تازہ ترینخبریںفن اور فنکارٹیکنالوجی

سلمان خان بگ باس سیزن 15 کیلئے کتنے کروڑ معاوضہ لیں گے؟

بالی ووڈ اداکار سلمان خان بگ باس سیزن 15کے لیے 350 کروڑ روپے معاوضہ لیں گے۔

گزشتہ 11 سیزن سے بھارتی ٹی وی کے رئیلیٹی شو بگ باس کی میزبانی کرنے والے بالی ووڈ کے سلومیاں ایک بار پھر بگ باس سیزن 15 کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ بگ باس کا نیا سیزن اکتوبر میں پیش کیا جائے گا۔ رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ اس بار سلومیاں شو کی میزبانی کرنے کا دگنا معاوضہ لیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان کا میزبانی کرنے کا منفرد انداز اور بطور فلم اسٹار ان کی شہرت ہر سیزن میں بگ باس کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اور بگ باس شو کے ہٹ ہونے کی ایک بڑی وجہ سلمان خان کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلمان خان ہر سیزن کے ساتھ اپنے معاوضے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور شو انتظامیہ بھی بخوشی ان کا مطالبہ پورا کرتی ہے۔

سلمان خان رئیلیٹی شو کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے میزبان رہے ہیں۔ پچھلے سال بگ باس 14 کے آغاز سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سلومیاں نے بگ باس سیزن 4 سے 6 تک فی قسط ڈھائی کروڑ روپے معاوضہ وصول کیا تھا۔ سیزن 7 کے لیے ان کی فیس دگنی ہوگئی تھی اور انہوں نے شو کی فی قسط کا معاوضہ 5 کروڑ روپے لیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق بگ باس سیزن 13 میں انہوں نے فی ہفتہ 13 کروڑ روپے لیے تھے۔ اور اب کہا جارہا ہے کہ سلومیاں سیزن 15 کی میزبانی کے لیے 14 ہفتوں کا معاوضہ 350 کروڑ روپے وصول کریں گے یعنی ہر ہفتے انہیں 25 کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سلمان خان ہفتے میں دو دن بگ باس شو کی میزبانی کرتے ہیں۔

بگ باس بھارتی ٹی وی کا مقبول ترین رئیلیٹی ٹی وی شو ہے۔ شو کی مقبولیت کے پیش نظر یہ گزشتہ کئی برسوں سے ٹی وی پر نشر کیا جارہا ہے۔ شو میں بھارتی شوبز انڈسٹری کے مختلف پلیٹ فارمز جیسے فلم، ٹی وی اور ماڈلنگ کی دنیا کے کئی ستارے حصہ لیتے ہیں اور چند ماہ کے لیے ایک گھر میں ساتھ رہتے ہیں۔ اس دوران انہیں باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور جو کھلاڑی گھر میں سب سے آخر تک رہتا ہے وہ شو کا فاتح ہوتا ہے جسے شو جیتنے پر ایک بڑی رقم دی جاتی ہے۔

اس شو کو جتنا دلچسپ اس میں حصہ لینے والے فنکار بناتے ہیں اتنا ہی سلمان خان کی میزبانی کو بھی پسند کیاجاتا ہے اور لوگ سلو میاں کی منفرد انداز میزبانی کی وجہ سے بھی شو کو دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button