سپورٹس

شاہینوں کا دورہ آسٹریلیا، مصباح الحق، بابر اعظم اور اظہرعلی کیلئے بڑا چیلنج…… مدثرنذرقریشی

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں دورہ آسٹریلیا پر ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے گی۔ ٹی ٹونٹی سیریز کا پہلا آج میچ سڈنی میں کھیلا جائے گا، دوسرا ٹی ٹونٹی 5نومبر کو کینبرا جبکہ سیریز کا تیسرا وآخری ٹی ٹونٹی 8نومبر کو پرتھ میں کھیلا جائے گا۔ ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد قومی شاہینوں اور کینگروز کے درمیان 2ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی جس کا پہلا میچ 21نومبر کو برسبین اور دوسرا 29نومبر کو ایڈیلیڈ میں (ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ) کھیلا جائے گا۔
قومی کرکٹ ٹیم کی بات کریں تو یہ ہیڈکوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق کے ساتھ ساتھ ٹی ٹونٹی کپتان بابراعظم اور ٹیسٹ کپتان اظہرعلی کے لیے بھی بہت اہم ہو گا۔ مصباح الحق کا بحیثیت ہیڈکوچ جبکہ بابراعظم اور اظہرعلی کی قیادت میں پہلی بار دورہ آسٹریلیا ہو گا۔ واضح رہے کہ سرفراز احمد کو حال ہی میں سری لنکن ٹیم کے ہاتھوں لاہور میں ہونے والی ٹی ٹونٹی سیریز میں شکست کے بعد نہ صرف ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ کی کپتانی واپس لی گئی بلکہ ٹیم سے بھی نکال باہر کیا گیا لہٰذا اب دونوں کپتانوں بابراعظم اور اظہرعلی کو ہرحال میں سیریز جیتناہوگی ورنہ وہ بھی اپنی خیر منائیں، ویسے بھی اظہرعلی کو پہلے بھی بنگلہ دیش سے ون ڈے سیریز میں کلین سویپ شکست کے علاوہ دیگر ٹیموں سے پے درپے شکستوں کے باعث ٹیم سے باہر کیا گیا تھا لیکن اب انہیں دورہ آسٹریلیا کے لیے دوبارہ موقع فراہم کیا گیا ہے۔ سرفراز احمد کو انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر کرنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ان کی کارکردگی اور اعتماد دونوں متاثر ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ سرفراز احمد نے 2010ء میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا لیکن 2014ء میں ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی ہوئی اور وہ اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ میں عمدہ کارکردگی کے سبب کپتان مصباح الحق کے لیے ایک قابل اعتماد ساتھی بن گئے۔
اگر دونوں ٹیموں کے سکواڈ کا جائزہ لیں تو وہ یہ ہے۔ ٹی ٹونٹی سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں بابراعظم (کپتان)، آصف علی، فخر زمان، حارث سہیل، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عامر، محمد حسنین، محمد عرفان، محمد رضوان، موسیٰ خان، شاداب خان اور عثمان قادر شامل ہیں جبکہ ٹیسٹ سکواڈ میں اظہر علی (کپتان)، عابد علی، اسد شفیق، بابر اعظم، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان، افتخار احمد، کاشف بھٹی، محمد عباس، محمد رضوان، محمد موسیٰ خان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔
دوسری طرف بابراعظم کی بطورکپتان یہ پہلی سیریز ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ بہتر کپتان ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنی شاندار بلے بازی کو بھی جاری رکھ پاتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی بلے باز کپتان بنتا ہے تو اس کی بلے بازی پر نمایاں فرق پڑتا ہے اور کبھی بار ٹیم میٹس (ساتھی کھلاڑی) بھی ٹھیک طرح سے تعاون نہیں کرتے اور گروپ بندی کی وجہ سے شکست کی صورت میں ٹیم کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، لیکن اب قومی ٹیم شکست بالخصوص ٹیسٹ سیریز میں تو بالکل بھی شکست کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
ویسے بھی آسٹریلیا کے خلاف ہمارا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں رہا اور اس دورہ کی سب سے اہم بات یہ ہو گی کہ ٹیم میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑی ہیں۔ چیف سلیکٹر وہیڈ کوچ مصباح الحق نے دورہ آسٹریلیا کیلئے ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی ٹیم کیلئے نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا اور پہلی مرتبہ محمد موسیٰ، عثمان قادر، خوشدل شاہ، کاشف بھٹی اور نسیم شاہ کو ٹیم کا حصہ بنایا۔ اس حوالے سے حیران کن انتخاب مرحوم لیجنڈ لیگ سپنر عبدالقادر کے صاحبزادے عثمان قادر کا ہے جنہیں مصباح الحق کے مطابق ”آسٹریلیا میں کھیلنے کے تجربے“ کے باعث ٹی ٹونٹی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
اسی طرح لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے نسیم شاہ کی عمر محض 16 برس ہے جبکہ رواں برس اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے پاکستان سپرلیگ میں کھیلنے والے فاسٹ بولر محمد موسیٰ کی عمر 19برس ہے۔ دونوں فاسٹ بولرز کو ان کی تیزرفتاری کے باعث ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔
27سالہ محمد رضوان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ وہ اب تک ایک ٹیسٹ، 32 ون ڈے اور 13 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں تاہم سرفراز احمد کی موجودگی میں انھیں زیادہ مواقع نہیں مل سکا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں سال آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں سرفراز احمد سمیت چند کرکٹرز کو آرام کروایا تو محمد رضوان نے ملنے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شارجہ اور دبئی کے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سنچریاں بناڈالیں۔ خیال رہے کہ محمد رضوان مصباح الحق کی قیادت میں سوئی ناردرن گیس کی ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ اس کے علاوہ محمد رضوان حالیہ قائداعظم ٹرافی میں دو سنچریاں بھی بنا چکے ہیں جبکہ فیصل آباد میں ہونے والے ٹی ٹونٹی کپ میں 31 ناٹ آؤٹ، 45، 70 اور 52 کی عمدہ اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے ہیں۔
دائیں ہاتھ سے تیز بولنگ کرنے والے عمران خان نے 9ٹیسٹ میچوں میں 28 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں لیکن انہوں نے آخری ٹیسٹ جنوری2017ء میں آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں کھیلا تھا۔
اسی طرح 19 سالہ محمد موسیٰ کا تعلق کوہستان سے ہے جنہوں نے اپنا کلب کرکٹ راولپنڈی میں کھیلا ہے۔ گذشتہ سال انہوں نے نیوزی لینڈ میں منعقدہ انڈر19ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 5میچوں میں 7وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں بھارت کیخلاف 67 رنز کے عوض 4وکٹوں کی عمدہ کارکردگی شامل تھی۔ محمد موسیٰ نے گذشتہ سال ہی فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کی تھی۔ اس سال پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے انہوں نے 7میچز کھیلے اور 8وکٹیں حاصل کیں۔
نسیم شاہ انڈر 19 کے فاسٹ بولر ہیں جن کا تجربہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں برائے نام ہے جبکہ کاشف بھٹی نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے سلو لیفٹ آرم سپنر ہیں جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں 300 سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ خوشدل شاہ کا تعلق بنوں سے ہے اور وہ بائیں ہاتھ کے مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف کامیابی کے لیے ہیڈکوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق سمیت تمام بڑوں کو کھلاڑیوں کو گائیڈ کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ کنڈیشنز کا صحیح اندازہ لگاکر کھیل سکیں تاکہ قومی ٹیم نہ صرف ٹی ٹونٹی میں پہلے نمبر پر برقرار رہ سکے بلکہ ٹیسٹ رینکنگ میں اپنے پوائنٹس میں بہتری لاسکے، واضح رہے کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی یہ پہلی ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کا زیادہ تر انحصار سینئر بلے بازوں اظہرعلی (کپتان)، اسدشفیق، بابراعظم، شان مسعود کے علاوہ بولنگ میں یاسرشاہ، محمدعباس، شاہین آفریدی، آل راؤنڈر حارث سہیل پر ہوگا۔

Leave a Reply

Back to top button