تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

سی بک تھارن: تمام بیماریوں کا موثر علاج

پاکستان کی معروف ڈائیٹیشن عائشہ ناصر کے مطابق سی بک تھورن دنیا کا وہ واحد پھل ہے جس میں اومیگا تھری، اومیگا سِکس، اومیگا سیون سمیت انتہائی مفید فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں، اس میں سیکڑوں وٹامنز اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں۔

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار حیاتیاتی انواع اور قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ ان ہی میں ایک ”سی بک تھارن“ نامی ایک خودرو جھاڑی دار پودا بھی ہے۔ یہ پودا بلوچستان، خیبرپختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس میں خشک سالی کی صورت میں بھی نشوونما پانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہ شدید سرد و گرم موسموں اور زیر زمین نمکیات کے مقابلے میں مدافعتی قوت کا حامل ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کے موسمی حالات کی حامل زمین میں بھی بہ آسانی پنپ جاتا ہے۔ ہم اسے ایک طرح کی بیری یا بیر کا پودا بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ اس پودے میں بیر کی طرح کانٹے ہوتے ہیں اور اس کا پھل بھی جنگلی بیری کی طرح کا ہوتا ہے۔

ہمارے ان قصبوں اور دیہاتوں میں جہاں یہ پایا جاتا ہے، اسے نوکیلے کانٹوں کی وجہ سے زیادہ تر دفاعی باڑھ یا پھر بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک اس کا پھل کوئی مقبولیت حاصل نہیں کرسکا تھا اور نہ ہی اس کی افادیت کے بارے میں عوام کو زیادہ علم تھا، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق سی بک تھورن کے بیری نما پھل کے بیج، گودے اور رس میں 190 سے زیادہ غذائی مرکبات موجود ہیں جن میں لاتعداد طبی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بعض ترقی یافتہ ممالک مثلاً چین، روس، یورپ اور شمالی امریکا اس پودے کے غذائی مرکبات کے ذریعے تجارتی فوائد حاصل کررہے ہیں اور یہ تجارت اربوں ڈالر سالانہ پر مشتمل ہے۔ صرف چین میں اس وقت 200 کے قریب کارخانوں میں اس جنگلی بیر کے ذریعے ادویہ، غذا اور بناؤ سنگھار کی اشیا تیار ہورہی ہیں۔

1996 میں اس جنگلی بیر کے چینی ماہر پروفیسر لیورونجن نے گلگت، چترال، اسکردو اور سوات کی وادیوں کا ابتدائی دورہ کرکے اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان میں یہ پودا تقریباً تین ہزار ہیکٹر پر پیدا ہورہا ہے، جس سے سالانہ بارہ سو سے ڈھائی ہزار ٹن تک پھل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر رونجن کا خیال تھا کہ اس پودے کی کاشت اور نشوونما کیلیے پاکستان کے موسمی حالات اور آب و ہوا نہایت موزوں ہیں۔ پروفیسر رونجن کے اس ابتدائی جائزے کی بنیاد پر چند سال قبل حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت برائے غذا و زراعت نے آئی سی موڈ (ICIMOD) نامی ادارے کے تعاون سے، بارانی اراضی پر تحقیق و ترقی کے قومی ادارے (PARC-AZRI) کے ذریعے تجرباتی منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔

کاشت کاروں کو پودے اور اس کے پھل کی افادیت سے روشناس کرانے کے ضمن میں منصوبے کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بعدازاں اسکردو میں کاشت کاروں کی سہولت کی خاطر ایک کارخانہ بھی لگایا گیا جہاں اس بیری کا عرق نکالا جانا مقصود تھا۔ اسکردو میں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کا دفتر بھی موجود ہے، جو اس ضمن میں بہت فعال ہے۔

سی بک تھارن کی مصنوعات میں اس کا خشک پھل سب سے اہم ہے جسے ”بیری“ بھی کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، اسی ”بیری“ سے کشید کیا ہوا تیل، پاؤڈر، جام، ڈائٹ جام، کینڈی، چائے اور اسکن کیئر آئل قابل ذکر ہیں۔ اسے ہر شکل میں کھایا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں اس کی غذائی اور طبی اہمیت تسلیم کی جاچکی ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں اس کا استعمال بہت کم ہے۔

غذائی اہمیت:
غذا کو صرف زبان کا چٹخارہ یا پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھا جائے تو یہ غلط ہوگا۔ حقیقت میں متوازن غذا وہ ہے جس سے جسم کو درکار توانائی ملے۔ متوازن غذا کے حوالے سے دیکھیں تو اس جھاڑی کے پھل، گٹھلی، گودے اور عرق میں 197 سے زیادہ مفید وٹامنز پائے گئے ہیں۔ ان میں وٹامن ’سی‘ اور وٹامن ’ای‘ کے علاوہ مختلف معدنیات اور مفید کیمیائی عناصر بھی شامل ہیں۔ بظاہر معمولی سا نظر آنے والا ایک خودرو پھل صحت و توانائی کیلیے درکار تمام ضروری غذائی اجزا سے بھرپور ہے۔ اگر اس کے اجزا روزمرہ کی غذائی اشیا مثلاً جوس، جیلی، جیم، مارملیڈ، ٹافیوں اور چاکلیٹ وغیرہ میں بھی شامل کرلیے جائیں تو اس سے جسم کو درکار توانائی اور ضروری کیمیائی مادّوں کا بڑا حصہ فراہم ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی معروف ڈائیٹیشن عائشہ ناصر کے مطابق سی بک تھورن دنیا کا وہ واحد پھل ہے جس میں اومیگا تھری، اومیگا سِکس، اومیگا سیون سمیت انتہائی مفید فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں، اس میں سیکڑوں وٹامنز اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سی بک تھورن میں 9 پھلوں سے زیادہ حتیٰ کہ پھل کیوی، نارنجی اور امرود سے کئی گنا زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے، تحقیق کے مطابق اس جڑی بوٹی کے پھل، گٹھلی، گودے اور عرق میں 197 سے زیادہ مفید وٹامنز پائے جاتے ہیں۔

طبی اہمیت:
سائنس دانوں کا کہنا ہے سی بک تھورن کے بیری نما پھل میں کچھ ایسے قدرتی حیاتیاتی اجزا شامل ہیں جو طبی نقطہ نظر سے شریانوں میں خون کی رکاوٹ، امراض قلب، اعصابی کمزوری، ورم، جلدی خارش، بڑھاپے میں کمزوری جیسی عام بیماریوں اور جسمانی تکالیف میں فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ سی بک تھورن کے پھل اور اس کے مختلف اجزا پر تحقیق کا سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن چین، کینیڈا اور بعض یورپی ممالک میں مختلف امراض کے علاج کیلیے اس کا استعمال عام طور پر کیا جارہا ہے۔ خصوصاً چین اور روس میں تو اس سے تیار کردہ طبی ادویہ بہت مقبول ہیں۔

جلدی امراض کا موثر علاج:
بعض جلدی امراض، آگ سے جلنے، حتیٰ کہ تابکاری وغیرہ کے اثرات کے علاج کیلیے بھی اس پودے کے پتوں سے تیل نکال کر مرہم تیار کرکے کامیابی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ 1986 میں روس کے چرنوبل کے مقام پر موجود جوہری توانائی کے مرکز میں ہونے والے حادثے کے بعض متاثرین کا علاج اس تیل اور مرہم سے کامیابی کے ساتھ کیا گیا۔ علاوہ ازیں اس تیل میں بالائے بنفشی شعاعوں (الٹراوائلٹ ریز) کو جذب کرنے کی بھی صلاحیت پائی گئی ہے۔ اسی خاصیت کی بنا پر اس کا استعمال جلد کو دھوپ سے بچانے والی کریم اور لوشن کی تیاری میں بھی کیا جارہا ہے۔

قوت مدافعت:
سی بک تھورن قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے سبب دنیا بھر میں کافی مشہور ہے، مارکیٹ میں کئی برانڈ اس کا پاؤڈر، جام اور اس سے بنا تیل فروخت کر رہے ہیں جس کا استعمال بھی بے حد آسان ہے۔

کینسر کا علاج:
غذائی ماہرین کے مطابق سی بک تھورن میں ہر طرح کے کینسر کا علاج بھی موجود ہے، اسے کسی بھی بیماری سے نجات کے لیے کھایا جا سکتا ہے جبکہ اس کا ستعمال وزن میں کمی کے لیے حیرت انگیز نتائج فراہم کرتا ہے۔

شوگر کا علاج:
سی بک تھورن جڑی بوٹی کا پھل انسانی مجموعی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے جن میں خون میں شوگر کی مقدار میں کمی، بلڈ، کولیسٹرول لیول متوازن، نظام ہاضمہ، آنتوں اور معدے کی بہتر کارکردگی، جگر کی کارکردگی میں اضافہ اور بینائی میں بہتری جیسے حیرت انگیز نتائج سر فہرست ہیں۔

چہرے کی پیلاہٹ:
سی بک تھورن کے استعمال کے نتیجے میں چہرے کی پیلاہٹ دور ہو جاتی ہے کیوں کہ اس میں آئرن بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
اس کے استعمال سے ڈائیٹنگ کے مضر صحت اثرات سے بچا جا سکتا ہے، ڈائیٹنگ کے دوران سی بک تھورن کا استعمال بال، ناخن اور جِلد کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔

اعصابی کمزوری:
اس کے علاوہ سی بک تھورن کا تیل اعصابی کمزوری، ورم، بڑھاپے میں کمزوری جیسی عام بیماریوں اور جسمانی تکالیف میں فائدہ پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

سی بک تھورن کا استعمال کیسے کیا جائے؟
سی بک تھورن کے دو چائے کے چمچ دودھ یا پانی میں ڈال کر پیا جا سکتا ہے، اس کا قہوہ بھی بنا کر پیا جا سکتا ہے۔
ناشتے کے دوران اس کا پاوڈر اپنے دلیے یا ملک شیک میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس کا استعمال دن میں دوبار کیا جا سکتا ہے۔
سی بک تھورن کے ایک سے دو چمچ دن میں مفید ثابت ہوتے ہیں جبکہ اس کا زیادہ استعمال مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔
سی بک تھورن کا مارکیٹ سے ملنے والا مختلف برانڈ کا پاؤڈر چہرے پر پانی میں ملا کر بطور فیس ماسک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی اہمیت:
سی بک تھورن کی جڑیں چونکہ زمین میں خاصی دور تک پھیل جاتی ہیں، اس لیے زمین کی بردگی روکنے کیلیے یہ ایک انتہائی موزوں اور اہم پودا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے ملک کے پہاڑی علاقوں میں جنگلات کے تیزی سے کٹنے کے باعث بارشوں میں پہاڑی ڈھلوانوں کی مٹی کو بہہ جانے سے روکنے کے ضمن میں یہ خودرو جھاڑی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ علاقے جہاں زمین بوسیدگی کا شکار ہے یا زمینی بردگی کا عمل تیز ہے، وہاں اس کی کاشت کو فروغ دے کر نہایت کم قیمت پر ماحولیاتی انحطاط کو روکا جاسکتا ہے۔

زراعت:
سی بک تھورن میں جراثیم یا کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کی قدرتی اہلیت موجود ہے۔ اس لیے جہاں یہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، وہاں فصلوں کو نقصان دہ حشرات الارض اور کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کیلیے مہنگی جراثیم کش اور ماحول اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانے والی کیمیائی ادویہ کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ بات نہ صرف ماحول کو خوشگوار رکھنے کا باعث بنتی ہے بلکہ فصل کو قدرتی انداز میں پنپنے اور کسان کیلیے بہتر منافع حاصل کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button