مختصر تحریریں

شبِ ہجراں کمال میں گزری

”محبت میں ہجر نہ ہو تو ٹرپ کا احساس کہاں ہوتا ہے۔ جو محبت کی ٹرپ سہہ نہ سکے اُسے عاشق کہلانے کا حق بھی نہیں ہے۔ راہِ محبت اتنی سہل نہیں ہے کہ ہر کوئی اس شاہراہ پر کامیابی کے ساتھ چلنے لگے۔ بڑے بڑے حوصلہ مند لڑکھڑا جاتے ہیں، اس لئے کہ محبت میں انتظار کا بہت دخل ہے۔ وصل کا لطف اپنی جگہ مگر ہجر کی ٹرپ بھی تو محبت ہی کا حصہ ہے۔ ہجر کی ٹرپ سے حدتِ محبت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ملن کی آس میں ہجر کے کرب سے گزرنا بھی نصابِ محبت ہے۔

حرم اور جازم میں ایسے فیصلے پیدا ہو گئے تھے جن کے متعلق دونوں نے سوچا نہ تھا۔ حرم کو مولوی امیر اللہ نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر گھر سے نکلنے سے منع کر دیا تھا۔ حرم کو اصل صورت حال سمجھ آگئی تھی مگر وہ فطری حجاب کو برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ بیٹی اور باپ اس موضوع پر آنے سامنے آجاتے یہ حرم کی حیا کو گوارہ نہ تھا۔

حالات نے ایک ایسی دیوار حرم اور جازم کے درمیان چُن دی تھی جس کو مسمار کرنا فی الحال ناممکن نظر آتا تھا۔ وہ رات بھر کروٹیں بدلتی رہی تھی۔ اس کے لبوں پر ہر وقت ایک ہی دُعا تھی کہ جازم اس کی تقدیر کا حصہ بن جائے۔ رات بھر جاگ جاگ کر آنکھوں میں سوجن اور سرخی پیدا ہو گئی تھی۔ حرم نے پلنگ کے سامنے لگے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا تو زہرخند انداز میں مسکرا کر بولی:

خواب میں کچھ خیال میں گزری
شبِ ہجراں کمال میں گزری“

وحید عزیز کے ناول ”محبت مر نہیں سکتی“ سے اقتباس

Leave a Reply

Back to top button