HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » سیرت و کردارِمولا علی کرم اللہ وجہہ

سیرت و کردارِمولا علی کرم اللہ وجہہ

پڑھنے کا وقت: 8 منٹ

علّامہ سیّد شہنشاہ حسین نقوی …..

ابتدا عظیم اور دائمی رحمتوں والے اللہ کے نام سے۔
اَن گنت درود و سلام حضرات محمد وآلِ محمد پر۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کشتیِ معرفت کا کنارا علیؓ
سب سہاروں سے بہتر سہارا علیؓ
آﺅ اہلِ جہاں، یوں کریں فیصلہ
ساری دُنیا تمہاری ہمارا علیؓ

عزیزانِ گرامی قدر!21رمضان المبارک یومِ شہادت ہے نفسِ پیغمبر،مظہرِ کبریا، زوجِ بتول ؓ، اَخِ رسول،اسداللہ، یداللہ،عین اللہ، لسان اللہ جَنب اللہ،رِجل اللہ ، عیبة اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ہم اِس انتہائی غم و الم کے موقع پر ہم حضرت امامِ عصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور تمام عالمِ اسلام کودِلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور بارگاہِ ایزدی میں دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خلوصِ دل سے اہلِ بیتِ عظام ؓ کے راستے پرچلنے کی توفیق کرامت فرمائے۔(آمین)

علی ؓ کو سمجھنے کے لیے دماغ بھی علی کرنا پڑے گا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگرعلی ؓ کو سمجھ لیا جائے تو اللہ سمجھ میں آجائے گا۔اللہ نے علی ؓ کو اپنی مددکا مظہر قرار دیا ہے۔آپ کے تمام تر فضائل اور کمالات کو اگر مرکزی نقطے میں تلاش کریں، تو وہ ہے مرضیِ پروردگار۔اگر مولا علی کرم اللہ وجہہ کا تذکرہ شجاعت ،تذکرہ لیاقت، تذکرہ علم،تذکرہ حلم، تذکرہ خدمتِ سماج ،تذکرہ عدالت ،تذکرہ قضاوت، تذکرہ سخاوت،تذکرہ حُسنِ اَخلاق، تذکرہ تدبّر،تذکرہ سیاست، تذکرہ بصیرت ،تذکرہ انسانیت ، تذکرہ شہادت نہ ہو توتاریخِ اسلام نامکمل رہ جاتی ہے۔

امیر المومنین ، امام المتقین ، یعسوب الدّین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ دُنیا میں ہر لمحہ اپنے ربّ سے وابستہ رہے۔ ابتدا اللہ کے گھر سے ہوئی اور آخروقت اللہ کے گھر ہی میں آیا، آپ کی درمیانی زندگی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ سے کتنی وابستہ تھی ۔

ایک دن حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کو بہت غور سے تکتے ہوئے حضرت ابو بکرؓ کو بہت دیر ہوگئی، تو کسی نے پوچھ لیا کہ” آج آپ علی کرم اللہ وجہہ کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔“تو انھوں نے کہا:”آج صبح میں نے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سُنی ہے۔“

”جو علی ؓکے چہرے کو دیکھے گا،اُسے اللہ کی عبادت کا ثواب ملے گا۔“(الریاض النظرہ فی مناقب العترة۔حافظ محب الدین الطبّری۔ص37،39 )

بزرگ عالمِ باعمل ،حجة الاسلام والمسلمین علاّمہ سیّد ذیشان حیدر جوادی ؒ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں:
”مولائے کائنات حضرت علیؓ ابنِ ابی طالب ؓ کی زندگی کا مطالعہ کرنے والاسب سے پہلے جس حقیقت کا ادراک کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ زندگی ایک عظیم ترین مثالیہ اور روشن ترین منزل ہے۔انسانیت جس جنت ِ گمشدہ کی تلاش میں ہے،اُس کے حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ حیاتِ علیؓ ابنِ ابی طالبؓ ہے، جس میں زندگی کے ہر رُخ کا بہترین نمونہ ہے اورہر پہلو کا عظیم ترین شاہکار پایا جاتا ہے۔“(ذکرو فکر۔علاّمہ سیّد ذیشان حیدر جوادیؒ۔ص394)مرزا دبیرؒ نے کیا خوب کہا ہے:

جب نامِ علی ؓ منہ سے نکل جاتا ہے
گر کوہِ مصیبت ہو تو ٹل جاتا ہے
کیا نام ہے اِس نام کے صدقے ہو دبیر
گرتا ہوا اِنسان سنبھل جاتا ہے

خصائصِ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سلسلے میں چند خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علاّمہ جوادی ؒ اپنے مخصوص انداز میںیوں رقم طراز ہیں:

”1۔آپ کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے، جس میں اوّلین و آخرین میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے۔

2۔آپ کو پہلی غذا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعابِ دہن سے ملی ہے۔

3۔آپ کی تربیت کا مکمل کام سرکارِ دو عالم نے انجام دیا ہے۔

4۔اسلام کی دعوتِ اوّل کے موقع پر انتظامات کا سارا کام آپ نے انجام دیا ہے۔

5۔شبِ ہجرت بسترِ رسول پرآپ نے فدا کاری کا مظاہرہ کرکے سرکار کی جان بچائی ہے۔

6۔ہجرت کے موقع پر اہلِ مکّہ کی امانتوں کے واپس کرنے کا کام سرکار نے آپ کے سپرد کیاتھا۔

7۔مدینے میں قدم رکھتے وقت جب مسجد قباءکی تعمیر ہوئی ہے ،جو اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے، تو اُس کی تعمیر کا بنیادی کام آپ ہی نے انجام دیا تھا۔

8۔اسلام کے پہلے جہاد بدر میںستّر کفار میں سے نصف سے زیادہ آپ ہی کی تلوار سے مارے گئے تھے۔

9۔ میدانِ اُحد میں ”لا فتیٰ اِلّا علی ؓ “ کا خطاب آپ ہی کو ملا تھا۔

10۔جنگِ خندق میں ”کُلِ ایمان“ آپ ہی کو قرار دیا گیاتھا۔

11۔عمرو بن عبدود عامری کے قتل کے موقع پر سرکارِ دو عالم نے آپ ہی کی ضربت کو ثقلین کی عبادت سے گراں تر قرار دیا تھا۔

12۔”اعلم صحابہ“ کا خطاب آپ ہی کو دیا گیا ہے اور ”بابِ مدینة العلم“بھی آپ ہی کو قرار دیا گیا ہے۔

13۔منبر پر ”سلونی سلونی قبل ان تفقدونی“(پوچھو پوچھو اِس سے پہلے کہ تم نہ رہو) کا اعلان آپ ہی نے کیا ہے۔

14۔معصومہ عالم جنابِ فاطمہ ؓ سے عقد کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔

15 ۔مباہلے میں” نفسِ رسول “ آپ ہی کو قرار دیا گیا ہے۔

16۔اسلامی مجاہدات میں ہزاروں افراد کے قتل کا سہرا آپ ہی کے سرہے۔

17۔عالمِ انوار سے رسالتِ پیغمبر کے گواہ بننے کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔

18۔اسلام میں مختلف علوم بالخصوص ادبیات کی ایجاد کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔

19۔جنگِ خیبر کے موقع پر” کرّار غیرِ فرّار“ کا لقب آپ ہی کو دیا گیا ہے۔

20۔اسلام کے جملہ مجاہدات میں ایسا امیرِ لشکرجس کا کوئی دُوسرا امیر نہ ہو،آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔

21۔معراج میں پیغمبر اسلام سے آپ ہی کے لہجے میں باتیں ہوئی ہیں۔

22۔ایسی سخاوت جس پر سورہ دہر کا نزول ہوجائے، آپ ہی کا کارنامہ ہے۔

23۔ایسی زکوٰة جس پر آیتِ ولایت نازل ہوجائے، آپ ہی کی زکوٰة ہے۔

24۔سب سے پہلے اظہارِ اسلام اور تصدیقِ پیغمبر کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔

25۔سب سے پہلے سرکار کے ساتھ نماز آپ ہی نے ادا کی ہے۔

26۔اسلام کے سب سے بہتر قاضی اور فیصلہ کرنے والے آپ ہی تھے۔

27۔معرفتِ الٰہی میں سرکارِ دو عالم کے بعد سب سے بالا تر آپ ہی کی ذات تھی۔

جواب دیجئے