سیاحت

سونڈا قبرستان: ٹھٹھہ کا منفرد شہرِخاموشاں…… محمد صفدر ٹھٹوی

ٹھٹھہ اپنی تاریخ، آثار قدیمہ، شاندار تہذیب اور علم وادب کی بدولت ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ٹھٹھہ کے کونے کونے میں موجود تاریخی آثار قابل دید ہیں۔ علاقے میں موجود کوٹ قلعے، رانک، مزارات، مسجدیں، محل، قبریں اور دیگر آثار دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں میں موجود آثار قدیمہ پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس لئے ان کے بارے میں جانتے وقت تشنگی کا احساس بر قرار رہتا ہے۔ ٹھٹھہ کے ان آثار میں سونڈا کے آثار قدیمہ بھی شامل ہیں۔ ان کے بارے میں بھی تاریخ کی اہم کتابیں خاموش ہیں۔ اگر کسی کتاب میں تذکرہ ملتا ہے تو وہ بھی چند سطور سے زیادہ نہیں ہے۔

سونڈا محل وقوع کے لحاظ سے بہترین آب وہوا والا زرخیز علاقہ ہے۔ اس سر زمین کو ”سمہ“ کے دور میں دریافت کیا گیا۔ اس کا ذکر سندھ کے معروف تاریخ دان مہر علی شیر قانع نے اپنی کتاب تحفہ الکرام 1180ھ میں کیا ہے۔ اس کتاب کے ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کے مرتب کردہ نسخہ کے صفحہ 365 پر سونڈا شہرکے نام کا حوالہ ملتا ہے۔ جس کے مطابق یہاں موجود پہاڑی پر ایک کامل فقیر سْرسونڈر پر راگ کہتا تھا۔ یہ فقیر محتاجوں کی منتیں پوری کرنے کے لیے دْعائیں مانگا کرتا تھا۔ لہذا اسی راگ سے یہ جگہ مشہور ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نام سے ”ر“ ختم ہو کر سونڈا ہوگیا۔
سونڈا کے آثار سندھ کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ سونڈا اور اس کے قریبی علاقوں میں قدیم قبرستان، مساجد، محل اور کوٹ قلعوں کے آثار آج بھی نمایاں ہیں۔ سونڈا کا قبرستان انہی آثار میں سے ایک ہے۔ اس قبرستان میں موجود قبریں پیلے پتھر سے بنی ہوئی ہیں۔ یہ پتھر قریبی پہاڑی سے نکالا گیا تھا۔ اس وقت ان قبروں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔

زیادہ تر قبروں کے نشانات مٹ چکے ہیں جب کہ بہت سی قبروں کے پلیٹ فارم تک مٹی میں مل گئے ہیں۔ ان آثار قدیمہ کو معدوم ہوتا دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ سونڈا قبرستان میں موجود قبریں چوکھنڈی، پیرلطف اللہ قبرستان، پلیجانی قبرستان، مکلی قبرستان، پیر پٹھو قبرستان، درگا شاہ حسین گجر، تھرڑی کوٹ نذگجو اور حب ندی کے کنارے موجود قبرستان کی طرز پر بنی ہیں، لیکن ان میں قدرے انفرادیت بھی موجود ہے۔
سونڈا قبرستان کی قبروں پر جو مختلف نقش ونگار بنائے گئے ہیں ان میں گھڑسواروں، تیراندازوں، نیزہ اور تلوار بازوں وغیرہ کے نقوش شامل ہیں۔ ان قبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگجو مردوں کی قبریں ہیں، کیونکہ قبروں پر موجود نقش خاص عہدے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں کچھ قبریں اس وقت کے سپہ سالاروں کی ہیں۔

31 مارچ 1919ء کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق یہاں کے آثار انتہائی شاندار ہیں۔ سندھی کاریگروں کی محنت قابلِ دید ہے۔ یہاں قبریں مختلف جوڑوں میں بنی ہوئی ہیں۔ کہیں دو بڑی قبریں ایک ساتھ ہیں، کہیں تین اورکہیں چار یا پانچ قبریں ایک ساتھ جڑی نظر آتی ہیں۔ ان قبروں کی بنیادیں بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ بنیادوں میں لگے بڑے بڑے سرخ پتھروں پر بھی نقش کندہ ہیں۔ چند قبروں کے ساتھ بڑے پتھروں کے کتبے لگے ہوئے ہیں جن پر گھڑسواروں یا تیراندازوں کی تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ یہ کتبے 6، 7 فٹ لمبے جب کہ تقریباً 2 فٹ چوڑے ہیں۔
سونڈا قبرستان میں عورتوں اور بچوں کی قبریں مختلف نقش ونگار سے الگ کی گئی ہیں۔ عورتوں کی قبریں الگ مگر شاندار نقش ونگار سے مزین تھیں جن پر مختلف زیورات بنائے گئے تھے۔ ان قبروں پر خاص طور پر کنگن، جھومر، ہار اور پائل کو واضح دیکھا جا سکتا ہے۔ ان قبروں کی دلکشی، خوبصورتی اور فن تعمیر کے بارے میں انگریز تاریخ دان ہنری کزنس اپنی کتاب The Antiquities of Sind میں رقمطراز ہے کہ ٹھٹھہ کے دیگر قبرستانوں کی نسبت سونڈا قبرستان میں موجود عورتوں کی قبریں انتہائی خوبصورت ہیں۔ دیگر قبرستانوں میں موجود قبریں ان قبروں کے سامنے پھیکی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی ہر قبر نقش ونگار کے لحاظ سے دوسری قبروں سے الگ ہے۔ گھوم پھرکر نظر ڈالیں تو چھوٹی بڑی قبروں پر ہزاروں ڈیزائن محسوس ہوں گے۔ یہاں پر کاریگروں کی محنت، ذوق، مہارت اور فن تعمیر عروج پر نظرآتا ہے۔

سونڈا قبرستان میں کن لوگوں کی قبریں ہیں؟ اس بارے میں زیادہ تاریخی شواہد تو نہیں ملتے مگر بعض تاریخ نویسون نے اندازوں سے لکھا ہے کہ یہ قبریں زیادہ تر بلوچ قوم کے جنگجووں کی ہیں۔ ہنری کزنس نے جھرک پیرلاکھو قبرستان کو، جوسونڈا سے چند کلومیٹر کی دْوری پر ہے، بلوچوں کا قبرستان لکھا ہے۔
ہنری کزنس کے مطابق ایک قبر پر سنی لاشاری بلوچ لکھا ہوا تھا، اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ سونڈا قبرستان کی زیادہ تر قبریں اسی قبیلے کے لوگوں کی ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مقام پر لاشاری بلوچوں کی جنگ کسی دوسرے قبیلے سے ہوئی ہو اور جنگ میں مارے گئے سپاہیوں کو یہیں دفنا دیا گیا ہو۔ خیر، یہ کن لوگوں کی قبریں ہیں اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ قبرستان صدیوں پرانا ہے اس لئے یہاں دفن لوگوں کا تعلق بھی مختلف ادوار سے ہو سکتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس قبرستان میں کون لوگ دفن ہیں، یہ امر مبنی بر حقیقت ہے ان قبروں کو بنانے میں جس مہارت اور فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

Leave a Reply

Back to top button