Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
کالم

سولہ آنے

ان دنوں اخبارات نئے کرنسی نوٹوں کے اشتہارات سے بھرے نظر آتے ہیں۔ دس روپے کے نوٹ‘ 100روپے کے نوٹ‘ 500اور 5000روپے کے نوٹ۔ کرنسی نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب روپے ہی روپے نظر آتے ہیں۔ سب سے بڑی کرنسی بھی روپیہ ہے اور سب سے چھوٹی کرنسی بھی روپیہ ہے۔ کرنسی کی قدر اتنی کم ہوئی کہ اٹھنی‘ چونی‘ دونی‘ آنے اور پیسے والے سکے غائب ہوگئے۔ روپیہ 100پیسوں پر مشتمل ہوتا تھا جبکہ ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ جب کوئی سچی اور کھری بات کرتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ سولہ آنے بات کی ہے۔ مگر جب روپے سے سولہ آنے غائب ہوئے تو معاشرے سے سولہ آنے والی سچی اور کھری بات بھی ختم ہوگئی ہے۔ اب جس طرح کرنسی نوٹ اشتہارات میں نظر آتے ہیں اسی طرح سچی اور کھری باتیں محض ماضی کی روایتوں اور کہانیوں تک ہی محدود ہوگئی ہیں۔ سکے عجائب گھر کی زینت بن چکے ہیں۔ روایتیں اور کہانیاں فضا میں تحلیل ہوتی نظر آرہی ہیں۔۔۔ اور پھر گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ سب کچھ معدوم ہوتا چلا جائے گا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا یہ روایتیں اور کہانیاں ہمیشہ زندہ رہیں۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!