HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » کالم » سٹوڈنٹس لٹریری و آرٹ فیسٹیول ، فروغ ادب کی ایک کاوش

سٹوڈنٹس لٹریری و آرٹ فیسٹیول ، فروغ ادب کی ایک کاوش

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

محمد مرتضی نور ……

کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں قیام امن ، استحکام اور خوشحالی کیلئے وہاں موجود تعلیمی ادارے بالخصوص جامعات اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔اگر جامعات پر امن ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں تو اسکا عکس معاشرے میں برابر نظر آتا ہے تاہم بے یقینی اور کنفیو ژن کی صورتحا ل میں یہ کیفیت بالکل برعکس اثرات مرتب کرتی ہے .

پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے جامعا ت کے اندر طلباءمیں عدم برداشت ، انتہا پسندی میں اضافہ جبکہ مثبت سرگرمیوں اور مکالمے کے کلچر میں تیزی سے کمی آئی ہے جس کے باعث حیرت انگیز واقعات رو نما ہوئے ، جامعات کے اندر اسی گھٹن زدہ ماحول کے خاتمے ،طلباءو طالبات کے دلوں اور دماغوں میں امن پسندی ،حب الوطنی ، برداشت ، رواداری اور پیار و محبت کے بیج بونے کیلئے انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم ، اقوام متحدہ مرکز اطلاعات ، پیغام پاکستان ، یونیورسٹی آف لاہور ، یونیورسٹی آف ایجو کیشن و دیگر سرکاری و نجی جامعات و اداروں کے اشتراک سے لاہور میں ہونیوالا چار روزہ انٹر نیشنل سٹوڈنٹ کنونشن و ایکسپوخوشگوار یادیں چھوڑ کرختم ہوگیا۔

اس موقع پر سٹوڈنٹس لٹریری و آرٹ فیسٹیول بھی ساتھ ساتھ جار ی رہا، سٹوڈنٹ کنونشن و ایکسپو اور لٹریری و آرٹ فیسٹیول کے دوران مسلسل چار روزلاہور کی تمام جامعات میں مختلف ادبی ، علمی ، فکری ،ثقافتی اور میوزیکل ایونٹس منعقد کئے گئے جبکہ کئی پروگرامز رائل پام کلب لاہور میں بھی منعقد ہوئے۔

فیسٹیول کے دوران طلباءکیلئے مختلف مقابلہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ،ان مقابلہ جات میں تقریری مقابلہ ، کلام اقبال گائیکی مقابلہ ،ثقافتی و ڈرامہ کے مقابلہ جات شامل تھے ، لٹریری و آرٹ فیسٹیول کے آغاز سے پہلے ملک بھر کی جامعات کے مابین غزل ، نظم ، افسانہ ، ناول ، انشائیہ لکھنے کا مقابلہ بھی منعقد کروایا گیااور پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنیوالے تخلیق کار طلباءکو فیسٹیول کے اختتامی سیشن میں انعامات اور ایورڈز دئے گئے ، اسی طر ح جامعات کے ایسے طلباءجنہوں نے بہترین طالبعلم کتاب ایوارڈ میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی ان طالبعلم مصنفین کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کی کتب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کرکے طلباءمیں کتب تحریر کرنے کی تحریک پید اکی گئی.

لٹریری فیسٹیول کی ایک اہم نشست گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں منعقد کی گئی ، اس نشست میں بیس سے زائد سرکاری و غیر سرکاری ادبی اداروں اور تنظیموں کے سربراہوں و نمائندوں نے شرکت کی ،ادبی اداروں کیساتھ طلباءکے اس مکالماتی سیشن میں ادبی اداروں و نمائندگان نے طلباءکو اپنے اپنے ادارے کے منصوبوں اور سرگرمیوں سے آگا ہ کیااور طلباءکو بتایا کہ وہ کس ادبی ادارے سے کیا سہولت حاصل کرسکتے ہیں ، اس طرح اس بامقصد اور بامعنی نشست کے ذریعے طلباءکو ادبی اداروں کے ساتھ جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی.

لٹریری فیسٹیول کا سب سے اہم ایونٹ نسل نو مشاعری تھا جو یونیورسٹی آف ایجو کیشن بنک روڈکیمپس کے کشادہ آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا،نسل نو مشاعر ہ میں طلباءو طالبات کی دلچسپی دیدنی تھی مشاعری کی صدارت معروف شاعرہ حمیدہ شاہین نے کی جبکہ نسل نو کے نمائند ہ اور مقبول شعراءعلی اکبر ناطق اور تہذیب حافی نے مہمانان اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی ، نسل نو مشاعر ہ میں جامعات کے شاعر طلباءو طالبات نے اپنا کلام پیش کیا اور بے پناہ داد وصول کی ، سٹوڈنٹس لٹریری فیسٹول کے دوران سینئر تخلیق کار سے ملاقات کے عنوان سے مینجمنٹ ہاوس میں طلباءو طالبات کی عہد حاضر کے اہم ترین ادیب ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا گیا.

اس سیشن میں ڈاکٹر خورشید رضوی نے طلباءکے ساتھ اپنا تخلیقی سفر اور تخلیقی تجربات شیئر کئے اور طلباءکے سوالات کے جوابات دئے ، اس نشست کے ذریعے طلباءکو بہت کچھ سیکھنے سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا،سٹوڈنٹ کنونشن ایکسپو اور لٹریری فیسٹیو ل میں ملک بھر کی 75جامعات کے کم و بیش20,000ہزار سے زائد طلباءنے شرکت کی ،اس ملک گیر ایونٹ میں چاروں صوبوں کی شرکت سے قومی یکجہتی کو فروغ ملا اور طلباءمیں پاکستانیت کا جذبہ بیدار ہوا ، لٹریری ایونٹس کے ساتھ مختلف جامعات میں امن رواداری ، نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان کے موضوعات پر اہم دانشوروں کے ساتھ طلباءکا تبادلہ خیال بھی منعقد کروایا گیا.

اس کثیر المقاصد فیسٹیول کے ذریعے طلباءکو ملک کے اہم ترین ادبی علمی اور صحافتی شخصیات کے ساتھ مکالمہ کرنے کا موقع ملا جس سے طلباءکے وژن میں اضافہ ہوا ، انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم کے زیر اہتمام منعقدہ اس سٹوڈنٹ کنونشن اور لٹریری فیسٹول نے طلباءمیںمثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے اور طلباءکی ادبی صلاحیتیوں کونکھارنے میں اہم کردار ادا کیا،طلباءکو ادبی وثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے امن پسند شہری بنانے کیلئے منعقد ہونیوالے سٹوڈنٹ کنونشن و لٹریری فیسٹیول سے تعلیمی اداروں شدت پسندی کے خاتمے میںمدد ملے گی ، یہ ایک مختصر کاوش ہے لیکن سفر جاری ہے.

اگر اہم اپنی نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے سنجیدہ ہیں تو ہمیں نوجوان نسل کو مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوگی ، اس سلسلے میں پہلی ذمہ داری جامعات کے سربراہان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ زیر تعلیم طلباءکو مختلف سوسایئٹیز کے قیام سے مثبت سرگرمیوں کیلئے مواقع فراہم کریں ، سٹوڈنٹس لٹریری و آرٹ فیسٹیول میں طلباءکی دلچسپی اور بھرپور شرکت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے نوجوان نسل میں ذہانت صلاحیت اور عزم کی کمی نہیں وہ کچھ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ،اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان طلباءکو مثبت و بہترین مواقع دیکر جامعات میں امن کی راہ میں حائل عناصر کو مات دیں ۔

مصنف کے بارے میں

مرتضیٰ نور 16 سال سے تعلیمی شعبہ سے وابستہ ہیں وہ اس وقت انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار پرموشن آف سوشل سائنسز ان پاکستان کے کوارڈینیٹر ہیں۔

جواب دیجئے