تجزیہ

سکیورٹی بانڈز کی شرط حکومتی سیاسی چال، نواز شریف کا انکار نیا امتحان…… منیراحمد بھٹی

حکومت کے لئے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلالنے سے انکار ممکن نہیں، دوسری طرف بیمار لیگی قائد کو بیرون ملک بھجوانے کی ذمہ داری لینا اس کے لئے محال ہے۔ اپنے بیانیے مین پھنسی حکومت کو راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ ای سی ایل سے نام نکالنے سے انکار کرتی ہے تو نواز شریف کو کوئی نقصان پہنچنے پر الزام اور ذمہ داری اس پر آئے گی جس کے نتائج اس کے لئے بھیانک ہو سکتے ہیں۔
نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت دیتی ہے تو ڈیل کی کالک سے بچنا مشکل ہو گا۔ اسی لئے حکومت نے فیس سیونگ کے لئے بانڈز کی شرط رکھ کر سیاسی چال چلی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے لیکن میاں نواز شریف نے مشروط طور پر باہر جانے سے انکار کر کے حکومت اور خود کو نئے امتحان میں ڈال دیا۔
اپنے گھر میں بستر علالت پر نواز شریف عمران حکومت اور طاقت کے مراکز کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں، وہ جلد سے جلد نہیں باہر بجھوا کر اس خطرے سے نجات چاہتے ہیں۔ رکاوٹ وزیراعظم عمران خان کا وہ بیانیہ ہے کہ این آر او نہیں دوں گا۔
فواد چوہدری، علی زیدی، فیصل واوڈا، مراد سعید، زلفی بخاری اور دیگر وزیروں مشیروں کے بھانت بھانت کے بیانات کا مقصد صرف یہ ہے کہ اتنی گرد اڑاؤ کہ عوام کو کچھ سمجھ نہ آئے۔ حکومت نے پوری کوشش کی کہ اسے کوئی کندھا مل جائے لیکن اس مرتبہ عدالت نے ذمہ داری لی نہ نیب نے۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کو نواز شریف سے سیکیورٹی بانڈز لینے کا مشورہ دے کر نظریہ ضرورت کے داعی شریف الدین پیرزادہ بننے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری کوئی فیصلہ لے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

Leave a Reply

Back to top button