کتابیں

سوہنا شہر لاہور…… میم سین بٹ

سوہنا شہر لاہور ادیب، شاعر اور براڈ کاسٹرطاہر لاہوری کی اپنے شہر پر لکھی جانے والی کتاب ہے جسے سنگ میل نے 1994ء میں شائع کیا تھا مصنف کتاب کے دیباچے میں لاہور شہر کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرتے ہیں اور مختلف ادوار کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے آخر میں انگریز دور کی تعریف کرتے ہیں تاہم وہ اسے تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے لاہور کی زندگی کو نیا موڑ ملا، سکھوں کی چیرہ دستیوں کے ستائے ہوئے لوگ سکھ کی نیند سونے لگے آزادی سے کام کرنے لگے جہالت کے اندھیرے دور ہونے لگے جدید علوم و فنون کا دور شروع ہو گیا انگریز ظالم بھی بہت تھا اور قدر دان بھی تھا اس کے ظلم کا اندازنیا تھا وہ پرانے حکمرانوں سکھوں کی طرح قتل و غارت کا قائل نہیں تھا وہ سارے ہندوستان کو کنگال کر کے دولت سے برطانیہ کے خزانے بھرتا رہا تھا اس نے ہندوستان کو غلامی کے قفس میں قید تو کر رکھا تھا مگر اس انداز سے کہ ہر شخص امن و سلامتی، عدل و انصاف اور سکون کی فضا محسوس کرتا تھا!“
یہ بھی پڑھیں! لاہور کی ٹھنڈی سڑک…… میم سین بٹ
دیباچہ پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ مصنف نے کتاب کا عنوان ”لاہور۔یادوں کا گلشن“ رکھا تھا شاید اس کا پہلا ایڈیشن اسی نام سے کسی دوسرے پبلشر نے چھاپا تھا،کتاب کے پہلے باب کا نام بھی سوہنا شہر لاہور ہے،طاہرلاہوری دیگر ابواب میں لاہور شہر کی رونقوں، لاہور کے تین حصوں، جارج ششم کی تاجپوشی،میلوں، ٹھیلوں اور تہواروں، پنجابی مشاعروں، تھیٹر اور ریڈیو کی آمد کے علاوہ لاہور میں فلموں کی تیاری کا احوال بھی لکھتے ہیں،میلوں، ٹھیلوں اورتہواروں کے باب میں وہ بسنت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں لاہور میں بسنت منانے کا احوال بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ کوٹھوں پر پتنگ بازی پر بڑا شور شرابا ہوتا تھا،پتنگ کٹ جانے پر آئی بو کی صداؤں سے شہر گونجتا رہتا، لاہور کے پتنگ باز بسنت کے تہوار پر سال بھر کی روزی کما لیتے تھے پتنگوں اورڈور کا زیادہ تر کاروبار بھاٹی،موچی اورشاہ عالمی دروازے کے اندر ہوتا تھا،بھاٹی دروازے کا منا پہلوان، بلا پہلوان اور کاکا برادران پتنگیں تیار کرنے میں خاص مہارت رکھتے تھے بعد ازاں ان کا یہ جدی پشتی کاروبار ان کی اولاد نے سنبھال لیا تھا پتنگ بازی واحد شوق ہے جس میں ہر سال بیسیوں لوگ کٹی ہوئی پتنگیں لوٹنے کے دوران چھتوں سے گر کر ہلاک اور زخمی ہو جاتے ہیں اب آئی بو کے ساتھ بندوقوں، پستولوں اور کلاشنکوفوں سے دل دہلا دینے والی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں!“
طاہر لاہوری نے لاہور میں بسنت کا تہوار منانے کے حوالے سے جس دور کا ذکر کیا ہے اس زمانے میں ابھی پتنگ بازی کیلئے دھاتی ڈور کا استعمال شروع نہیں ہوا تھااس برائی نے 2000 ء کی دہائی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی آمریت کے دوران جنم لیا تھا سابق فوجی آمر ہر سال بسنت منانے کیلئے اپنے رنگین مزاج دوستوں کے ساتھ لاہور آتا تھا اسی دور میں دھاتی ڈور کے ساتھ پتنگیں اڑانے کا آغاز ہوا تھا اور یہ دھاتی ڈور شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کی گردن کاٹنے کا باعث بننے لگی تھی معصوم بچوں سمیت متعدد افراد دھاتی ڈور کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں چند سال پہلے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد لاہور سمیت صوبے بھر میں بسنت کا تہوار منانے پر پابندی عائد کر دی تھی جس سے ہر سال شہریوں کی گردنیں کٹنے سے بچ گئیں تاہم گڈیاں اور ڈور تیار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کا روزگار ختم ہوگیا اور لاہوریئے اپنی ثقافت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں! میرا شہر لاہور…… میم سین بٹ
مختلف اقسام کے مزیدار کھانے بھی لاہور کی ثقافت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ اور پرانی انارکلی میں ٹورسٹ سٹریٹ کے قیام سے پہلے بھی لکشمی چوک سمیت لاہور کے متعدد علاقے کھانے پینے کے مراکز میں شمار ہوتے تھے بہت کم لاہوریئے گھر میں ناشتہ تیار کرتے ہیں زیادہ تر شہری بازار سے حلوہ پوری، نان چنے، سری پائے، لسی پراٹھا وغیرہ خرید لاتے ہیں لاہوریوں کی خوش خوراکی دنیا بھر میں مشہور ہے اس حوالے سے مصنف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ لاہور کے لوگ قدرتی طور پر یا شاید پانی ومٹی یعنی ماحول کے باعث خوش خوراک ہیں، صبح سویرے بچے، بڑے، بوڑھے،جوان سبھی دودھ، دہی اور نانبائی کی دکانوں کے گرد ہجوم کی صورت میں جمع ہوتے ہیں کئی گھروں میں شام کو چاول کھانے کا رواج تھا شہر میں مٹھائیوں کی بیشتر دکانیں ہندؤوں کی تھیں جبکہ مسلمان کھیر، کھویا، گاجر کا حلوہ وغیرہ یا سیخ کباب اور شامی کباب بیچتے تھے!“
اندرون بھاٹی اور موچی دروازے میں رہنے والی مشہورشخصیات کا بھی کتا ب میں تفصیلی ذکر کیا گیا ہے بھاٹی دروازے کو تو حکیم احمد شجاع بھی ”لاہور کا چیلسی“قرار دے چکے ہیں تقسیم ہند سے پہلے اس علاقے میں رستم زماں گاماں پہلوان، رستم ہند امام بخش پہلوان، سر مراتب علی سید امجد علی، فقیر سید وحید الدین،موسیقار خواجہ خورشید انور، گلوکار محمد رفیع،ہدایت کار اے آر کاردار،کرکٹر حفیظ کاردار، ڈاکٹر محبوب الحق، حنیف رامے، میاں افتخار تاری،میرزا ادیب اور رحمان مذنب وغیرہ شامل ہیں جبکہ اندرون موچی دروازے کی رہائشی معروف شخصیات میں مولانا محمد حسین آزاد، مفتی کفایت اللہ، مولانادیدار علی شاہ، مولانا داؤد غزنوی، سابق گورنر جنرل ملک غلام محمد، سابق وزیر اعلیٰ مغربی پاکستان نواب مظفر علی قزلباش، سابق سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین، استاد عشق لہر، استاد بڑے غلام علی خاں، اداکار غلام محمد اور اداکارہ کملا کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں! لاہور کا کافی ہاؤس…… میم سین بٹ
تقسیم ہند سے پہلے لاہور مسلمانوں کے ساتھ ہندؤوں کا بھی شہر تھا مصنف کتاب میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ صبح سے پہلے لاہور میں ایک عجیب سماں ہوتا تھا،ایک رومانی کیفیت ہوتی تھی ویسے تو لوگ رات بھر پھرتے پھراتے رہتے تھے مگر جو لوگ جلد سوجانے کے عادی تھے وہ رات دو تین بجے جاگ جاتے تھے، گلیوں،کوچوں، بازاروں اور باغوں میں آنے جانے والوں کا تانتا بندھ جاتا تھا،مسلمان خدا کا نام لیتے ہوئے مسجد وں کو جا رہے ہوتے جبکہ ہندو رام رام کرتے ہوئے دریائے راوی کی جانب رواں دواں ہوتے تھے،ہندومرد اورعورتیں سبھی منہ اندھیرے دریا پر جا کر اشنان کرتے تھے کچھ ہندو شہری گھروں پر بھی نہا تے تھے مگر پانی استعمال کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے تھے وہ اپنے جسم پرپانی کم ڈالتے اور رام رام زیادہ کرتے تھے!“
کتاب کے آخری صفحات پر مصنف نے لاہور میں فلموں کی تیاری کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ لاہور کی پہلی فلم کمپنی یونائیٹڈ پلئیرز کارپوریشن کے نام سے میاں عبدالرشید کاردار نے قائم کی تھی جو اندرون بھاٹی دروازے کے رئیس تھے انہوں نے ماسٹر غلام قادر کو ہیرو اور مس گلزار کو ہیروئن لے کر پہلی خاموش فلم ”حسن کا ڈاکو“ بنائی تھی پھر انہوں نے آوارہ رقاصہ، صفدر جنگ، گڈریا سلطان اور سرفروش وغیرہ بنائیں،اس کمپنی کی تیار کردہ آخری فلم قاتل کٹار تھی جس کے مکمل ہونے پر ڈائریکٹر اے آر کاردار نے ہیروئن بہار اختر کے ساتھ نکاح کر لیا تھا اداکارہ بہار اختر کا تعلق ہیرا منڈی کے طوائف گھرانے سے تھا جس کے خاندان نے میاں اے آرکاردار کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا تھا پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تاہم بعد ازاں وہ مبینہ مغویہ کے عدالت میں بیان قلمبند کرانے پر رہا اور مقدمے سے بری تو ہو گئے مگر ان کی فلم کمپنی بند ہو گئی جس سے لاہور کے تمام اداکار بیکار ہو گئے،اے آر کاردار اپنی بیوی بہار اختر کے ساتھ لاہور سے کلکتہ منتقل ہو گئے تھے کلکتہ اور بمبئی میں انہوں بہت سی فلمیں ڈائریکٹ کیں، اے آر کاردار کی سالی اور بہار اختر کی بہن سردار اختر نے بعد ازاں بطور ہیروئن کلکتہ و بمبئی کی فلموں میں بہت شہرت حاصل کی تھی!“

Leave a Reply

Back to top button