سیلف ہیلپ

سوچ کی طاقت، ہم اور آپ…… رانا اشتیاق احمد

”انسان کی سوچ انتہائی طاقتور، مضبوط، وسیع اور مثبت ہے، جبکہ یہ عبرت ناک اور دہشت ناک ہتھیار بھی ہو سکتی ہے۔ انسان جو سوچ سکتا ہے، وہ کر سکتا ہے۔ اس کی سوچ مقصد کو پا لیتی ہے۔ وہ مقصد چاہے کوہ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرا ہی کیوں نہ ہوں، سوچ اسے اپنے پنجوں میں جکڑ سکتی ہے۔
”اللہ تعالی نے انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں ایک خوبصورت نعمت سوچ بھی ہے“۔ انسان نے آج تک جتنی بھی ترقی کی ہے اس کے پیچھے سوچ کی طاقت پوشیدہ ہے۔ سوچ کے بغیر انسان کہیں کا نہیں۔ انسان کے پیدا ہونے کے بعد اس کی خوراک، لباس اور رہن سہن کے طریقہ کار کو سوچ نے ہی ڈیزائن کیا ہے پھر جیسے جیسے سوچ بڑھتی گئی، حضرتِ انسان ترقی کرتا گیا۔ انسان کی سوچ ہی اسے فرشتوں سے افضل اور جانوروں سے بدتر بنا دیتی ہے۔ سوچ ہی اسے کامیاب ترین اور سوچ اسے دنیا کا ناکام ترین انسان بنا دیتی ہے۔ سوچ نے دنیا دریافت کی، اسی نے چاند تک جانے کا راستہ بتایا۔ سوچ ہی مکہ میں لے جاتی ہے اور سوچ ہی گناہوں کے بازار میں۔ مثبت سوچ کسی بھی خطے کو امن کا گہوارہ بنا دیتی ہے اور منفی سوچ اس میں بسنے والوں کو دہشت گرد بنا دیتی ہے۔ سوچ ہی جنت کا راستہ بتاتی ہے، سوچ ہی دوزخ کا سامان پیدا کرتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ سوچ کی طاقت کو سمجھے بغیر اس جہان سے کوچ کر جاتے ہیں۔
جو سوچ کی طاقت کو سمجھ لیتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ نہایت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ سوچ نہ تو بازار سے خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سے ادھار لی جاتی ہے۔ یہ خدا کا تحفہ ہے جو انسان کے لیے بالکل مفت ہے، سوچنے پر کوئی پابندی ہے اور نہ ہی کوئی آپ کی سوچ چھین سکتا ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ سوچ ہماری عملی زندگی میں طاقت کا مظاہرہ کیسے کرتی ہے، اس کو سمجھنے کیلئے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اشارہ ہی کافی ہے۔ سوچ نے ہی نیوٹن کو بتایا کہ زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے، سکندر اعظم نے بھی جب استاد سے سنا کہ انسان جو سوچ سکتا ہے، وہ کر سکتا ہے تو اسی سوچ نے اس سے دنیا فتح کروائی۔ دنیا کی تاریخ سوچ کی طاقت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اب قدرے گہرائی سے سوچتے ہیں کہ کس طرح سوچ انسان سے مشکل سے مشکل کام آسانی سے کروا لیتی ہے۔
مشہور فلاسفر جون اساراف کا کہنا ہے: ”تم دنیا میں انتہائی طاقتور مقناطیس ہو، تمہارے اندر ایک مقناطیسی طاقت ہے جو دنیا میں تمام چیزوں سے زیادہ طاقتور ہے، یہ ناقابل شکست طاقت تمہاری سوچ ہے۔“ انسان کا بس یہی کام ہے کہ اپنی سوچ کو بالکل واضح رکھے کیونکہ سوچ کے ذریعے آپ کے دماغ میں ایک تصویر بن جاتی، پھر آپ اس کے حصول کے لیے جتنا سوچیں گے، اتنی ہی جلدی وہ چیز آپ کو مل جائے گی۔ جون اساراف مزید کہتا ہے”آپ کی موجودہ زندگی آپ کی ماضی کی سوچوں کا سایہ ہے۔“
معروف موٹی ویشنل سپیکر باب پراکٹر کا کہنا ہے: ”اگر آپ کسی چیز کو ذہن میں رکھتے ہیں تو وہ آپ کے ہاتھ میں آنے لگتی ہے۔“ مائیک ڈولے تین لفظوں کا قانون بیان کرتے ہیں Thoughts become things یعنی ’سوچیں چیزیں بن جاتی ہیں‘۔
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، بائیو میٹرک سسٹم کا دور ہے، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا دور دورہ ہے، غیر قانونی طریقے سے اب کسی ملک میں گھسنا آسان نہیں ہے۔ لیکن مجھے بہت حیرانگی ہوئی کہ اس دورجدید 2019 ء میں پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے بتایا کہ میرا چھوٹا بھائی غیر قانونی طریقہ سے ڈنکی کے ذریعے مختلف ملکوں کی سرحدیں پار کرتا ہوا یورپ میں پہنچ گیا ہے، اور اب اس نے وہاں کاغذات کے لیے درخواست بھی دی ہے۔ میں یہ خبر سن کر حیران ہو گیا کیونکہ وہ چھوٹی عمر کا لڑکا ہے، اس نے کبھی اکیلے سفر بھی نہیں کیا تھا۔صرف اس کے دماغ میں سوچ تھی کہ میں کسی بھی طریقے سے یورپ پہنچ جاؤں، اس نے اسی جنون کے تحت ایک مرتبہ گھر سے بھاگنے کی کوشش بھی کی جس پر گھر والوں نے قابو کر کے اسے سخت سزا دی تھی کہ یہ طریقہ خطرناک اور نا ممکن ہے، لیکن اس نے ایک نہ سنی اور اس کی سوچ نے اسے سات ماہ بائی روڈ سفر کرنے کے بعد یورپ پہنچا دیا، یہ بات سننے کے بعد میرے منہ سے نکلا ”سوچ جیت گئی“۔
اسی طرح ایک مزدوروں کا گروہ مزدوری کرنے کے لیے گاؤں سے شہر آتا ہے، وہ ایک ساتھ 500 روپے دیہاڑی کے حساب سے مزدوری کرتے ہیں اور مٹی پلاٹ میں ڈالتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک مزدور سوچتا ہے کہ میں ساری زندگی مزدور نہیں رہوں گا۔ وہ اچھی زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ لہذا وہ ہمت کرتا ہے اور مالک سے بات کرتا ہے کہ مجھے ٹھیکہ دے دیں، میں دوسرے مزدوروں کو ساتھ ملا کر زیادہ مٹی پلاٹ میں ڈالوں گا اور آپ ہمیں دیہاڑی کے لحاظ سے نہیں بلکہ ٹرالی کے حساب سے مزدور ی دیں آپ کا فائدہ یہ ہو گا کہ کام جلد ختم ہو جائے گا۔ بات مالک کی سمجھ میں آگئی۔ اس طرح مزدور نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر زیادہ کام کیا اور پیسے بھی زیادہ کمائے۔ آہستہ آہستہ وہ مزدور بات چیت کرنے اور مزدوری کے معاملات طے کرنے میں زیادہ ماہر ہو گیا۔ اب وہ خود کام نہیں کرتا تھا، صرف دوسروں سے کام کرواتا تھا، اس کے کپڑے صاف رہتے اور وہ پیسہ بھی زیادہ کماتا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بات چیت اور انتظامی امور میں اس کا تجربہ زیادہ ہونے لگا۔ وہ بڑا ٹھیکدار بن گیا، اس کا رہن سہن بدل گیا۔ پھر اس نے وکیل کی مدد سے اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروا لی اور سرکاری کنٹریکٹر بن گیا۔ اب اس کے پاس اچھی گاڑی، بنگلہ اور بنک بیلنس ہے، اور کچھ پڑھے لکھے لوگ اس کے ملازم بھی ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھی مزدور آج بھی اسی طرح مزدوری کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کامیاب ہونے والے مزدور نے سوچا کہ وہ اپنی زندگی بدلوں گا۔ اسی سوچ نے اس کی زندگی بدل ڈالی جب کہ اس کے ساتھی مزدور سوچنے کی جرأت نہ کر سکے، اس لئے اپنی حالت نہ بدل سکے۔
مائیکل برنرڈ کا کہنا ہے کہ”ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں کچھ قوانین ہیں جن کو ”لازآف یونیورس“ کہا جاتا ہے۔ جیسے کشش ثقل کا قانون ہے۔ آپ اگر کسی بلڈنگ سے گرتے ہیں تو چاہے آپ اچھے انسا ن ہے یا بُرے، آپ زمین سے ہی ٹکرائیں گے۔ اسی طرح ”لا آف اٹریکشن“ بھی قدرت کا ایک قانون ہے۔ لسانی چولز کا کہنا ہے”Law of attrection واقعی ایک تابعدار قانون ہے، جب آپ ان چیزوں کے متعلق سوچتے ہو جن کو آپ نے حاصل کرنا ہے پھر آپ نیت کے ساتھ اس پر فوکس کرتے ہیں تو لا آف اٹریکشن کی وجہ سے وہی چیزیں آپ کو مل جاتی ہیں۔ بل حارث کا کہنا ہے ”جب آپ کسی چیز پر فوکس کرتے ہیں، اس کے بارے میں سوچتے ہیں،آپ میں وہ چیز حاصل کرنے کا جذبہ جتنا زیادہ ہو گا، آپ اتنی ہی جلدی اسے حاصل کر لیں گے۔“
ڈاکٹر فریڈ الان ولف جو فزکس کے ایوارڈ یافتہ پروفیسر ہیں، کہتے ہیں ”کوانٹم فزکس ایجاد کے اس نقطہ سے شروع ہوتی ہے کہ آپ دنیا رکھتے ہی نہیں جب تک دنیا کو اپنے دماغ سے نہ دیکھ لیں اور پھر آپ کے دماغ میں دنیا کی جیسی شکل ہو گی آپ دنیا کو ویسا ہی سمجھیں گے“۔ آپ کی ماضی کی سوچیں ہی آپ کے موجودہ حالات کی ذمہ دار ہیں، اسی طرح آپ کی موجودہ سوچیں آپ کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں آپ کو وہی چیز ملتی ہے جسے آپ اپنی سوچ کے ذریعے دعوت دیتے ہیں۔
کیا سوچ کو کنٹرول کرنا ممکن ہے؟
مارسی سیماؤف کہتے ہیں کہ ہم جتنی سوچیں رکھتے ہیں ان پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ایک دن میں ہمارے ذہن میں 60000 خیالات آتے ہیں، اگر ہم ان خیالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے تو یقینا ہمارا دماغ تھک جائے گا بلکہ برداشت ہی نہیں کر پائے گا۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس ایک انتہائی آسان لائحہ عمل ہے جس کی بنا پر ہم جائزہ لیں سکتے ہیں کہ ہم سوچ کیا رہے ہیں، ہمارے جذبات یہی ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم سوچ کیا رہے ہیں۔ اس حوالے سے باب ڈول کا کہنا ہے”
جذبات ایک ناقابل یقین تحفہ ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں۔ ہماری سوچ ہے ہی ہمارے جذبات کی وجہ سے۔“
کسی بھی انسان میں جذبات دو قسم کے ہوتے ہیں: اچھے اور بُرے۔ اچھے جذبات کی صورت میں آپ اچھا محسوس کرتے ہیں جبکہ ڈپریشن، غصہ، بے چینی کی کفیت میں آپ کے جذبات منفی ہوتے ہیں اور آپ خود کو بہت کمزور محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم بُرا محسوس کر رہے ہیں اور اپنی سوچ تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کرتے تو یہ بات اس امر کی عکاس ہے کہ ہم نے ایسے ہی حالات میں رہنا اور مزید پریشانی کا سامنا کرنا ہے۔ ہماری سوچ ہمارے لاشعور کو کنٹرول کرتی ہے۔ اگر ہم بُرا محسوس کر رہے ہیں تو ہم مزید بُرے حالات اور کمزوریوں کو خیالات کے ذریعے اپنی طرف لا رہے ہیں۔ اور اگر ہم اچھا سوچ رہے ہیں تو ہم اپنے مستقبل کی خواہشات کی راہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے جب آپ اچھا محسوس کرتے ہیں تو آپ مضبوطی سے اچھی چیزوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ہمارے جذبات ہی ہماری فیڈ بیک ہیں کہ ہمارا راستہ کیا ہے، ہم کامیابی کی طرف جا رہے ہیں یا مایوسی ہی ہماری منزل ہے۔ اگر آپ ایک اچھے دن کا آغاز کرتے ہیں، اچھے موڈ میں ہوتے ہیں، کسی بھی چیز کو موڈ خراب نہیں کرنے دیتے تو لا آف اٹریکشن کے مطابق مزید اچھے جذبات والے حالات پیدا کر لیں گے۔ ایسے جذبات کا حامل شخص یقینی طور پر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
منفی جذبات کے کنٹرول سے نکلنے کا طریقہ
بوب پراکٹر کے مطابق جب آپ بُرا محسوس کر رہے ہوں، تو کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اس صورت حال کو ایک لمحہ میں ختم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آپ کو چاہیے کہ ایسی کیفیت سے نکلنے کے لیے پُرسکون ماحول میں اپنی پسند کا میوزک سنیں یا خود کوئی گانا گنگنانے کی کوشش کریں۔ پھر آپ اپنے لاڈلے چھوٹے بیٹے یا کسی چاہنے والے کے ساتھ کچھ لمحات گزاریں تو آپ بُرے جذبات کے شکنجے سے آزاد ہو سکتے ہیں۔“
کچھ لوگ موسیقی وغیرہ کو اچھا نہیں سمجھتے تو ان کے لیے بہترین مشورہ یہ ہے کہ وہ پانی میں تیراکی کریں، اگر ایسا ماحول میسر نہ ہو تو کم از کم ٹھنڈے پانی سے نہا لیں۔ اس کے علاوہ کوئی تھکا دینے والی ورزش کریں یا کوئی نئی ورزش سیکھنے کی کوشش کریں۔ ایسے حالات میں پہاڑ وغیرہ یا بلندی پر چڑھنا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ اپنے ارد گرد کا ماحول بھی صاف رکھیں، صاف ستھرا اور استری شدہ لباس پہنیں، اگر ہو سکے تو ڈرائی کلین کروا کر کپڑے پہنیں، آپ کے جوتے بھی پالش ہونے چاہیئں۔ شیو اور کٹنگ کا بھی خیال رکھیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے جذبات مثبت ہو جائیں گے اور مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے، آپ بہتر محسوس کریں گے۔
اگر آپ گھر میں افسردہ بیٹھے ہیں، نہائے بھی نہیں اور لباس بھی صاف ستھرا نہیں ہے، آپ کی شیو بڑھی ہوئی ہے تو ایسی صورتحال نہ صرف آپ میں اعتماد کی کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ آپ کے اندر مایوسی پھیل جاتی ہے اور آپ مزید پریشانیوں کو اپنی طرف لے آتے ہیں۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے اگر آپ پانچ وقت وضو کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور اکثر درود پاک کا ورد کرتے اس نیت کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہماری مشکل آسان کر دیں گے تو انشا اللہ بہت جلد آپ اس بے چینی اور مایوسی کی کیفیت سے باہر نکل آئیں گے۔
آپ کی زندگی کا دارومدار جس شخص پر ہے، اس کے اندر ہر چیز کو بدلنے کی طاقت ہے اور وہ شخص آپ خود ہیں۔ آپ کے علاوہ یہ کام کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، یہ اختیار صرف آپ کو ہی حاصل ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو سامنے نظر آنے والاشخص ہی آپ کی کامیابی یا ناکامی کا ذمہ دار ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ کسی اور کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائیں فوراََ اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنے آپ سے پوچھیں میں کیوں ناکام ہوں؟ میری غلطی کیا ہے؟آپ کا ضمیر آپکو بتائے گا کہ آپ کی سوچ اور عادتیں کیا ہیں۔
اس لئے سوچو، سوچو اور سوچو؛ بڑے خواب دیکھو؛ سوچنے کی کوئی قیمت نہیں، مثبت سوچو، سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے سوچو؛ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے سوچو، پھر ان سب چیزوں سے بڑھ کر انسانیت کے لیے سوچو۔ یہ ایک عظیم مشن ہے جسے عظیم لوگ ہی پورا کر سکتے ہیں …… یاد رکھیں! ان عظیم لوگوں میں سے ایک آپ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button