ لیا اور ٹکٹ کا پرنٹ لینے ٹریول ایجنسی پہنچ گئے۔ رفاقت صاحب سے ٹکٹ کا پرنٹ لیتے ہوئے بھی میرا سوال یہی تھا کہ رفاقت بھائی اگر دل لگ گیا تو ملائیشیا میں اپنا قیام بڑھا لوں گا۔ وہ بولے کوئی مسلہ ہی نہیں، آپ جائیں تو سہی، آپ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔ وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے مرد قلندر سے کہا ”سرکار کپڑے تو پرانے ہیں، ویسے بھی کچھ پیٹ بھی باہر نکل آیا ہے جس کی وجہ سے پرانی پینٹ پوری نہیں آتی“۔ مرد قلندر نے کہا چلو نعمت خانہ (شالیمار لنک روڑ لاہور پر واقع ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور) چلتے ہیں اور وہاں سے ضروری سامان لے لیتے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد ہم وہاں تھے، کپڑے اور ضروری چیزیں خریدیں، مرد قلندر نے کچھ پیکٹ بھنے ہوئے چنے اور بادام بھی خرید لیے۔ کہنے لگے یہ بھی رکھ لو مشکل وقت میں کام آیئں گے۔ میں نے کہا کہ میں کون سا جنگ لڑنے جا رہا ہوں۔ مرد قلندر کہنے لگے رکھ لو کیا معلوم تھائی لینڈ میں کھانے کو کوئی حلال چیز ملے یا نہ ملے۔ میں نے کہا جٹ صاحب کوئی جوتے وغیرہ بھی نئے خرید لیں، کہنے لگے رہنے دو ساری رقم یہیں خرچ کر لو گے کیا؟ میں ہم نے کہا چلو پھر کٹنگ کروا کر بالوں کو کلر لگا لیتے ہیں کیونکہ پرسنیلٹی کا معاملہ ہے۔ ان کاموں سے فارغ ہو کر ہم گھر پہنچے، ضروری تیاری کی اور اچانک ذہن میں آیا کہ باجی زیبا سے رابطہ کر لیا جائے۔

باجی زیبا کسٹم انسپیکٹر ہیں، ہمارے محلہ میں رہتی ہیں اور ان کی ڈیوٹی اکثر ائیرپورٹ پر ہوتی ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں سہیل ہمارے بہت پیارے دوست ہیں۔ ہم نے سہیل کو فون کیا اور بتایا کہ ہم آج رات کی فلائٹ سے تھائی لینڈ جا رہے ہیں۔ موصوف پہلے تو حیران ہوئے اور جانے کی وجہ دریافت کی۔ ہم نے کہا یوں ہی گھومنے جا رہے ہیں۔ ہم نے باجی زیبا کی ڈیوٹی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ آج رات وہ ڈیوٹی پر ہی ہوں گی۔ میں ان کو آپ کے بارے میں بتا دوں گا۔ باجی زیبا کی رہنمائی حاصل کرنے کے پیچھے بھی ایک مصلحت ہے۔ وہ یہ کہ ایئر پورٹ پر تعینات سرکاری اہلکار خوب مہارت رکھتے ہیں۔ وہ مڈل کلاس لوگوں کو خصوصی توجہ عنایت فرماتے ہیں۔ خصوصاََ فریش پاسپورٹ والوں کو تو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ کہاں سے آئے ہو، کہاں جا رہے ہو، سامان دوبارہ کھولو، یہ کیا ہے، وہ کیا ہے؟ اگر پھر بھی کوئی نقص نہ ملے تو سیدھا کہہ دیتے ہیں ”اپنی خوشی سے ہی مٹھائی دے دو، وہ بھی ذرا پردے میں“۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button