تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سونف زمانہ قدیم سے انسانی صحت کی محافظ

سونف کے بیج میں غذائی ریشہ، چرپی، کاربوہائیڈریٹ، پولیونسٹریٹ، پروٹین، تھامین، ربوفلوین، نیاسین، وٹامن بی، وٹامن سی، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، مینگنیز، فاسفورس، پوٹاشیم، سوڈیم، زنک، اوردیگر اجزابڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

کیل مہاسے کم کرے:
سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔

مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔

جوڑوں کے درد میں کمی لائے:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں ورم کے حوالے سے سونف کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کی سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے جس سے جوڑوں میں ورم کم ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ سونف جوڑوں کے عوارض سے نجات کے لیے مفید ہے۔

احتیاط: سونف کازیادہ استعمال آپ کو بیمارکرسکتاہے۔سونف کا استعمال نہارمنہ، دوپہرکے کھانے میں یا شام چاربجے تک ہی کریں کیونکہ کھانے میں اس کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ حاملہ خواتین سونف کا ہرگز استعمال نہ کریں۔دوسال سے کم عمربچوں کو کبھی بھی سونف کا استعمال نہ کروائیں۔
مرگی کے مریض بھی اس کی چائے اور کھانے میں ہرگز استعمال نہ کریں۔ سونف یا اس کی پتیاں زیادہ مقدار استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے نشہ ہوسکتاہے۔جس طرح یہ دیگر امراض کا علاج ہے بالکل اس طرح گرم تاثیر کی وجہ سے خواتین کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پچھلا صفحہ 1 2 3 4

Leave a Reply

Back to top button