تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سٹار فلاور: صدیوں سے تندرستی اور توانائی کا ضامن

سٹار فلاور میں ایک بہت ہی اہم جزو کیکسی نین(Caccinine)پایا جاتاہے، اس کے علاوہ کاربو ہائیڈریٹس، کیروٹین، فیٹس، فائبر، گلو کوز، گلٹوز، وٹامن اے، وٹامن سی،آئرن، میگنیشیم، تانبا، سوڈیم، پوٹاشیم، زنک، کوبالٹ، کیلشیم، فاسفورس وغیرہ اور پائیرو لیزیڈین الکلائیڈزپائے جاتے ہیں۔جبکہ گاما لینولیک ایسڈاور اومیگا6فیٹی ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔

صدیوں سے اپنے طبی خواص کی بدولت انسانی استعمال میں آنے والا سٹار فلاور نامی پوداجسے عام زبان میں گاؤ زبان بھی کہتے ہیں، آج بھی طب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

سٹار فلاور کا پودا ایک سے دو فٹ تک اونچا ہوتا ہے۔ اوراس کے تمام اجزا روئیں دار اور کھردرے ہوتے ہیں۔ اس کے پتے 13نچ تک لمبے اور ڈیڑھ انچ تک چوڑے ہوتے ہیں۔ اس کے پتے سبزی مائل سفید اور گائے کی زبان کے مشابہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس کو گاؤزبان بھی کہتے ہیں۔ تازہ پتے گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کے پھول ایک انچ تک چوڑے پانچ پتوں پر مشتمل نیلے یا جامنی رنگ اور بعض اوقات گلابی رنگ کے بہت ہی خوبصورت اور چمکدار ہوتے ہیں اور کھلنے پر ستارے کی شکل نظر آتے ہیں اس لئے اس پودے کو سٹار فلاور(Star Flower) بھی کہتے ہیں۔

سٹار فلاور کو اردو، بنگالی اور فارسی میں گاؤزبان کہتے ہیں۔ عربی زبان میں لسان الثوراورانگریزی زبان میں اس کو بوریج(Borage) کہتے ہیں۔

اس کی ایک سفید پھولوں والی قسم بھی کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول موسم گرما میں کھلتے ہیں اور اپریل سے ستمبر تک اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ پھول آنے پر اس کے پتوں کو بھی اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس کے بیج سیاہی مائل بیضوی سی شکل کے اور جھری دار ہوتے ہیں۔

سٹار فلاورکے تمام اجزا بطور دوا استعمال کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر اس کے پھول پتے اور ٹہنیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ بازار میں جوسٹار فلاور فروخت کیا جاتا ہے اس میں اس کے خشک پتے اور ٹہنیاں موجود ہوتی ہیں اور اس کے پھول علیحدہ فروخت کئے جاتے ہیں۔
سٹار فلاور کے بیجوں کا تیل بھی نکالا جاتا ہے۔ اس پودے کو بطور سلاد، پکا کر، سوپ وغیرہ کو خوشبو دار بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سٹار فلاور کا آبائی وطن شام ہے۔ جبکہ اب یہ پودا برطانیہ سمیت یورپ، شمالی امریکہ، ایشیا،، بحیرہ روم کے آس پاس کے علاقہ اور شمالی افریقہ میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔صدیوں سے یہ پودا انسان کو خوش و خرم اور ہشاش بشاش کرتاچلا آ رہاہے۔

بوعلی سینا ؒ نے اپنی مشہور کتاب ”الادویہ القلبیہ“ میں لکھا ہے کہ سٹار فلاور پہلے درجے میں گرم تر ہے اور یہ سوداء(Black Bile) کو خارج کرنے کی اپنی طاقت کی وجہ سے دل کو طاقت اور فرحت(Exhilirant) دینے کی بڑی مضبوط خصوصیت کا حامل ہے اور یہ قلب میں خون کوصاف(Purifier) بھی کرتا ہے۔

سٹار فلاور میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
سٹار فلاور میں ایک بہت ہی اہم جزو کیکسی نین(Caccinine)پایا جاتاہے، اس کے علاوہ کاربو ہائیڈریٹس، کیروٹین، فیٹس، فائبر، گلو کوز، گلٹوز، وٹامن اے، وٹامن سی،آئرن، میگنیشیم، تانبا، سوڈیم، پوٹاشیم، زنک، کوبالٹ، کیلشیم، فاسفورس وغیرہ اور پائیرو لیزیڈین الکلائیڈزپائے جاتے ہیں۔جبکہ گاما لینولیک ایسڈاور اومیگا6فیٹی ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔

سٹار فلاور کے طبی فوائد:

طاقتوراینٹی اوکسیڈنٹ:
یہ ایک طاقتوراینٹی اوکسی ڈنٹ ہے جو جسم سے نقصان دہ فری ریڈ یکلز کو ختم کرتا ہے۔اس میں پائی جانے والی کیروٹین (پرو۔ وٹامن اے) بھی بطور اینٹی اوکسی ڈنٹ کام کرتی ہے۔ یہ نقصان دہ فری ریڈیکلز سے بچانے، عمر رسیدگی اور کئی دیگر امراض سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔

آنکھوں کی حفاظت:
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وٹامن اے بینائی اور آنکھوں کی حفاظت، جلد اور بلغمی جھلیوں کی صحت اور حفاظت کے لئے بہت ضروری ہے۔جبکہ سٹار فلاور میں اعلیٰ قسم کی وٹامن اے پائی جاتی ہے۔

ذہنی اور دماغی امراض:
ذہنی اور دماغی امراض میں سٹار فلاور کا کرداربہت اہم ہے۔ یونانی طب کے مطابق سٹار فلاور انسانی جسم سے سوداء (Black Bile) کو خارج کرتا ہے اور روح کو فرحت تازگی دیتا ہے۔ طبیعت میں خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ طب کے مطابق جب انسانی جسم میں خلط سوداء بڑھ جائے تو دماغی یا ذہنی امراض پیدا ہوتے ہیں اور سٹار فلاور اسے خارج کرتاہے۔

دماغی ٹانک:
سٹار فلاور مقوی دماغ و اعصاب ہے۔ ذہنی دباؤ، جنون، مالیخولیا، ڈپریشن، اداسی اور پریشانی کو ختم کرتا ہے۔ اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ مسکن اعصاب ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر نیند لاتا ہے۔ اعضائے رئیسہ کو طاقت دیتا ہے۔ اسے طبیعت میں خوشی پیدا کرنے والا پودا بھی کہتے ہیں۔

سانس کے امراض:
سٹار فلاور حلق اور نظام تنفس کے بالائی اور زیریں حصوں کی سوزش یا ورم، خارش اور خشکی کو دور کرنے کے لئے زمانہ قدیم سے ہی استعمال کیا جا رہا ہے یہ بلغم کو نرم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے۔ جس سے چھاتی سے بلغم ختم ہونے سے سانس لینے میں آرام اور سکون ملتا ہے۔

نزلہ، زکام، بخار،کھانسی:
سٹار فلاور صدیوں سے نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ آج کی سانئس بھی اس کی اس طبی خصوصیت کو تسلیم کرتی ہے۔یہ بخار کو کم کرتا ہے۔ خشک کھانسی، بلغمی کھانسی، دمہ، زکام، نزلہ اور چھاتی کے انفکشنز میں بہت مفید ہے۔ اسی وجہ سے سٹار فلاوراور اس کے پھولوں کو زکام نزلہ اور کھانسی وغیرہ کے تقریباً تمام شربتوں اور خمیروں میں بطور ایک اہم جزو شامل کیا جاتا ہے۔

امراض قلب:
زمانہ قدیم سے ہی سٹار فلاور کو تقویت قلب کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہاہے۔ یہ اختلاج القلب(Palpitation)، تیزدھڑکن، گھبراہٹ، بے چینی اور دل ڈوبنے کا احساس(Heart Sinking) کی کیفیت میں بہت مفید ہے۔اس کے مرکبات کا استعمال Hypertension میں بہت مفید ہے۔

امراض جلد:
یہ جلد ی بیماریوں کا بھی موثر علاج ہے۔جلدپر بڑے اچھے اثرات مرتب کرتا ہے، جلد کو نرم کرتا ہے، اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے جلد کو صاف کرتا ہے۔ پسینہ آور پیشاب آور ہونے کی وجہ سے دونوں راستوں سے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے۔ پسینہ آورہونے کی وجہ سے جلد میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتا ہے۔

سٹار فلاور کی چائے یعنی ہربل ٹی یا جوشاندہ جلد کے امراض مثلاً دنبل(Boils)، جلد کی سرخی یا خراش(Rashes) کے لئے مفید ہے۔ بچوں میں پیدا ہونے والے امراض مثلاً خسرہ، لاکڑا کاکڑاکیلئے انتہائی مفید ہے۔ اس کے پتے جلا کر اس کا پاؤڈر چھڑکنے سے انہیں ٹھیک کر دیتا ہے اور دیگر زخموں کو خشک کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آنکھوں کی خراش میں بطور آئی لوشن بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

خواتین کے امراض:
سن یاس(Menopause) کے دوران جب عورتوں میں ایسٹروجن ہارمون پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی ایڈرینل گلینڈز پر ہوتی ہے تو اس دور میں بھی عورتوں کے لئے سٹار فلاور کا استعمال بہت مفید ہے۔دودھ پلانے والی ماؤں میں اس کا استعمال دودھ کی پیدا وار بڑھا دیتا ہے۔ جس سے بچے کو بھر پور غذا ملتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد کا ڈپریشن میں بھی اس کا جوشاندہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس تیل کو ماہواری کے مسائل، ایگزیما(Eczema) اور دیگر امراض جلد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گاؤزبان کے تیل کو ایوننگ پرم روز آئل(Evening primrose oil) کے ساتھ خون میں چکنائی کی مقدار کو کم کرنے میں مفید ہے۔اس کے بیجوں سے نکلا ہوا تیل کیپسول کی شکل میں مل جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button