تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سونٹھ : ذائقہ اور صحت ساتھ ساتھ

سونٹھ ایک جراثیم کش شے ہے۔ جس میں پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس، کیلشیم، میگنشیم، وٹامن B3 اور فولیٹ کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ تازہ ادرک میں 80.9فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جبکہ خشک کرنے سے اس میں پانی ختم ہوجاتا ہے اور پروٹین کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے۔دیگراجزا میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، تھایا مین، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں۔

سونٹھ یا سونٹ گرم مصالے کا ایک لازمی جز ہے، جو ہر گھر میں پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندی اور اردو زبان میں سونٹھ، فارسی میں زنجیل خشک، عربی میں زنجیل یابساور انگریزی میں Dry Ginger Root کہتے ہیں۔ سونٹھ برصغیر پاک و ہند میں بکثرت پیدا ہوتی ہے جبکہ دیگر پڑوسی ممالک میں بھی متعدد مقامات پر پیدا ہوتی ہے۔

سونٹھ دراصل ادرک ہی کی خشک شکل ہے۔ ادرک کو اگر خشک کر لیا جائے تو وہ سونٹھ کہلائے گی۔ ادرک کواگر دودھ میں پکا کر سکھا لیا جائے تو بہترین نمبر ایک سونٹھ بن جاتی ہے۔ یورپین ممالک میں سفید سونٹھ بنانے کے لئے ادرک کو دھونے کے بعد چونے کے پانی میں کئی گھنٹے بھگونے کے بعد اسے مشینوں سے خشک کر لیا جاتا ہے۔

سونٹھ یا ادرک ایک قسم کی جڑ ہے۔ جو زمین میں ہوتی ہے۔ اس پودے کے پتے لمبے اور باریک ہوتے ہیں جبکہ ان پر کسی قسم کا کوئی پھول اور پھل نہیں لگتا۔ اس کا تنا دو تین فٹ اونچا گنے کی طرح ہوتا ہے۔

ادرک وہ غذا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ قرآن میں اسے زنجبیل کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پائی جانے والی نعمتوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ ”وہاں انھیں ایسا مشروب پلایا جائے گا جس میں ادرک بھی ملا ہوا ہو گا“۔

سونٹھ اور ادرک ہزاروں سال سے انسان کے زیر استعمال چلی آ رہی ہے۔ یہ لازمی ادویات کا بنیادی جز رہی ہے،پرانے دور کا انسان اس کے کثیر فوائد سے بخوبی آگاہ ہو گیاتھا، چنانچہ اسی سبب سے اسے دوائے اعظم کے نام سے بھی پکارا گیا ہے۔حکما ادرک کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج کیا کرتے تھے۔یونانی اطباء نے اپنی کتاب میں کئی جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً حکیم جالینوس نے اسے فالج میں مفید بتایا ہے۔ کئی حکماء کا خیال ہے کہ چین کی مشہور بوٹی ”جن سنگ“ دراصل ادرک ہی کی ایک قسم ہے۔

سونٹھ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا
سونٹھ ایک جراثیم کش شے ہے۔ جس میں پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس، کیلشیم، میگنشیم، وٹامن B3 اور فولیٹ کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ تازہ ادرک میں 80.9فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جبکہ خشک کرنے سے اس میں پانی ختم ہوجاتا ہے اور پروٹین کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے۔دیگراجزا میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، تھایا مین، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button