منتخب کالم

شاپنگ بیگ پر پابندی، مگر کیسے؟…… چوہدری فرخ شہزاد

سماجی مفکرین کا اتفاق ہے کہ کوئی ریاست جتنی لاقانون ہوتی ہے عملاً وہاں اتنی ہی زیادہ قانون سازی کی جاتی ہے مگر آئین سٹائن نے کہا کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اورطاقتور اُسے پھاڑ کر نکل جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں شادی بیاہ پر ون ڈش کا قانون اور جہیز ایکٹ جیسے قوانین بنائے جا چکے ہیں۔ پہلی صدی عیسوی کے سکالر Tacitus کا مشہر قول ہے کہ:
.”The more corrupt is a state the more numerous are the laws”
خبر یہ ہے کہ سندھ اور اسلام آباد میں پلاسٹک شاپنگ بیگ یا پولی تھین بیگ کی تیاری خریدوفروخت اور استعمال پر پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان متوقع ہے۔ پولی تھین بیگ جسے چین میں وائٹ پولیوشن یا سفید آلودگی کہا جاتا ہے ملک میں نکاسیئ آب نظام یا ڈرینج سسٹم میں رکاوٹ مختلف بیماریوں کے علاوہ سمندری حیات اور Echo System میں تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال کھانے کی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات شامل ہونے کی بنا پر ہر شہری بنک اے ٹی ایم کارڈ کے مساوی پلاسٹک نگل لیتا ہے جو اس کے اندر جا کر کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ پولی تھین بیگ ایک one time use بیگ ہے جسے اشیائے صرف دوکان سے گھر لانے کے لئے صرف 10 منٹ کیلئے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے مگر اس کی Dissolution یا زمین میں مل کر مٹی ہو جانے کا عمل 20 سے لے کر 100 سال درکار ہوتے ہیں۔ یہ گویا ایک غیرممکن عمل ہے اس لئے ماہرین نے اس کو non recyclable waste کا نام دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پولی تھین کی ایجاد 1933ء میں برطانوی کیمیکل پلانٹ میں حادثاتی طور پر ہوئی اور برطانوی فوج نے دوسری جنگ عظیم میں پولی تھین کو خفیہ طور پر استعمال کیا۔ اس کا تجارتی استعمال تقریباً اس کے 25 سال بعد شروع ہوا۔ دنیا بھر میں پولی تھین پٹرول صاف کرنے کے دوران ایک By Product کے طور پر حاصل ہوتی ہے جسے پٹرول کا کچرا یا waste کہا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا 128واں ملک ہے جس نے پولی تھین پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ والے پریشان ہیں کہ پلاسٹک شاپنگ بیگ کا استعمال جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اگلے 10 سال میں اس کی مقدار موجودہ استعمال کے مقابلے میں تین گنا بڑھ جائے گی۔ یاد رہے کہ 128 ممالک کی فہرست میں بنگلہ دیش 2002ء میں دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے پولی تھین پر پابندی کا قانون پاس کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ تھی کہ نکاسیئ آب کا سسٹم پولی تھین کی وجہ سے سیلاب کا پانی نکالنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا۔
اقوام متحدہ کو شاید یہ علم نہیں کہ پاکستان اس سے پہلے بھی شاپنگ بیگ پر پابندی لگا چکے ہیں۔ 1994ء میں سندھ 1995ء میں پنجاب اور 2001ء میں بلوچستان نے شاپنگ بیگ کے استعمال پر پابندی کے قانون بنائے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔2013ء میں اسلام آباد میں یہی پابندیاں پھر لگا دی گئیں یہ وہ سال تھا جب میاں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے مگر ان کے برسراقتدار آنے کے بعد قانون عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ منسٹری آف Climate Change کے اعدادوشمار کے مطابق 1991ء میں 12 ملین پلاسٹک بیگ تیار ہوئے تھے جو 2007ء تک 55 بلین ہو چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار خطرے کی گھنٹی ہیں۔
حکومت نے پولی تھین کی سالانہ امپورٹ کم کرنے کے لئے اور زرمبادلہ بچانے کے لئے یہ اقدام اٹھا تو لیا ہے مگر انہیں احساس ہوا کہ پولی تھین کے متبادل ذرائع کی امپورٹ کا خرچہ پہلے سے زیادہ ہو جائے گا اس لئے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر اس کا حل کیا ہے۔ اس طرح کی پابندی لگانے سے پہلے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضروری تھی تاکہ اس کا کوئی متبادل حل تلاش کیا جا سکے۔ لاہور میں شاپنگ بیگ مینو فیکچرز نے احتجاجی جلوس نکالے ہیں اور اس بلین ڈالر انڈسٹری کے بند ہونے کے سوشل نتائج سے حکومت کو خبردار کیا گیا ہے۔ مگر کسی کے پاس اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔
اس کا ایک آسان اور مفت حل ہمارے پاس موجود ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کسی کی توجہ اس طرف نہیں جا رہی یہ صرف مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی بات ہے جس پر ایک پیسہ بھی لاگت نہیں آئے گی۔ آج سے 40، 50 سال پیچھے جائیں تو ہمارے باپ دادا جب گھر سے سودا لینے منڈی جاتے تھے وہ کپڑے کا بنا ہوا ایک تھیلا ساتھ لے کر جاتے تھے۔ وہ بازار سے دودھ اور دہی لینے جاتے تو برتن گھر سے لے کر جاتے اور اگر تنور پر روٹی لینے جاتے تو کپڑے کا ایک رومال جسے پنجابی میں ”پونا“ کہا جاتا ہے وہ ساتھ لے جاتے تھے اس لئے ان کو شاپنگ بیگ کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر زمانہ ماڈرن ہوتا چلا گیا اورتھیلے کی جگہ Disposable پلاسٹک بیگ نے لے لی۔ تھیلا گھر سے لے کر جانا پینڈو عادت قرار پایا اور آہستہ آہستہ گھروں سے یہ تھیلا غائب ہو گیا۔ اس دور میں ہر سائیکل کے ہینڈل کے ساتھ تھیلا ایک سٹینڈ بائی آئٹم کے طور پر لازمی ہوتا تھا۔ بیماریاں کم تھیں، کینسر کا نام و نشان نہ تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں وہی تھیلا دوبارہ استعمال میں لانا ہو گا۔ یہ انسانیت اور ماحولیات کی بقاء کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی کپڑے کا تھیلا استعمال کرنے میں خود کو احساس کمتری سے نجات دلائیں تو پولی تھین سے چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے۔ پولیتھین کی جگہ کاغذ کا تھیلا اس لئے ناقابل عمل ہے کہ وہ ایک تو زیادہ مہنگا ہے دوسرا اتنا مضبوط نہیں ہے۔
یہاں پہ اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہو گا کہ 1994ء میں ڈنمارک نے پولی تھین کے استعمال پر ٹیکس لگا دیا جس سے اس کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ اس بارے میں آئر لینڈ دنیا میں ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے شاپنگ بل میں پلاسٹک بیگ کی اضافی قیمت متعارف کروائی کہ سودا اگر شاپنگ بیگ میں ڈالنا ہے تو بیگ کے پیسے الگ ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس سے آئرلینڈ میں پولی تھین بیگ کے استعمال میں 90 فیصد کمی آ گئی۔ پاکستان میں چونکہ اس بیگ کی قیمت غیراعلانیہ طور پربل میں شامل کر دی جاتی ہے لہٰذا کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہاں اس طرح کی قانون سازی ہونی چاہئے کہ شاپنگ بیگ کے بغیر سودا لینے والے یعنی تھیلا گھر سے ساتھ لے کر جانے والے کو بل میں ڈسکاؤنٹ کا قانون بننا چاہئے۔ اس سے پولی تھین بیگ میں کمی آئے گی۔
جب تک پولی تھین کے بارے میں سماجی رویہ تبدیل نہیں ہو گا ساری پابندی اور قانون سازی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ کوئی بھی معاشرہ پولی تھین بیگ ترک کرنے کے لئے پولیس استعمال نہیں کر سکتا ہمیں صرف اپنا ذہن بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کو بتدریج تباہی سے بچایا جا سکے۔ old habits die hard پرانی عادتیں چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ پولی تھین ہمارے روزمرہ استعمال میں ایسے ہی ہے جیسے نشئی کے لئے چرس کی پڑی۔ مگر اب اس پُڑی سے نجات ناگزیر ہے اور نجات کا راستہ قانون کی کتابوں اور عدالتوں کی راہداریوں سے نہیں بلکہ ہماری سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے لئے اپنی آنے والی نسل کے لئے اور معاشرتی بقاء کے لئے ہمیں پولی تھین کا نشہ ترک کرنا ہو گا۔

Leave a Reply

Back to top button