تازہ ترینسیاحت

سفرِ اشتیاق:7 چیری ہوٹل، موٹی آنٹی اور ناخن تراشتی حسینہ

رانا اشتیاق احمد

تقریباََ دو سے اڑھائی گھنٹے بس نے پتایا بس ٹرمینل پر پہنچایا۔ اس سفر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ وہاں کاریں صرف بڑی ہیں اور لوڈنگ کے لیے چھوٹی سے چھوٹی گاڑی ٹیوٹا وگو ڈالا استعمال کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے دوست عامر بھائی کی ایک بات یاد آ گئی کہ سیر کرنے کے لیے جانا ہے تو کسی اچھے ملک جاؤ، تھائی لینڈ تو پاکستان جیسا ہی ہے۔ لیکن یہاں تو چھوٹی سے چھوٹی چیز کی نقل و حرکت کے لئے بھی وگو ڈالا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں تو لوڈنگ کے لیے چنگ چی رکشے اور سوزکی پک اپ سے کام چلایا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ میں مردوں کی طرح عورتیں بھی زندگی کے تمام شعبوں میں مصروف ہیں، روز مرہ کے کاموں کے لیے بائیک استعمال کرتی ہیں، مارکیٹوں میں دوکانوں پر کام کرتی ہیں۔ مثلاً سینٹری، ہارڈوئیر اور کارپٹ وغیرہ کی دوکانوں پر عورتیں اپنے روایتی لباس نیکر اور شرٹ میں ملبوس کام کرتی نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ عورتیں سخت دھوپ میں روڈ کی تعمیر کے کام میں بھی مصروف نظر آئیں۔

میں نے بس ٹرمینل پر اترنے کے بعد بیچ روڈ کے لیے لوکل ٹرانسپورٹ ٹیوٹا وگو استعمال کی، اس میں تقریباََ آٹھ سے دس افراد سوار ہوتے ہیں، اکثر مسافروں کے پاس خوبصورت تھیلوں میں ملبوس شراب کی لمبی لمبی بوتلیں تھیں، دس منٹ گزرنے کے بعد گاڑی نے ایک روڑ پر اتار دیا، اس روڈ کی دونوں جانب ہوٹل واقع تھے، یہ پتایا بیچ کا علاقہ تھا۔ یہاں موسم کچھ گرم تھا، میں نے اپنا بیگ لیا اور کسی مناسب ہوٹل کی تلاش شروع کر دی۔ بیگ گھسیٹتے ہوئے میں نے مختلف ہوٹلوں کا دورہ کیا اور آخرکار ایک مناسب ہوٹل پسند آگیا جس کا نام چیری ہوٹل تھا۔

یہاں تک پہنچتے ہوئے میری شرٹ پسینے سے بھیگ چکی تھی۔ میں نے کاؤنٹر پر کھڑی ایک موٹی سی آنٹی نما خاتون سے انگلش میں پوچھا کہ مجھے کمرہ چاہیے۔ اس نے تھائی زبان میں جواب دیا جو میں نہ سمجھ سکا۔ اُس نے ایک دراز کھولی، اس میں سے ایک پاسپورٹ نکالا اور اشارہ کیا کہ اپنا پاسپورٹ مجھے دو۔ میں نے کہا کہ پہلے میں کمرہ چیک کرنا چاہتا ہوں۔ وہ میری بات نہ سمجھ سکی۔ میں نے آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے کہا کہ میں روم دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس پر نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے یا ایک بٹن دبایا، جس کے نتیجے میں درمیانی عمر کا تھائی شخص برآمد ہوا۔ موٹی آنٹی نے اسے اپنی زبان میں کہا کہ اس کو روم چیک کرواؤ اور ساتھ ہی طنزیہ انداز میں چیک، چیک کے الفاظ بڑبڑانے لگی۔

وہ شخص مجھے ایک لفٹ کے ذریعے چوتھے فلور پر لے گیا اور ایک روم چیک کروایا۔ اس میں اے سی، ایل سی ڈی، فریج اور ایک ڈبل بیڈ تھا۔ کمرہ مجھے پسند آگیا کیونکہ اس کا کرایہ مناسب تھا یعنی 700 باتھ جو اُس وقت لگ بھگ پاکستانی دو ہزار روپے بنتے تھے۔ جیسے ہی میں کمرہ دیکھ کر باہر لابی میں پہنچا تو وہاں ایک خوبصورت دوشیزہ فرش پر بیٹھی ناخن تراش رہی تھی۔ اس نے عجیب سی آواز میں ویٹر سے کچھ پوچھا تو ویٹر نے جواب دیا کہ چیک، چیک یعنی وہ بھی طنز کر رہا تھا۔ مجھے اس لڑکی کی آواز عجیب اس لیے لگی کیونکہ وہ بولی ہی کچھ اس طرح تھی جیسے بلیاں آپس میں لڑتے ہوئے آوازیں نکالتی ہیں۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button