ادبمکالمہ

شاعری واردات دل ہے‘ڈاکٹر صغرا صدف

ادبی دنیا میں صغرا صدف ایک معتبر نام ہے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ بیک وقت اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ و افسانہ نگار‘ محقق‘ کالم نگار‘ براڈکاسٹر اور ٹی وی کمپیئر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج‘ آرٹ اینڈ کلچر میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ملاقات کے دوران ان سے مختلف حوالوں سے گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کی تفصیل قارئین کی نذر ہے۔
س: جب شعور کی آنکھ کھولی تو شعر و شاعری کی طرف دھیان کیسے چلا گیا؟
ج: انسان ساری عمر شعور اور آگہی کے در پر دستک دیتا رہتا ہے۔ چھٹی کلاس سے میں نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا اور پہلا اظہار شاعری کی صورت میں کیا۔
س: اتنی چھوٹی عمر میں تو بے قاعدہ شاعری ہوتی ہے؟
ج: نہیں بالکل بھی نہیں۔ میرا تعلق تحصیل کھاریاں کے ایک دور دراز گاؤں سے ہے۔ میرے والد صاحب مڈل پاس ہیں اور وہی خاندان میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے فرد ہیں۔ مجھے کبھی شاعری کی کتب پڑھنے یا دیکھنے کو نہیں ملتی تھیں۔ اس وقت جو شاعری میں نے پڑھی وہ اردو کی نصابی کتب سے متاثرہ تھی۔ اس کے علاوہ کوئی مشاعرہ محفل نہیں دیکھی کیونکہ اس وقت ہمارے گھر میں ٹی وی بھی نہیں تھا اس لیے شاعری میرے وجود میں پنہاں تھی۔ شروع کی نظمیں جو میں نے لکھیں ان میں محنت سے آگے بڑھنے اور عزم و ہمت کا پیغام ہے۔
س: شعری اظہار کا آغاز پنجابی میں کیا؟
ج: پہلا اظہار اردو میں کیا۔ پنجابی کی طرف بہت بعد میں آئی۔
س: باقاعدہ شاعرہ کب بنیں؟
ج: گجرات میں بی اے کی طالبہ تھی وہاں ڈاکٹر شاہین مفتی بہت بڑی شاعرہ اور دانشور ہیں وہ اردو پڑھاتی تھیں۔ ان کی سرپرستی میں کالج کے مشاعروں وغیرہ میں حصہ لینا شروع کیا۔ میرا فن نکھرنا شروع ہوا۔ ہوسٹل میں رہتی تھی ہیلے کالج کی لائبریری کی کتب سے خوب استفادہ کیا۔ تمام میں اردو ادب ‘ناول‘ افسانہ اور شاعری پڑھی۔ میں نے ایم اے فلسفہ میں کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔
س: آپ کا تعلق دیہی پس منظر سے تھا جہاں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے؟
ج: مجھے خود یہ سب معجزہ لگتا ہے۔ گاؤں کے لوگ لڑکیوں کی پڑھائی کو بالکل اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ صرف پرائمری تک اجازت تھی۔ پرائمری اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ایک ہی سکول تھا۔ پڑھائی میں میری دلچسپی دیکھ کر میرے والد صاحب نے چھٹی میں قریبی قصبے میں داخل کرادیا۔ روزانہ ہم جماعت سہیلیوں کے ساتھ چھ کلو میٹر سفر پیدل جایا اور آیا کرتی تھی۔ اس طرح میٹرک کیا اور کالج میں داخلہ ہوا۔ والدین نے کبھی اپنی مرضی مسلط نہیں کی اور خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا سکول میں جو مضامین تھے وہ پڑھے کالج آکر شعور پیدا ہوا اور میں نے مرضی سے نفسیات فلسفہ اور اردو ادب پنجابی ادب پڑھے۔ ایم اے کے داخلے کا وقت آیا تو خاندان میں بھونچال آگیا مگر والد صاحب نے کسی کی پرواہ نہ کی اور میری خواہش پر مجھے ایم اے میں داخلہ دلوا دیا۔ میں نے بھی ان کا مان رکھا اور ڈیپارٹمنٹ میں ٹاپ کیا۔ پی ایچ ڈی کے لیے پنجابی صوفی شاعر میاں محمد بخش کی شہرہ آفاق کتاب سفرالعشق(سیف الملوک) پر مقالہ لکھا۔ یونیورسٹی کے دور سے پنجابی ادب کی طرف زیادہ رجوع ہوا اور میں نے پنجابی میں لکھنا شروع کیا۔
س: شاعری اور افسانہ نگاری پلاننگ سے کرتی ہیں؟
ج: شاعری تو مکمل آمد ہے۔ سوچ کر لکھی جائے تو اس میں جذبات کی فراوانی‘ شدت اور تاثیر نظر نہیں آتی فکر رہ جاتی ہے۔ آمد کے ساتھ آورد کا اپنا مقام ہے۔ آورد کانٹ چھانٹ کا نام ہے۔ شاعری کی آمد ہی ہوتی ہے ہر تخلیقی صنف آمد کا حصہ ہوتی ہے لیکن افسانہ ایک بڑا پراجیکٹ ہے۔ اس میں کہانی کا تارپود بنایا جاتا ہے جو کبھی سچی کہانی پر مشتمل ہوتا ہے اور کبھی کسی موضوع کو سامنے رکھ کر بنا جاتا ہے۔
س: آپ کی شاعری ذاتی تجربات کا ردعمل ہے؟
ج: واردات دل ہے۔ دل پر گزرنے والی ہر کیفیت کا اظہار ہے۔ شاعر حساس انسان ہوتا ہے اپنے دکھ سکھ خوشی غم کے ساتھ ساتھ کائنات کے دکھوں پر بھی ملول ہوتا ہے۔ کائنات کا غم اس کا اپنا غم بن جاتا ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شاعر کا دل کائنات کی نبض سے بندھا ہوتا ہے ہر واردات اس کی اپنی واردات بن جاتی ہے۔
س: بنیادی طور پر آپ کیا ہیں‘ شاعرہ یا نثرنگار؟
ج: آج کل میرا دھیان زیادہ تر نثر کی طرف ہے‘ تحقیق اور افسانے وغیرہ۔
س: آپ کی شاعری میں دکھ اورہجر کا رنگ نمایاں ہے؟
ج: بنیادی طور پر کائنات دکھوں کا گھر ہے۔ اس میں تشنگی ذات ہر شخص کا مقدر ہے۔ خدا کی روح سے بچھڑ کر ذات کے پنجرے میں بند ہونا‘ ادھورے پن اور جدائی کا باعث بنتا ہے اسی کا اظہار مختلف انداز میں ہوتا رہتا ہے۔
س: خواتین زیادہ تر رومانوی شاعری کرتی ہیں‘ انقلابی شاعری کیوں نہیں؟
ج: انقلابی بھی ہوتی ہے مگر خواتین کی شاعری میں شدت نظر اس لیے نہیں آتی کہ وہ نعرہ بازی اور دشنام طرازی سے پرہیز کرتی ہیں۔ خود میں نے اپنی نظموں میں بہت سے ایسے موضوعات پر کھل کر لکھا ہے جسے معاشرہ پسند نہیں کرتا۔
س: خواتین تخلیق کار اپنا کردار ادا کررہی ہیں؟
ج: خواتین ظاہر ہے اپنا کام کررہی ہیں مگر بحیثیت قوم ہم اپنے اعمال پر غور کریں تو ایک FAKE قوم کے افراد ہیں۔ زبان پر کچھ دل میں کچھ اور عمل بالکل ہی مختلف‘ تعلیم تربیت عمل جدا جدا۔ کئی سو سال سے آگہی کا سفر ایک منزل پر رکا ہوا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی سمت درست نہیں کرپاتے نہ اپنی زمین سے مخلص ہیں۔ نہ دین سے نہ زمین کی بولی سے محبت ہے نہ دانش کی باتوں سے‘ ڈنگ ٹپاؤ قوم بن گئے ہیں۔
س: خواتین میں مزاح نگار بھی کم تعداد میں ہیں؟
ج: مردوں کی ساری مزاح نگاری عورتوں پر ہوتی ہے۔ تضحیک اور ان کا مذاق اڑانا۔ عورتیں کیا کریں انہیں اجازت کہاں مل سکتی ہے مجازی خدا کی شان میں گستاخی کرنے کی۔ پھر عورتیں زیادہ حساسیت کا شکار ہوتی ہیں۔ اس طرح توجہ بھی کم دی ہے۔ ان کے موضوعات مختلف ہیں وہ تعمیر اور تخلیق کے رستے پر چل کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کا جتن کرتی ہیں یا بے وفائی یا کج روی پر آنسو بہاتی ہیں۔
س: قسمت پر یقین ہے؟
ج: قسمت پر یقین دراصل ایمان کی شان ہے۔ میرا ایمان ہے کہ قدرت رستے پیدا کرتی ہے وسیلے بناتی ہے۔ ہمارے دروں پر دستی دیتی ہے۔ ان وسیلوں رستوں اور دستکوں سے آشنائی رکھنے والے کامیاب ہوجاتے ہیں۔ چھٹی کلاس سے صدف تخلص کیا۔ جب صدف کے معنی معلوم نہیں تھے۔ آٹھویں سے اپنی ڈائری میں پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرنے کی آرزو کا اظہار کیا۔ جب میں پی ایچ ڈی کے حروف کے معنی بھی نہیں جانتی تھی۔ خود بخود ان رستوں پر قدرت نے مجھے دھکیلا جن کا خمیر میری ذات میں پوشیدہ تھا مثلاً فلسفہ‘ ادب وغیرہ۔ میگزین نکالا نام ’’وجدان‘‘ رکھا۔ ہمارے ایک استاد ڈاکٹر خالق احمد کہا کرتے تھے دنیا میں کوئی بات اتفاقاً نہیں ہوتی۔ خدا نے لوگوں کی ذمہ داری لگائی ہوئی ہے کہ وہ مخصوص وقت میں کسی کے کام آئیں۔
س: دھچکا لگے تو کیسے ہینڈل کرتی ہیں؟
ج: زندگی میں دکھ اور کرب کے لمحات کو بہت شدت سے محسوس کیا۔ ذات مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی مگر خود کو سنبھالا اور شاید شاعری نے کتھارسز کا کام کیا ورنہ بکھر چکی ہوتی۔
س: خوبصورتی کیا ہے؟
ج: خوبصورتی کا تعلق ظاہر سے بالکل نہیں۔ یہ باطن کی خوبیوں‘ صلاحیتوں اور ذہن کی مثبت سوچ کا نام ہے اگر یہ نہ ہو تو انسان کا رنگ یا نقش کتنے بھی بھلے ہوں اس میں کشش پیدا نہیں ہوتی۔
س: شعرو ادب کا اظہار پنجابی میں زیادہ اچھا لگتا ہے یا اردو میں؟
ج: دونوں زبانیں بلکہ میں نے کچھ شارٹ سٹوریز انگریزی میں بھی لکھی ہیں اور انہیں لکھتے ہوئے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ وہ موضوعات ہی ایسے تھے کہ انگریزی میں اظہار آسان تھا۔
س: اب تک کتنی کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں؟
ج: دس کتابیں۔ ان میں میں کیوں مانوں ہار‘ جدا ہیں چاہتی اپنی‘ مائے نی میں کنوں آکھاں‘ مورکھ من‘ تیری خوشبو رلاتی ہے‘ وعدہ‘ تحقیق حوالے سے فیض کا عمرانی فلسفہ‘ کائنات کا نظریہ عقل‘ میاں محمد بخش کا فلسفہ عشق شامل ہیں۔
س: آپ کی شاعری میں اداسی‘ ہجر اور بے وفائی کا گلہ شکوہ بہت زیادہ ہے؟
ج: شاعری دراصل ہجر اور تنہائی کے لمحات کی کیفیات کا اظہار ہے۔ جب انسان اپنی ہستی کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے۔
س: بطور ڈائریکٹر کام کرنا کیسا لگا؟
ج: میں نے کبھی خود کو باس نہیں سمجھا۔ کام پر یقین رکھتی ہوں لیکن ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر آتا ہے۔
س: دن رات تقریبات فنکشنز کا اہتمام‘ سخت محنت‘ ایکسٹرا معاوضہ یا صلہ ملا؟
ج: میری نوکری میرا شوق بھی ہے۔ میری کمٹمنٹ بھی ہے۔ اس لیے صبح و شام کام مجھے نہ تھکاتا ہے نہ پریشان کرتا ہے بلکہ اطمینان محسوس کرتی ہوں کہ خدا نے مجھے اپنے لوگوں کی خدمت کا موقع دیا۔ میں اضافی ترقی پر یقین نہیں رکھتی اس سے تو ساری جدوجہد کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے میں اپنے وقت پر ترقی کی خواہاں ہوں۔
س: جو کچھ آج ہیں کیا اس کا خواب دیکھا تھا؟
ج: خواب تو کبھی نہیں دیکھے لیکن یقین ضرور تھا کہ ٹاٹ سے شروع ہونے والا سفر کبھی رکے گا نہیں۔ ابھی بہت آگے جانا چاہتی ہوں‘ رتبے کے حوالے سے نہیں خدمت کے حوالے سے۔
س: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر کا دائرہ کار کیا ہے؟
ج: پنجابی زبان‘ آرٹ اور کلچر کی ترویج کے لیے فرائض سرانجام دے رہا ہے نیا ادارہ ہے اب معاملات کو صحیح ڈگر پر چل رہے ہیں۔ پہلا کام پبلی کیشن‘ تحقیق‘ صوفی شاعروں کا کلام وغیرہ چھاپتے ہیں۔ آج کل ادارہ پنجابی کے صوفی شاعروں کے کلام کو ترجمے کے ساتھ چھاپنے کا اہتمام کررہا ہے۔ تین صوفی شاعروں بابا فرید‘ شاہ حسین اور سلطان باہو پر کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ بلھے شاہ‘ خواجہ فرید‘ میاں محمد بخش پر کام پراسس میں ہے۔ ایک میگزین ترنجن چھاپا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیمینارز‘ صوفیانہ کلام کی محفلیں‘ کلاسیکی موسیقی‘ مصوری کی نمائش وغیرہ کا انعقاد کرتے ہیں۔ پنجابی کمپلیکس کے کیفے ٹیریا کو ادبی بیٹھک اور پاک ٹی ہاؤس کی طرز پر ادیبوں شاعروں اور فنکاروں کے لیے وقف کرنے کے لیے ہم نے وزارت اطلاعات حکومت پنجاب سے درخواست کی اور دو سال قبل اس کا افتتاح ہوا آج کل یہ ایک معروف مرکز ہے۔

Back to top button