سپیشل

شاہ، سسی اور عشق

شاہ جو رسالو“ سندھ کے جغرافیائی ، ادبی ، تہذیبی ، ثقافتی اور تحقیقی تاریخ کا ماخذ ہے۔ شاہ لطیف نے اپنے رسالے میں انسانی زندگی کے مختلف اور اچھوتے پہلوﺅں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

انور بھٹی
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا شمار دنیا کے ان ممتاز تاریخ نویس شاعروں اور صوفیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کلام اور پیغام میں اپنے ارد گرد کے علاقوں کے رواج، قصوں اور کہانیوں کو موضوع بنایا۔” شاہ جو رسالو“ سندھ کے جغرافیائی ، ادبی ، تہذیبی ، ثقافتی اور تحقیقی تاریخ کا ماخذ ہے۔ شاہ لطیف نے اپنے رسالے میں انسانی زندگی کے مختلف اور اچھوتے پہلوﺅں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔” شاہ جو رسالو“ میں شاہ سائیں نے عوامی داستانوں کو سُر میں تقسیم کیا ہے ۔ اور انسانی زندگی کا بھرپور عکس پیش کیا ہے ۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیام و کلام یعنی ”شاہ جو رسالو“کا سندھی تہذیب و ثقافت سے وہی رشتہ ہے جو روح کا جسم سے ہوتا ہے اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں اخذ کیا جا سکتا کہ شاہ کا کلام صرف سندھی معاشرت کے لئے مخصوص ہے بلکہ ان کا کلام عالمی ہے۔ شاہ لطیف نے تمام مسلکوں کا جائزہ لیا ویدانتی فلسفہ حیات سے تعلق رکھنے والی جوگ ، یوگ اور بھگتی کی تحریکوں کے تحت جو سادھو، سنیاسی اور جوگی سندھ میں تیاگ کی زندگی بسر کرتے ہوئے جنگلوں، صحراﺅں اور کوہساروں میں رواں دواں رہتے ہیں، شاہ صاحب نے نہایت گہرائی سے ان سب کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سرزمینِ سندھ کے عوامی و عمومی مشاہدات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا، نہ صرف انہوں نے ظاہری آنکھوں سے جائزہ لیا بلکہ اپنے دل کی آنکھ بھی کھلی رکھی۔ شاہ لطیف پوری انسانیت کے ہمدرد تھے۔ انہوں نے اپنا پیغام کسی ایک خطے، علاقے یا طبقے کے لئے مخصوص نہیں کیا بلکہ پوری دنیا کے لئے، پوری انسانیت کے لئے اپنی محبت کا پیغام عام کیا ہے۔

شاہ سائیں نے عشق کی چوٹ کھانے اور لاحاصل کو حاصل نہ کر سکنے کی بے تابی اور بے بسی میں تین سال تک جو سفر کیا وہ سفر ان کے دکھ کا سفر تھا۔ ان کی شاعری کا سفر اور زندگی کی سچائیوں کو پانے کا سفر تھا۔ اپنے عشق کے دکھ کے حوالے سے ان کے دکھوں کو اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ محسوس کیا اور انہی داستانوں کو اپنی شاعری کے لئے خام مواد کے طور پر استعمال کیا۔ عشق انسان کو لذتِ غم سے آشنا کرتا ہے، دنیا جہاں سے بلکہ اپنے آپ سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ شاہ سائیں نے محبت کی کہانیوں کے ذریعے اپنا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا۔ شاہ صاحب نے ان قصوں اور کہانیوں کا سہارا لیا جو معروف بھی تھیںاور مقبول بھی۔ محبت بھری ان کہانیوں کو لوگوں کی پسندیدگی بھی حاصل تھی۔ وہ پوری کہانی یہاں بیان نہیں کرتے تھے ۔ جب کہانی اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں انہیں اپنی بات کہنے کے لئے موثر ترین نقطہ ملتا ہے تو وہ کہانی چھوڑ کر اپنا پیغام دے دیتے ہیں۔ بات صرف بات کے ذریعے اتنی موثر نہیں ہوتی بلکہ اگر اس کے پیچھے پورا ماحول اور جیتا جاگتا کردار ہو تو دل میں اتر جاتی ہے ۔

شاہ لطیف نے معاشرے میں عورت کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے معاشرے اور سماج کو بتایا کہ عورتوں کے اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسانوں کے برابر حقوق ہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے میں عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عورتوں کو برابر کا نہ شہری سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا حق دیا جاتا ہے ۔ شاہ لطیف نے صدیوں پہلے عورت کی عصمت، آرزﺅں، امنگوں اور آزادی کے لئے آواز بلند کی تھی۔ عورتوں کی عظمت کے گن گائے تھے۔ ماروی، مومل، سوہنی ، نوری ، لیلیٰ ، سورٹھ اور سسی جیسے تاریخ کے کرداروں کو ایک نئے رخ سے عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان کو شاہ کی سورمیاں بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بہادری و جرات سے اس زمانے میں عورتوں کے بلند حوصلوں کی تعریف کی، ان کرداروں کا نہایت تفصیلی ذکر ”شاہ جو رسالو“ میں کیا۔ ان سب میں سب سے زیادہ پسندیدہ کہانی مجھے سسی پنہوں کی لگتی ہے۔ شاہ لطیف کے نزدیک عورت ظلم کے لئے نہیں بنی۔ ستم رسیدہ ہونے کے باوجود وفا کی پتلی ہے۔ اس کی وفاداری اور محبت پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

سسی کو شاہ لطیف نے وفا کی علامت اور محبت کے میدان میں مشکلات سے لڑتے ہوئے ثابت قدم دکھایا ہے۔ یہ عشق کا جذبہ ہے جو سسی کو ویرانوں میں خاک چھاننے پر مجبور کردیتا ہے۔ شاہ صاحب نے سسی پر پورے پانچ سُر کہے ہیں ۔ سسی آبری کے ابوب گیارہ ہیں۔ سسی برہمن خاندان کی بیٹی تھی ۔ سسی کی پیدائش پر نجومیوں نے حساب کتاب لگانے کے بعد پیش گوئی کی تھی کہ اس لڑکی کا جیون ساتھی مسلمان خاندان سے ہوگا۔ یہ سنتے ہی برہمن، جوکہ ہندوﺅں میں اونچی ذات مانی جاتی ہے،کہ ان کی لڑکی مسلما ن سے شادی کرے گی، انہوں نے لڑکی کی تقدیر بدلنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ اپنی لخت جگر کو صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کردیا۔ وہ صندوق تیرتے تیرتے بھنبھور شہر کے نزدیک ایک گھاٹ پر رُک گیا۔ بھنبھور میں ایک دھوبی جس کا نام محمد تھا، وہ گھاٹ پر کپڑے دھو رہا تھا۔ محمد بھنبھور کا مشہور اور امیر دھوبی تھا لیکن اس کی زندگی میں خوشحالی کے باوجود خوشیاں نہیں تھیں۔ وہ ہر وقت غمگین رہتا تھا۔ اُسے زندگی کے تمام عیش و آرام میسر تھے لیکن اولاد جیسی نعمت سے محروم تھا۔ جب محمد جسے سب( لالہ)کہتے تھے، اپنے ملازموں کے ساتھ گھاٹ پر موجود تھا تو ملازمین میں سے کسی ایک کی نظر تیرتے ہوئے صندوق پر پڑی تو اُس نے صندوق نکالا۔ دیکھا تو صندوق میں پیاری سی ننھی پری سو رہی تھی۔ لالہ فوراً اسے اپنے گھر لے آیا اور اپنی بیوی کو دے دیا۔ چونکہ بچی بے حد خوبصورت تھی لہٰذا اس کا نام سسی رکھا گیا جس کے معنی ہیں ”چاند“۔ دونوں میاں بیوی نے اسے بڑی محبت اور شفقت سے پالا۔ لالہ اپنی بیٹی سے بے تحاشہ محبت کرتا تھا۔ لہٰذا اُس نے صرف سسی کے لئے ایک خوبصورت حویلی بنوائی جہاں ہر طرف سبزا ، یریالی اور چاروں طرف باغات تھے۔ سسی اپنی سہیلوں اور کنیزوں کے ہمراہ پورا دن وہاں گزارتی تھی۔

بھنبھور شہر تاجروں کے قافلے کی گزر گاہ تھا۔ اس زمانے میں کیچ مکران سے سودا گر ٹھٹھہ اور دوسرے مقامات کی طرف جاتے تھے۔ ان قافلوں میں مکران کے حاکم آری جام کا بیٹا پنہوں بھی وہاں سے گزرا تو اُس نے سسی کے حسن کا چرچا سنا۔ پنہوں سسی کو دیکھنے کے لئے بیوپاری کے بھیس میں بھنبھور شہر میں داخل ہوگیا۔ اس نے مشک وعنبر کی فروخت شروع کردی۔ خوشبوﺅں سے سارا شہر مہکنے لگا۔ جب اپنی سہیلیوں کے ہمراہ سسی کا یہاں سے گزر ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو دونوں نے پسند یدگی کا جذبہ محسوس کیا۔ دلوں میں چھپی ہوئی ازلی محبت پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش ہوگئی۔

بجھایا اس نے جتنا تشنگی کو
تمناﺅں نے اتنا ہی بڑھایا
سسی کو اشتیاقِ دلربا نے
مٹا کر بھی نہ جانے کیا بنایا
اور شاہ لطیف کہتے ہیں:
جھلک ہی دیکھ کر اس دلربا کی
سوا پہلے سے بھی وارفتگی ہے
بجھائے گا اسے کیا بحرِ ہستی
محبت کی انوکھی تشنگی ہے

پنہوں نے سسی کو دیکھ کر اپنے وطن واپس جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ پنہوں نے سسی سے شادی کے لئے ہر کوشش کی ۔ دھوبی بن گیا۔ حالانکہ وہ حاکم کا بیٹا تھا ۔ کپڑے دھونا نہیں جانتا تھا لیکن سسی کے عشق میں، اُسے حاصل کرنے کی لگن میں اُس نے ہر مشکل کام کو بخوشی کیا۔
محبت برتراز بیم ورجاہے
محبت آپ اپنا مدعا ہے

پنہوں نے سسی کے والد کا دل جیت لیا تو اُس نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پنہوں کے ہاتھ میں دے دیا۔ سسی اور پنہوں خوشی خوشی رہنے لگے لیکن جب حاکم آری جام کو اپنے بیٹے کی یاد ستانے لگی تو اُس نے اپنے بیٹوں کو پنہوں کو واپس لانے کے لئے بھیجا۔ تو پنہوں نے واپس جانے سے انکار کردیا اور بتایا کہ اُس نے شادی کر لی ہے۔ پنہوں کا جواب حاکم آری جام کے لئے ایک بڑا صدمہ تھا۔ وہ بیمار رہنے لگے باپ کی یہ حالت دیکھ کر تینوں بیٹوں چزو، ہوتی اور نوتی نے پنہوں کو واپس لانے کا فیصلہ کیا۔ سسی نے اپنے دیوروں کی ادب اور احترام میں خوب مہمان نوازی کی۔ ایک رات چاروں بھائی اوطاق میں مل کر بیٹھے تھے تو سسی اپنے کمرے میں سو گئی اور اُس کے بھائی پنہوں کو بے ہوشی کی حالت میں کیچ مکران لے کر روانہ ہوگئے۔ سسی نے جب آنکھ کھولی تو پنہوں کو غائب پا کر رونا شروع کر دیا۔ وہ پنہوں کو ڈھونڈنے صحرا میں نکل کھڑی ہوئی۔
سسی کو چاہیے پنہوں کی خاطر
سہے افتاد ہائے ناگہانی
بھرم قائم ہے جن کی تشنگی کا
انہیں توڈھونڈنے آئے گا پانی

سسی نے بھوک پیاس برداشت کی، جب اس کی ساری توانائی ختم ہوگی تو وہ ایک جگہ بے ہوش ہوگئی۔ قدرت کی طرف سے اُس پر رحم دلی کی گئی اور صاف پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ اُس نے چشمے سے پانی پیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد پھر چل پڑی۔

شاہ لطیف کی یہ خوبی ہے کہ وہ کسی بھی حصے یا کہانی یا کسی بھی کردار کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے علم اور عرفان کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ شاہ صاحب نے رہتی دنیا تک سسی کے کردار کو عشق میں ثابت قدمی کی مثال بنا دیا۔ سسی نے ویرانوں، بیابانوں اور صحرا میں بے پناہ تکالیف اور مصائب جھیلے لیکن پنہوں سے اپنی غفلت پر اپنے آپ کو مجرم ٹھہرایا اور تمام تکالیف برداشت کیں۔
بنا کر عاجزی کو اپنا رہبر
سسی ! کوہ بیاباں سے گزرنا
اسے بھولے سے بھی ظاہر نہ کرنا
شعورِ آبلہ پائی مبارک
شعارِ کوہ پیمائی مبارک
بڑی مستقل سے ملتی ہے یہ دولت
رموزِ عاشقی سب سے چھپانا
غمِ محبوب کے سوزِ دروں سے
جہاں تک ہو سکے دل کو بچانا

دھوبی کے گھر میں پرورش پانے والی سسی حاکم آری جام کے لئے حقیر اور نیچی ذات سمجھی جاتی تھی، اس لئے کیچ کے حکمران نے اس کے محبوب شوہر کو اُس سے جدا کر دیا تھا۔ اسی طرح کے تعصب اور ذات پات کی تقسیم نے ہمارے معاشرے میں ناسور پیدا کر دیا ہے جو آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے جس کے سبب کئی خاندان تباہ ہو چکے ہیں۔ اس ناسور کو ختم کیا جانا چاہیے۔ تمام انسان برابر ہیں ۔ذات پات کی تقسیم اور تعصب کو پروان چڑھانا کسی بھی طور عقلمندی نہیں گردانی جاتی۔ سر سسی میں شاہ لطیف نے سسی کے جذبات و احساسات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے دکھ ، درد اور نہ ختم ہونے والے سفر کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ ہر جزو اور جذبے کے باریک بینی سے ذکر نے اس لوک داستان کو لازوال بنا دیا ہے ۔

شاہ سائیں نے سسی کے بدولت یہ پیغام دیا ہے کہ دراصل کسی بھی شے کو حاصل کرنے کی سچی لگن کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ مشکلات اور رکاوٹیں کبھی بھی عاشق کو اس کی اصل منزل سے گمراہ نہیں کر سکتیں۔ جن کی لگن سچی ہو اور حوصلے بلند ہوں وہ کسی بھی حالت میں اپنی منزلِ مقصود کو پا لے لیتے ہیں۔ شاہ لطیف سسی کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں جب وہ پنہوں کی تلاش میں صحرا کی خاک چھان رہی تھی۔
ترجمہ:
ہاڑھو یہاں سلسلے کی طرف جاتے ہوئے مجھے کالے کوسوں کا سفر کرنا پڑا، آری جام کے بغیر میں نے چٹانوں میں سفر کے دکھ اٹھائے، لطیف کہتا ہے، مجھے کہساروں کی دشوار گزار راہوںسے گزرنا پڑا، کچھ بھی ہو ہوت پنہوں کے پیچھے چلنا میری سعادت ہے ، میںنے اپنے سارے کام اس کے حوالے کردیئے ہیں۔
بیٹھ جانا میرے بس میں نہیں
مزید کہتے ہیں:
ترجمہ:
یہاں یہ دشوار گزار پہاڑ ی طویل سفر اور ہر سو ویرانی۔ یہاں دانا اپنی دانائی بھول جاتے ہیں اور حریف حیران رہ جاتے ہیں، لیکن لطیف کہتا ہے کہ سسی نے محبت سے یہ دشت پا رکیا، پانی جس کا رہبر ہو اسے کوئی خوف و خطر نہیں۔

شاہ لطیف نے سسی کے بلند حوصلوں اور ہمت کو سراہا ہے۔ سسی نے پنہوں کے لئے ہر عیش و آرام کو ترک کر دیا۔ لوگوں نے بہت سمجھایا کہ جانے والے پیچھے مڑکر نہیں دیکھتے لیکن سسی نے ہار نہ مانی اور اپنے خوبصورت باغات اور محل چھوڑ کر جنگلوں ، بیابانوں اور دشوار گزار پہاڑوں کو سرکیا۔ یہ ہمت اور حوصلہ صرف محبت کے حصول کی خاطر تھا۔ محبت کا حاصل ایسا جذبہ ہے کہ انسان ہر چیز اس کے لئے تیاگ دیتا ہے ۔ یہ محبت اسے طاقت دیتی ہے اور کانٹوں بھری سیج بھی اُن کے لئے کوئی معنی اور حیثیت نہیں رکھتی۔
ترجمہ:
سسی نے وہ وہ پہاڑ سر کیے جنہوں نے مردوں کو مات دی ۔ بڑے سے بڑا پہاڑ بھی عشق والوں کے لئے آسان اور ہموار راستہ ہے ۔
یہ پہاڑ جو آڑے آرہے ہیں، بے حقیقت ہیں،
ایسے لاکھوں پہاڑ ، میں اپنی محبت کی قوت سے پارکر لوں گی
شاہ لطیف نے محبت جیسے نازک جذبے کی طاقت کا بڑی خوبصورتی سے اپنے کلام میں استعمال کیا ہے ۔ یہ عشق کی طاقت ہے، محبت کی تلاش ہے، ہجر کے دکھ ہیں جن کی وجہ سے سسی جو کہ صنفِ نازک ہے، ثابت قدم ہے اور کسی بھی طور پر اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ شاہ لطیف نے سسی کے صحرائی سفر کی اذیتوں اور تکالیف کو بیان کیا ہے۔ اس کے اٹل فیصلے کو سراہا ہے ۔ شاہ صاحب کہتے ہیں
ترجمہ:
قدم مت روک، سورج ڈوبنے والا ہے ، ہمت کر اور چلتی رہ
سورج ابھی ڈوبا نہیں ، فاصلوں کا حساب نہ کر،
تم شفق کی لالی کے نمودار ہونے تک اپنے محبوب کے قافلے سے جا ملوگی۔
جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو ہر طرف اندھیرا پھیلنے لگتا ہے اور سائے بننے لگتے ہیں جو کہ اطراف کو اور خوفناک بنا دیتے ہیں ۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ دشت و بیاباں میں سسی اکیلی نہیں ہے، اُس کے ساتھ پنہوں کے ہجر کا غم بھی ہے۔ یہ غم اور تکالیف ہی اسے حوصلہ دیئے ہوئے ہیں۔ اصل میں اس کا محبوب اس کے اپنے اندر موجود ہے ۔
ترجمہ:
میں جب اپنے آپ میں ڈوب کر خود سے ہم کلام ہوئی ،
تو نہ دشت و جبل سامنے رہے ، نہ کیچ والوں سے غرض رہی ،
میں خود ہی پنہوں ہوگئی ، جب تک سسی تھی تو دکھ ہی دکھ تھے
ترجمہ:
جو موت سے پہلے مرے، وہ موت سے نہیں ہارے
وہی زندہ رہتے ہیں جو جینے سے پہلے جیتے ہیں

حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا پورا کلام نصیحت اور عبرت کا سر چشمہ ہے جہاں شاہ سائیں کا کلام سُن کر اور پڑھ کر روح کو عجب لطف اور راحت ملتی ہے وہاں دل اور دماغ میں سوچ کے نئے زاویے اور دروازے کھلتے ہیں ۔ شاہ صاحب کے کلام میں نا امیدی اور مایوسی کو اچھا نہیں سمجھا گیا، ہر حالت میں اللہ سے اور اس کی رحمت سے اُمید لگائے رکھو، وہ غفور و رحیم ہے ۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انسان کو قربانیوں کی شاہراہ سے گزرنا پڑتا ہے اور اس میں سب سے بڑی قربانی اپنی جان کی قربانی ہوتی ہے ۔ اور سسی نے اپنی جان خاک کی نظر کر دی اور لوک داستانوں میں رہتی دنیا تک اپنا نام روشن کرگئی اور اب لوگ سسی کو ہمت و حوصلہ کی پیکرکہتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button