تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سنگھاڑا: مردانہ پوشیدہ امراض کا مکمل علاج

تازہ سنگھاڑے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ اس میں وٹامن بی، وٹامن ای، وٹامن بی سکس، میگنیشم، کیلشیئم، پوٹاشیم، زنک، کاپر اور ملٹی وٹامنز کی دوگنی مقدار ہوتی ہے۔ اس میں پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس بھی بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

سنگھاڑاجنوبی ایشیاء میں یہ عام پایا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔جنوبی ایشیامیں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔

سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفیدرنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ جنوبی ایشیا کے علاوہ یہ افریقہ کے کئی ممالک میں بھی ہوتا ہے۔اسے ابال کر کھانے کے علاوہ اس کا پاؤڈر بنا کیک اور پڈنگز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ دیکھنے میں اتنا اچھا نہیں لگتا مگر اس کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے، جبکہ اس کے طبی فوائد لاتعداد ہیں۔یہ پھل یا میوہ عموماً سارا سال مختلف اشکال میں دستیاب ہوتا ہے۔مگر اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔

سنگھاڑا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
تازہ سنگھاڑے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ اس میں وٹامن بی، وٹامن ای، وٹامن بی سکس، میگنیشم، کیلشیئم، پوٹاشیم، زنک، کاپر اور ملٹی وٹامنز کی دوگنی مقدار ہوتی ہے۔ اس میں پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس بھی بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

سنگھاڑا کے طبی فوائد:

ایک متوازن غذا:
یہ صحت مند زندگی کے لیے ایک متوازن غذا ہے۔ بھینس کے دودھ سے موازنہ کیا جائے تو آدھا کپ سنگھاڑوں میں صرف 0.1 گرام چربی یا فیٹ، 14.8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 0.9 گرام پروٹینز، 22 فیصد مزید ایسے منرلز اور اجزائشامل ہوتے ہیں۔ صرف 6 کیلوریز، صفر کولیسٹرول، کم نمک اور روزمرہ کے لیے ضروری 10 فیصد وٹامن بی سکس اور بی سیون اس کا حصہ ہیں جو دماغ اور جسم کی قوت مدافعت کو صحت بنانے میں معاونت کرتے ہیں۔ اسی طرح تھائی اے من اور ریبو فلوین،پروٹین جسم کو اپنے اندر موجود خوراک کو توانائی میں منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چونکہ اس میں فیٹ نہیں ہوتا اس لیے یہ صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

بیکٹریا کش، وائرس کش اور انسداد کینسر:
سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کی روک تھام کا کام بھی کرتے ہیں جبکہ معدے اور تلی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تلی میں آنے والی کمزوری کی علامات جیسے منہ کا ذائقہ خراب ہونا، نیند نہ آنا، خود کو بیمار محسوس کرنا، تھکاوٹ، سوجن یا پیشاب کے انفیکشن کو بھی دور کرتے ہیں۔

یرقان کے خلاف مفید:
جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے باعث یہ یرقان کے مریضوں کے لیے بہترین سوغات ہے، مریض اسے خام شکل میں کھائیں یا جوس کی صورت میں استعمال کریں، یہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کم کرے:
سنگھاڑے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور ایسا ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، 5 سنگھاڑوں میں روزانہ درکار پوٹاشیم کی مقدار کا 5 فیصد حصہ موجود ہوتا ہے۔

دل متلانے کی کیفیت دور کرے:
سنگھاڑے کا جوس پینا دل متلانے کی کیفیت کو دور کرتا ہے یا یوں کہہ لیں متلی کی شکایت ختم ہوتی ہے۔

اچھی نیند میں مددگار:
اس میں موجود وٹامن بی سکس اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے اور بے خوابی کی شکایت دور کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ وٹامن مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔

بالوں کی نشوونما:
چونکہ اس میں پوٹاشیم، وٹامن بی اور ای جیسے اجزا موجود ہیں جو کہ صحت مند بالوں کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سنگھاڑے کھانا بالوں کی نشوونما بہتر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

جراثیم کش:
سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کی روک تھام کا کام بھی کرتے ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی:
سنگھاڑے میں چونکہ کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تو یہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود اجزا کھانے کی اشتہا کی روک تھام کرتے ہیں اور بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے کا موقع ملتا ہے۔

کھانسی کو کنٹرول کریں:
سنگھاڑے کا سفوف کھانسی سے ریلیف کے لیے موثر ثابت ہوتا ہے، سنگھاڑے کو پیس کر سفوف بنالیں اور پانی کے ساتھ دن میں دوبار استعمال کریں، یہ کھانسی سے فوری ریلیف دینے والا ٹوٹکا ثابت ہوگا۔

خون صاف کرے:
سنگھاڑے کا استعمال جسمانی ورم دور کرنے کے ساتھ خون کو بھی صاف کرتا ہے، جس سے جلد بھی جگمگانے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے بہترین سوغات ہے۔

تھائی رائیڈ کا معاون:
اسی طرح یہ تھائی رائیڈ (گردن میں سانس کی نالی کے قریب بے نالی غدود) کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، جسم کو ٹھنڈا کرنے، منہ میں لعاب دہن کو بڑھاتا ہے اور پیاس بجھانے کا کام بھی کرتا ہے۔

پوشیدہ امراض کا علاج:
سنگھاڑا پوشیدہ امراض کے شکار مرد و خواتین کیلئے تحفہ خدا ہے۔یہ کمزور مردوں اور خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔

دوران حمل مدد فراہم کرے:
سنگھاڑے کے آٹے سے بنائے جانے والا دلیہ زیادہ کریم والا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو جریان خون کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے دیا جاتا ہے۔ اس کے خشک بیج خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں اور خواتین میں اسقاط حمل کے مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سنگھاڑے کا دلیہ انتڑیوں کے لیے مفید ہے اور اندرونی حرارت کو دور کرتا ہے۔

صحت مند جلد:
سنگھاڑوں کے چھلکوں کے پاؤڈر سے بنایا جانے والا پیسٹ جلد کے سوجے ہوئے حصوں پر ریلیف کے لیے لگایا جاسکتا ہے، اس کے بیجوں کے پاؤڈر کو لیموں کے عرق کے ساتھ مکس کرکے جلد پر لگانے کو معمول بنانے سے سوزش جلد کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

سنگھاڑا کے دیگر فوائد:
یہ پھل پیشاب کے انفیکشنز کے لیے بھی مفید ہے، سوجن کو دور کرتا ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔یہ توانائی بڑھا کر تھکاوٹ کو دور بھگاتا ہے اور زخموں سے خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے ساتھ متوازن سوڈیم کے باعث بلڈ پریشر اور پانی کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ سنگھاڑے کے بیجوں کے جوس اور عرق خسرے جیسے امراض کے خلاف موثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کا نظام ہاضمہ اور متلی وغیرہ کی شکایات کے علاج میں مددگار، جگر میں جمع ہونے والے کچرے کی مناسب صفائی، بلغم اور اضافی خون کا علاج، ہیضے اور پیچش کو کنٹرول، گلے کی سوزش، خون کی کمی، فریکچر اور پھیپھڑوں کے ورم جیسے عوارض کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

*سنگھاڑے کے استعمال سے دانت مضبوط اور چمک دار ہو جاتے ہیں۔ اس سے مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
*زخموں سے خون بہنے کو روکتا ہے۔ اسے اندرونی اور بیرونی طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی طور پر سفوف سنگھاڑا زخموں پر چھڑکا جاتا ہے۔
*گردے کی خرابی کی وجہ سے کھانسی کو فوراً روکتا ہے اور گردے کی اصلاح کرتا ہے۔
*دودھ بیچنے والے سنگھاڑے کے آٹے کو دودھ میں ملا کرابالتے ہیں تاکہ ملائی زیادہ آئے۔
* سنگھاڑے کا آٹا تین تولے، گھی چھ تولے لے کر آٹے کو اچھی طرح گھی میں بھون لیں۔ بعد ازاں چھ تولہ چینی پانی میں حل کرکے چاشنی بنائیں اور بھنے ہوئے آٹے میں ملا دیں۔ بس سنگھاڑے کا حلوہ تیار ہے۔ جو بے حد مقوی باہ ہوتا ہے۔

*نشے اور خمار کو سنگھاڑاادرست کرتا ہے۔
*جریان کے علاج میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
*اسے زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قولنج یا درد شکم کی شکایت ہو جاتی ہے۔
*حلق کی خشکی کو دور کرتاہے۔
*امراض قلب میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
* جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔
*گردہ اور مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔
* صفراوی بخار میں چھ ماشہ سفوف سنگھاڑا ہمراہ پانی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
* تپ دق، سل کو روکنے اور بیماری کی صورت میں سنگھاڑا کھانا مفید ہوتا ہے۔
*خونی پیچش آنے کی صورت میں سنگھاڑے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اگر تازہ نہ ملے تو خشک سنگھاڑا ایک تولہ رگڑ کر صبح دوپہر اور شام ہمراہ پانی لینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دہی کے ساتھ بھی کھایاجا سکتا ہے۔

سنگھاڑے کے حوالے سے چند احتیاطیں
ان تمام تر فوائد کے برعکس کچھ احتیاطبی تدابیر کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا انحصار کسی فرد کے نظام ہاضمہ پر ہوتا ہے۔ ایک صحت مند شخص دس سے پندرہ گرام سنگھاڑے روزانہ کھا سکتا ہے مگر اس سے زیادہ گیس پیدا ہونے یا معدے میں درد کا باعث بن سکتا ہے، وہ لوگ جو قبض کے شکار ہو انہیں اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اسے کھانے کے آدھے گھنٹے بعد تک پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ ذیابیطس کے مریض اس کی معتدل مقدار استعمال کریں کیونکہ تازہ پھل میں نشاستہ اور کاربوہائیڈیٹ کافی زیادہ ہوتا ہے۔

سنگھاڑوں کو خریدتے ہوئے خیال رکھیں کہ وہ مضبوط، جھریاں نہ ہو اور کہیں سے نرم نہ پڑ چکا ہے ورنہ جب آپ چھلکے اتاریں گے تو آپ کو نرم اور نرم گودا ملے گا۔ ایسے سنگھاڑوں کو نہ کھائیں جو دیکھنے میں ناکارہ لگ رہا ہو یا اس کا ذائقہ خراب ہو۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button