تازہ ترینسیاحت

سفرِ اشتیاق: قسط 5…. لمبی قطار، ڈی پورٹ ہونے کا خوف اور لیڈی آفیسر

رانا اشتیاق احمد

جہاز سے باہر نکلتے وقت ایئر ہوسٹس نے شکریہ ادا کیا۔ ہم جہاز کے ساتھ لگائی ہوئی مصنوئی گلی کے ذریعے ایک حال میں پہنچے۔ عجیب سی وردی میں کھڑے ایک سیکورٹی اہلکار نے ہمیں ایک سمت میں جانے کو کہا۔ آگے بہت لمبا راستہ تھا، درمیان میں خود کار الیکٹرک بیلٹ لگی ہوئی تھی، کچھ لوگ اس پر سوار ہو گئے تا کہ چلنا نہ پڑے اور باقی مسافروں نے اس بیلٹ کے اطراف میں چلنا شروع کر دیا۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کئی فلائٹوں کے لوگ اس کارواں میں شامل ہو چکے تھے۔

دونوں طرف مختصر وقفے کے بعد بیت الخلاء موجود تھے، میں نے موقع غنیمت جانا اور ایک بیت الخلاء میں گھس گیا۔ باہر آیا تو میرے ارد گرد کئی ممالک کے مختلف النسل لوگوں کا رش تھا لیکن کوئی پاکستانی نظر نہیں آ رہا تھا۔

سیکورٹی اہلکاروں کی مدد سے میں آخر کار میں امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچ ہی گیا۔ وہاں بھی ایک لمبی قطار تھی اور اپانچ کاؤنٹرز تھے جن میں ڈیوٹی پر موجود امیگریشن افسران مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد انٹر ی کی سٹیمپ رسید کر رہے تھے۔ میں اس مرحلے میں بھی قدرے کنفیوزڈ تھا کیوں کہ مجھے کافی لوگوں کی کہانیاں معلوم تھیں جو بنکاک ایئر پورٹ سے ڈی پورٹ ہوئے تھے۔ میرے دل میں بھی یہی خیال آ رہا تھا کہ اگر مجھے ڈی پورٹ کر دیا گیا تو پورا ایک لاکھ کا نقصان ہو گا اور جو دل ٹوٹے گا وہ الگ۔ لہذا میں نے ایسے کاؤنٹر کا انتحاب کیا جہا ں لیڈی آفیسر تعینات تھی کیونکہ لیڈیز زیادہ نرم دل ہوتی ہیں، ویسے بھی وہاں موجود مرد آفیسرز کچھ زیادہ ہی سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔

باری آنے پر میں نے اپنا پاسپورٹ اس محترمہ کے حوالے کیا، اس نے کمپیوٹر میں ریکارڈ چیک کرنے کے بعد مجھے سامنے کیمرے کی جانب دیکھینے کا اشارہ کیا۔ تصویر لینے کے بعد انہوں نے میرے پاسپورٹ کو سٹیمپ کیا اور مجھے آگے جانے کا کہا۔ یہ مرحلہ طے کر کے مجھے وہ اطمینان حاصل ہوا جو بی اے پاس کرنے کے بعد ہوا تھا۔ سامان لینے کے لیے بیلٹ کے قریب گیا تو میرا بیگ سامنے تھا۔ میں نے بیگ دور سے ہی پہچان لیا کیونکہ اماں ابا نے منع کرنے کے باوجود اس پر پیلے رنگ کے کپڑے کی ایک گرہ لگا دی تھی تاکہ میں اسے پہچان سکوں۔ وہاں سے نکلا تو سامنے گیٹ کے پاس سرکاری اہلکار سامان کی تلاشی لے رہے تھے، وہ بہت زیادہ مصروف تھے، اس لئے میں ان کی طرف دیکھے بغیر سیدھا باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Back to top button