تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سورج مکھی گردے اور مثانے کی سوزش کا موثر علاج

سورج مکھی کی تقریباً 136اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس پھول کی پیداور دنیا میں سب سے زیادہ روس،چائنا،انڈیا،امریکہ،ترکی میں ہوتا ہے۔سورج مکھی کے پودے میں قدرت نے یہ بھی خوبی رکھی ہے کہ یہ زمین سے زہریلے منرل یورینیم،سیسیم وغیرہ اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

جس طرح سورج کی پہلی کرن زمین کو روشن کردیتی ہے بالکل اسی طرح باغات میں لگے سورج مکھی کے پھول دیکھنے والوں کی نگاہوں پر اپنا ایسا رنگ جماتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ سورج مکھی کا پھول زرد ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورتی میں کوئی مثال نہیں رکھتا۔ سورج مکھی کا نباتاتی نامHelianthus annusہے۔ انگریزی میں اسے sunflowerکہتے ہیں۔ اس کا تعلق فیملی Asteraceae سے ہے۔ سورج مکھی کے پھول زمانہ قدیم سے زمین پرکاشت کیے جا رہے ہیں۔ اس پودے کے تقریباً 2600 قبل مسیح سے میکسیکو میں شواہد ملے ہیں۔

سورج مکھی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
سورج مکھی کی تقریباً 136اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس پھول کی پیداور دنیا میں سب سے زیادہ روس،چائنا،انڈیا،امریکہ،ترکی میں ہوتا ہے۔سورج مکھی کے پودے میں قدرت نے یہ بھی خوبی رکھی ہے کہ یہ زمین سے زہریلے منرل یورینیم،سیسیم وغیرہ اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج غذائی ریشہ،پروٹین،وٹامن ای، بی کمپلیکس، میگنیشیم، پوٹاشیم،آئرن،فاسفورس،کیلشیم اور زنک جیسے اہم غذائی اجزا کا اچھا ذریعہ ہے۔ ان میں کولیسٹرول کو کم کرنے والے فائیٹو سٹیرول مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ بیجوں سے پولی اِن سیچوریٹڈ آئل حاصل کیا جاتا ہے۔اس میں زنک، کوپر اور کیروٹین بھی شامل ہوتا ہے۔

سورج مکھی پھول کے حوالے سے کچھ حقائق:
سورج مکھی کے چھوٹے پھولوں کا رخ ہمیشہ مشرق کی جانب ہوتا ہے اور دن کے وقت ان کا رخ سورج کی پیروی کرتا رہتا ہے۔ جب بیجوں کی وجہ سے پھول بھاری ہو جاتے ہیں تو ان کا رخ صرف مشرق کی طرف ہی رہتا ہے۔

سورج مکھی کے پتے اور پھول دونوں سورج کی روشنی سے نشوونما پاتے ہیں۔سورج مکھی کے پھول سورج سے اوکسن نامی ہارمون حاصل کرتے ہیں۔سورج مکھی کے بیچ پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں، اس سے اعلیٰ کوالٹی کا نباتاتی تیل تیار کیا جاتا ہے، جس سے مارجرین اور خوردنی تیل تیار کیا جاتا ہے۔سورج مکھی کا مونگ پھلی کی طرح بٹر بھی بنایا جاتا ہے۔ اس کے تیل کو بائیوڈیزل کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سورج مکھی کی متعدد اقسام ہیں اور اس کے پودے 16 فٹ تک اونچے ہو سکتے ہیں۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سورج مکھی کا لمبا ترین پودا 30 فٹ ایک انچ کا تھا۔ یہ ریکارڈ سن 2014 میں قائم ہوا۔
سورج مکھی کا خوبصورت پھول لمبے ٹہنی دار پودے پر کھلتا ہے۔ اس کے عام پودے کی لمبائی ایک سے تین میٹر کے درمیان ہوتی ہے اور اس پر ایک یا دو پھول کھلتے ہیں، جب کہ پھول کا قطر تیس سینٹی میٹر تک ہوتا ہے اور یہ ایک ہزار سے زائد بیج تیار کرتا ہے۔ اس کے بیجوں سے صحت اور غذائیت سے بھرپور ہلکی پھلکی غذا تیار کی جاتی ہے۔ پھول کا درمیانی حصہ کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سورج مکھی کے تیل کے فوائد:
سورج مکھی کے پھول دیکھنے میں ہی حسین اور دلکش نظر نہیں آتے بلکہ قدرت نے ان میں بے شمار خوبیوں کے خزانے پوشیدہ رکھے ہیں۔ سورج مکھی کے پھول سے جہاں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے وہاں اس کے بیچوں سے حاصل کیا جانے والا تیل صحت اور جلد کے لیے بھی کسی شفا سے کم نہیں۔واضع رہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں سورج مکھی کا تیل یورپ میں استعمال ہونے لگا تھا۔اس میں چھپے فوائد آپ کو نا صرف حسن کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں بلکہ آپ کے دماغ کی طاقت کو بھی بڑھاتے ہیں۔وٹامن ای کی وجہ سے اس کا استعمال دل کے امراض میں بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ اسے کاسمیٹکس میں بطور emollient استعمال کیا جاتا ہے۔

جلد کی نمی کے لیے سورج مکھی کا تیل:
سورج مکھی کے بیجوں میں فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو جلد کو قدرتی نمی فراہم کرتے ہیں۔سورج مکھی کے بیچوں سے نکالا گیا تیل جلد پر لگانے سے جلد نرم و ملائم اور چمک دار ہوجاتی ہے۔چہرے پر ظاہر ہونے والے بلیک ہیڈز کا اگر کوئی دشمن ہے تو وہ ہے سورج مکھی کے تیلوں کا کشید کیا ہوا تیل۔ خشک موسم میں اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button